عظمیٰ نیوز سروس
راجوری//راجوری کے رکن قانون ساز اسمبلی افتخار احمد نے منگل کو دور افتادہ گاؤں نڈیالہ میں قائم پرائمری ہیلتھ سینٹر (پی ایچ سی) کا اچانک دورہ کرکے وہاں دستیاب طبی سہولیات کا جائزہ لیا۔ دورے کے دوران انہوں نے صحت مرکز میں بنیادی سہولیات کی کمی، ناکافی انفراسٹرکچر اور محدود جگہ کے باعث عوام کو درپیش مشکلات پر سخت برہمی کا اظہار کیا اور متعلقہ حکام کو فوری اصلاحی اقدامات کی ہدایت دی۔پی ایچ سی نڈیالہ ہزاروں افراد کو طبی خدمات فراہم کرتا ہے، جن میں نڈیالہ کے علاوہ بگلہ، رچھوا اور دیگر ملحقہ دیہات کے رہائشی بھی شامل ہیں۔ معائنے کے دوران ایم ایل اے نے پایا کہ صحت مرکز میں بنیادی طبی سہولیات بھی ناکافی انفراسٹرکچر اور جگہ کی قلت کے باعث متاثر ہو رہی ہیں، جس سے مریضوں کو شدید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
دورے کے دوران یہ بھی انکشاف ہوا کہ اسپتال احاطے میں کمیونٹی سینیٹری کمپلیکس (سی ایس سی) کی تعمیر کے لیے پہلے ہی فنڈز منظور کیے جا چکے ہیں، تاہم متعلقہ محکمہ کی جانب سے ابھی تک اس منصوبے پر کوئی عملی کام شروع نہیں کیا گیا۔اس تاخیر پر ناراضی ظاہر کرتے ہوئے افتخار احمد نے بلاک ڈیولپمنٹ آفیسر (بی ڈی او) دونگی کو ہدایت دی کہ سینیٹری کمپلیکس کی تعمیر کا کام آئندہ دو دن کے اندر ہر صورت شروع کیا جائے اور اسے تین ہفتوں کے اندر مکمل کیا جائے تاکہ مریضوں اور تیمارداروں کو بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔انہوں نے کہا کہ دیہی علاقوں میں صحت کی بہتر سہولیات کی فراہمی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے اور اس سلسلے میں کسی بھی قسم کی غفلت یا تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔طویل مدتی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایم ایل اے نے بلاک میڈیکل آفیسر (بی ایم او) کو فوری طور پر اضافی اسپتال کمپلیکس کی تعمیر کے لیے تفصیلی پروجیکٹ رپورٹ (ڈی پی آر) تیار کرنے کی بھی ہدایت دی۔ انہوں نے یقین دلایا کہ اس منصوبے کو متعلقہ حکام کے سامنے مؤثر انداز میں اٹھایا جائے گا تاکہ نڈیالہ کے اس اہم دیہی صحت مرکز کو جدید اور بہتر طبی سہولیات سے آراستہ کیا جا سکے اور مقامی آبادی کو معیاری علاج کی سہولت اپنے علاقے میں ہی میسر آ سکے۔