محمد بشارت
کوٹرنکہ //تقریباً دو لاکھ آبادی پر مشتمل سب ڈویژن کوٹرنکہ کے کمیونٹی ہیلتھ سنٹر کنڈی کی ابتر حالت نے ایک بار پھر محکمہ صحت کے دعوؤں پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ ایک سال سے ہسپتال میں نصب الٹراساؤنڈ مشین ریڈیالوجسٹ نہ ہونے کی وجہ سے بے کار پڑی ہے، جس کے باعث مریضوں، بالخصوص حاملہ خواتین، کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔مقامی افراد کے مطابق حکومت ایک طرف دیہی علاقوں میں بہتر طبی سہولیات فراہم کرنے کے بڑے بڑے دعوے کر رہی ہے، جبکہ دوسری طرف کوٹرنکہ کا یہ اہم صحت مرکز بنیادی تشخیصی سہولت سے بھی محروم ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ الٹراساؤنڈ جیسی بنیادی سہولت نہ ہونے کے باعث روزانہ درجنوں مریضوں کو 40 کلومیٹر دور گورنمنٹ میڈیکل کالج (جی ایم سی) راجوری یا نجی کلینکوں کا رخ کرنا پڑتا ہے، جہاں غریب خاندانوں پر اضافی مالی بوجھ پڑتا ہے۔چیف میڈیکل آفیسر راجوری نے حال ہی میں کمیونٹی ہیلتھ سنٹر کنڈی کا دورہ کیا، جس کے بعد وہ بلاک خواص بھی پہنچے۔ اس موقع پر مقامی لوگوں نے انہیں بتایا کہ ہسپتال میں گزشتہ ایک سال سے الٹراساؤنڈ مشین بند پڑی ہے کیونکہ یہاں کوئی ریڈیالوجسٹ تعینات نہیں ہے۔عوام کے مطابق سی ایم او نے یقین دہانی کرائی کہ ایک ڈاکٹر ہر ہفتے ہفتہ کے روز یہاں آ کر خدمات انجام دے گا تاکہ الٹراساؤنڈ کی سہولت بحال ہو سکے تاہم مقامی لوگوں کا دعویٰ ہے کہ بعد ازاں بلاک میڈیکل آفیسر نے بتایا کہ متعلقہ ڈاکٹر یہاں خدمات انجام دینے پر آمادہ نہیں ہے۔
مقامی شہریوں نے کہا کہ اب تک اس حوالے سے کوئی تحریری حکم نامہ جاری نہیں کیا گیا اور صرف زبانی یقین دہانیاں دی جا رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ عوام کو بار بار وعدوں سے مطمئن کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، لیکن زمینی سطح پر کوئی عملی اقدام دکھائی نہیں دیتا۔شہریوں کے مطابق سب سے زیادہ مشکلات حاملہ خواتین کو پیش آ رہی ہیں، جنہیں معمول کے طبی معائنے اور تشخیص کے لیے راجوری یا نجی اسپتالوں کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ الٹراساؤنڈ نہ صرف حمل کے دوران ضروری معائنے کے لیے اہم ہے بلکہ جسم کے اندرونی امراض کی بروقت تشخیص میں بھی کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔مقامی عوام نے بدھل کے رکن اسمبلی جاوید اقبال چوہدری سے اپیل کی ہے کہ وہ اس اہم عوامی مسئلے میں فوری مداخلت کریں اور کمیونٹی ہیلتھ سنٹر کنڈی میں مستقل ریڈیالوجسٹ کی تعیناتی کو یقینی بنائیں تاکہ بند پڑی الٹراساؤنڈ مشین دوبارہ فعال ہو سکے۔لوگوں کا کہنا ہے کہ کوٹرنکہ ایک پسماندہ اور پہاڑی علاقہ ہے جہاں بڑی تعداد میں غریب اور مزدور طبقہ آباد ہے۔ ایسے میں نجی اسپتالوں میں مہنگا علاج کرانا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ انہوں نے حکومت اور محکمہ صحت سے مطالبہ کیا کہ عوام کی مشکلات اور علاقے کی پسماندگی کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری طور پر ریڈیالوجسٹ تعینات کیا جائے، الٹراساؤنڈ سروس بحال کی جائے اور کمیونٹی ہیلتھ سنٹر کنڈی کو بنیادی طبی سہولیات سے مکمل طور پر آراستہ کیا جائے تاکہ مقامی آبادی کو بروقت اور معیاری علاج اپنے ہی علاقے میں میسر آ سکے۔