اختر معراج
بارش کی ہلکی بوندیں شہر کی سڑکوں کو خاموشی سے بھگو رہی تھیں۔ ایک پرانی چائے کی دکان کے کونے میں بیٹھا احسن سامنے رکھی خالی کرسی کو مسلسل دیکھ رہا تھا۔ یہ وہی کرسی تھی جہاں کبھی اس کا سب سے قریبی دوست، ریحان، گھنٹوں بیٹھ کر خواب بُنا کرتا تھا۔ دونوں کی دوستی بچپن سے تھی۔ لوگ انہیں دو جسم اور ایک جان کہتے تھے۔ ایک کے چہرے کی اداسی دوسرا لفظوں کے بغیر پڑھ لیتا تھا۔
وقت گزرتا گیا۔ تعلیم مکمل ہوئی، ذمہ داریاں بڑھتی گئیں، مگر دوستی کا رشتہ پہلے جیسا ہی مضبوط رہا۔ جب احسن کے والد کا انتقال ہوا تو وہ اندر سے ٹوٹ گیا تھا۔ اس وقت پورا شہر صرف تعزیت کے چند لفظ کہہ کر چلا گیا، لیکن ریحان کئی راتیں اس کے ساتھ جاگتا رہا۔ اس نے کہا تھا، “دوست صرف خوشیوں میں ساتھ دینے والا نہیں ہوتا، بلکہ وہ ہوتا ہے جو تمہارے دکھ کو اپنا دکھ سمجھ لے۔”
چند برس بعد ریحان کو دوسرے شہر میں ملازمت مل گئی۔ رخصت ہوتے وقت دونوں نے ایک دوسرے سے وعدہ کیا کہ فاصلے کبھی ان کے دلوں کے درمیان نہیں آئیں گے۔ شروع میں فون آتے رہے، پیغامات بھی، مگر پھر زندگی کی مصروفیات نے خاموشی کی ایک دیوار کھڑی کر دی۔ نہ کسی نے شکوہ کیا نہ کسی نے شکایت، لیکن دونوں ایک دوسرے کو یاد ضرور کرتے رہے۔
ایک دن احسن کو اچانک معلوم ہوا کہ ریحان شدید بیمار ہے۔ وہ سب کچھ چھوڑ کر فوراً اس کے پاس پہنچا۔ اسپتال کے کمرے میں داخل ہوا تو ریحان کے چہرے پر کمزوری ضرور تھی، مگر مسکراہٹ اب بھی ویسی ہی تھی۔ اس نے دھیرے سے کہا، “مجھے معلوم تھا، تم ضرور آؤ گے۔”
احسن کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ اس نے ریحان کا ہاتھ مضبوطی سے تھام لیا۔ دونوں خاموش تھے، مگر اس خاموشی میں برسوں کی محبت، یادیں اور بے شمار ان کہی باتیں موجود تھیں۔ ریحان نے آہستہ سے کہا، “اگر کبھی میں نہ رہوں تو میری کمی کو تنہائی نہ بننے دینا، میری دوستی کو اپنی طاقت بنانا۔”
چند دن بعد ریحان اس دنیا سے رخصت ہو گیا۔ احسن کے لئے جیسے وقت رک گیا۔ وہ اکثر اُسی پرانی چائے کی دکان پر جا بیٹھتا، جہاں ہر چیز میں اسے اپنے دوست کی ہنسی سنائی دیتی۔ اسے احساس ہوا کہ کچھ لوگ جسم سے چلے جاتے ہیں، مگر ان کی محبت انسان کے دل میں ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔
کئی سال بعد احسن نے ایک یتیم بچے کی تعلیم کی ذمہ داری اٹھا لی۔ کسی نے وجہ پوچھی تو وہ مسکرا کر بولا، “میرا ایک دوست تھا، وہ ہمیشہ کہتا تھا کہ انسان کی اصل پہچان اس کے اچھے اعمال ہوتے ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ اس کی دوستی صرف یاد نہ رہے، بلکہ کسی کی زندگی میں روشنی بھی بنے۔”
اس دن احسن نے آسمان کی طرف دیکھا۔ بادلوں کے درمیان سے سورج کی ایک کرن زمین پر اتر رہی تھی۔ اسے یوں محسوس ہوا جیسے کہیں دور ریحان مسکرا کر کہہ رہا ہو، “دوستی ختم نہیں ہوتی، وہ صرف شکل بدل لیتی ہے۔”
اسے اس روز سمجھ آیا کہ سچے دوست کبھی بچھڑتے نہیں، وہ یادوں، دعاؤں اور اچھے اعمال کی صورت میں ہمیشہ انسان کے ساتھ رہتے ہیں۔
���
سرینگر، کشمیر
موبائل نمبر؛7780819606