سیدرضوان گیلانی
شوپیان// جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیان کا ایک سرکاری پرائمری اسکول، جو کبھی کم داخلوں، زمین کی عدم دستیابی اور بنیادی سہولیات کے فقدان کے باعث بند ہونے کے دہانے پر تھا، آج اساتذہ کی انتھک محنت، عوامی تعاون اور مؤثر قیادت کی بدولت ایک مثالی تعلیمی ادارہ بن چکا ہے۔ایک انٹرویو میں گورنمنٹ پرائمری اسکول پیرپورہ شوپیان کے ہیڈ ٹیچر نذیر احمد نے کہا کہ 2016 سے اسکول میں آنے والی تبدیلی اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر استاد میں جذبہ اور عزم ہو تو وہ مشکل ترین حالات پر بھی قابو پا سکتا ہے۔انہوں نے کہا، ’’اگر ایک استاد بچوں اور اپنی برادری کے لیے کام کرنے کا عزم رکھتا ہو تو اسے کوئی نہیں روک سکتا۔ بہانے بنانے کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔‘‘نذیر احمد تقریباً دس برس قبل اس اسکول میں تعینات ہوئے تھے، اس وقت اسکول میں صرف چند طلبہ زیر تعلیم تھے، اپنی مستقل زمین موجود نہیں تھی اور بنیادی سہولیات بھی نہ ہونے کے برابر تھیں۔انہوں نے بتایا کہ خراب حالات کے باعث حکومت اس ادارے کو بند کرنے پر بھی غور کر رہی تھی۔انہوں نے کہا کہ انہوں نے اس صورتحال کو ایک چیلنج کے طور پر قبول کیا، پہلے تدریسی عملے کو متحرک کیا، پھر مقامی آبادی، گاؤں کے نمائندوں اور محکمہ دیہی ترقی کے تعاون سے اسکول کے لیے زمین حاصل کی۔انہوں نے کہا،’’جس زمین پر آج اسکول قائم ہے، وہ پہلے گاؤں والوں کی جانب سے کچرا پھینکنے کی جگہ تھی۔ ہم سب نے مل کر اسے صاف کیا، پھول اور درخت لگائے اور رفتہ رفتہ اسے ایک سرسبز و شاداب تعلیمی کیمپس میں تبدیل کر دیا۔‘‘اس تبدیلی نے بعد میں محکمہ تعلیم اور ضلعی انتظامیہ کی توجہ حاصل کی، جس کے نتیجے میں اسکول کے لیے دو منزلہ کشادہ عمارت تعمیر کی گئی۔نذیر احمد کے مطابق اسکول کی ترقی میں سب سے اہم کردار خود اساتذہ نے ادا کیا۔انہوں نے بتایا کہ سرکاری امداد ملنے سے پہلے تدریسی عملے نے اپنی ذاتی رقم جمع کر کے ڈیجیٹل تعلیم کے لیے ایک ٹیلی ویڑن خریدا، جبکہ بعد میں مختلف سرکاری اسکیموں کے تحت اسمارٹ بورڈز فراہم کیے گئے۔انہوں نے کہا،’’ہم نے پہلے اپنی وابستگی کا عملی ثبوت دیا۔ جب محکموں نے ہماری محنت دیکھی تو وہ بھی تعاون کے لیے آگے آئے۔‘‘بعد ازاں پنچایتی راج اداروں نے اسمارٹ کلاس روم کے لیے مالی معاونت فراہم کی جبکہ محکمہ تعلیم نے ایک اور اسمارٹ بورڈ مہیا کیا۔ غیر سرکاری تنظیم جے کے پیس اینڈ جسٹس نے اسکول کو کمپیوٹرز اور کھیلوں کا سامان عطیہ کیا۔ہیڈ ٹیچر نے اسکول کی کامیابی کا سہرا پورے تدریسی عملے کو دیتے ہوئے کہا کہ تمام اساتذہ روزانہ اسکول کے اوقات شروع ہونے سے کافی پہلے پہنچ جاتے ہیں تاکہ طلبہ کی آمد سے قبل کلاس رومز، بجلی، پینے کے پانی اور صفائی ستھرائی کے تمام انتظامات مکمل ہوں۔انہوں نے کہا،’’ہماری ذمہ داری اسکول کھلنے کے وقت سے شروع نہیں ہوتی۔ ہم ہر روز پہلے آتے ہیں کیونکہ ہم اس ادارے کو اپنا ہی اسکول سمجھتے ہیں۔‘‘آج اسکول کا کیمپس خوبصورت سبزہ زاروں، پھولوں کے باغات، کچن گارڈن، پھلدار درختوں، رنگا رنگ کلاس رومز اور سرگرمیوں پر مبنی تدریسی ماحول سے آراستہ ہے، جو بچوں کو معروف نجی اسکولوں جیسا ماحول فراہم کرتا ہے۔نذیر احمد نے بتایا کہ کچن گارڈن طلبہ کے لیے ایک عملی تجربہ گاہ بھی ہے، جہاں بچے صرف کتابوں میں پڑھنے کے بجائے خود سبزیاں اور پودے اْگا کر ان کے بارے میں سیکھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اسکول والدین کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہتا ہے اور واٹس ایپ گروپس کے ذریعے طلبہ کی سرگرمیوں، تصاویر اور دیگر معلومات باقاعدگی سے شیئر کی جاتی ہیں تاکہ والدین کی شمولیت مزید مضبوط ہو۔ان کے مطابق اسکول پر عوام کا اعتماد اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ سرکاری اسکولوں میں پڑھانے والے کئی اساتذہ نے بھی اپنے بچوں کو اسی اسکول میں داخل کرایا ہے۔انہوں نے کہا، ’’میری اپنی بیٹی نے بھی پانچویں جماعت تک اسی اسکول میں تعلیم حاصل کی۔ اگر مجھے اپنے ہی اسکول پر اعتماد نہ ہو تو میں دوسروں سے کیسے توقع کر سکتا ہوں کہ وہ اس پر اعتماد کریں؟‘‘نذیر احمد کے مطابق اس وقت بھی متعدد اساتذہ اور ان کے رشتہ داروں کے بچے اسی اسکول میں زیر تعلیم ہیں، جو اس ادارے پر عملے کے اعتماد کا واضح ثبوت ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ علاقے میں نجی اسکول قائم کرنے کی کئی کوششیں ناکام ہو چکی ہیں کیونکہ والدین گورنمنٹ پرائمری اسکول پیرپورہ میں دستیاب معیاری تعلیم اور سہولیات سے مطمئن ہیں۔انہوں نے کہا، ’’جب لوگ اسکول کا کیمپس، بنیادی ڈھانچہ اور یہاں ہونے والا کام دیکھتے ہیں تو انہیں احساس ہوتا ہے کہ اس ادارے کا مقابلہ کرنا آسان نہیں۔‘‘اسکول کے سفر پر روشنی ڈالتے ہوئے نذیر احمد نے کہا کہ سرکاری تعاون اس وقت ملا جب اساتذہ نے کئی برس تک بغیر کسی اضافی سہولت کے رضاکارانہ طور پر ادارے کی بہتری کے لیے کام جاری رکھا۔انہوں نے کہا، ’’جب انسان میں کچھ کر گزرنے کا حقیقی جذبہ ہو تو مدد خود بخود ملنے لگتی ہے۔ ہم نے اس اسکول کو اپنا گھر سمجھ کر بچوں کی خاطر کام کیا اور کسی بیرونی مدد کا انتظار نہیں کیا۔‘‘آخر میں انہوں نے جموں و کشمیر کے تمام اساتذہ پر زور دیا کہ وہ اپنے اسکولوں کو اپنا ادارہ سمجھ کر کام کریں، کیونکہ اخلاص، ٹیم ورک اور لگن کے ذریعے انتہائی پسماندہ تعلیمی اداروں کو بھی بہترین مراکزِ تعلیم میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔