خلوص پیار کا پیکر تلاش کرتے ہیں
ہم اپنے واسطے رہبر تلاش کرتے ہیں
تم اپنے حسن کی رعنائیوں میں کھو جاؤ
ہم اپنے عشق کا محور تلاش کرتے ہیں
خزاں رسیدہ بہاروں کی بات رہنے دو
چمن میں ہم تو گل تر تلاش کرتے ہیں
ہمارے عزم کو کوئی بدل نہیں سکتا
ہم ان کو اب بھی برابر تلاش کرتے ہیں
جو تشنگی کا سبب جان گئے ہیں مدنیؔ
بجھانے پیاس سمندر تلاش کرتے ہیں
ملک محمد مدنی اشراقی
ناگور شریف ،راجستھان
تجھے ڈھونڈتا ہوں میں دربدر مجھے آ نظر مرے ہمسفر
مری صبحیں اب نہیں معتبر مجھے آ نظر مرے ہمسفر
یہ جگہ نہیں مرے چین کی یہ دوا نہیں مرے زخم کی
مجھے پوچھتے ہیں یہ برگ و بر مجھے آ نظر مرے ہمسفر
میں طلب میں غم کی اداس ہوں میں تو تشنگی کو بھی راس ہوں
مجھے دے نشاں کوئی زخم پر مجھے آ نظر مرے ہمسفر
وہ جو فصل میری کپاس تھی وہ جو زندگی مرے پاس تھی
وہی سب گیا ہوں میں چھوڑ کر مجھے آ نظر مرے ہمسفر
مجھے ساقیاؔ نہیں یاد اب ہوئے منجمد مرے کیوں یہ لب
میں ترس گیا تجھے کس قدر مجھے آ نظر مرے ہمسفر
ساقی اعجاز
موبائل نمبر؛6005500468
اس زندگی کے ساتھ یہ مشکل کھڑی رہی
میں کاروان بن کے بھی تنہا کھڑی رہی
بچپن سے میری فکر میں آزادیاں رہیں
حالانکہ میرے پیروں میں بیڑی پڑی رہی
قدموں تلے بہشت ہے ماں کا لقب ہوں میں
دنیا میں مشکلات بھی میری کڑی رہی
چھوڑا نہ میرے رب نے یوں تنہا کبھی مجھے
اشکوں کی میری آنکھوں سے جاری لڑی رہی
آئی قضا نہ تار نفس ٹوٹے جب تلک
ہر سانس میری جیسے کہ ضد پر اڑی رہی
یکساں رہے نظر میں بیاباں ہو یا چمن
شبنم کے دم سے صحرا میں موتی جڑیرہی
شاہینہ خاتون شبنم
موبائل نمبر؛9415598293
مِرے دل کے فسانوں میں جھلکتا صرف اب غم ہے
مِرے اِن گہرے زخموں کا نہ ملتا کوئی مرہم ہے
بظاہر مسکراتی ہوں زمانے کے لئے لیکن
مِری تنہائی سے پوچھو کہ دامن کیوں تر و نَم ہے
مِرے دکھ درد کو سمجھے کوئی ایسا نہیں پایا
یہاں کہنے کو سب اپنے نہ کوئی دل کا مَحرم ہے
بکھر کر رہ گئے معصوم میرے دل کے سب ارماں
مِری اُجڑی ہوئی دنیا میں ہر سو اک ماتم ہے
لکھا ہے خونِ دل سے مَیں نے اپنے صبر کا قصہ
مِری تقدیر لکھنے میں بھلا کیوں رُکا قلم ہے
اے کاتبِ تقدیر اب نظرِ کرم فرما مجھ پر
ذرا دیکھو زمانے کا مِرے حق میں کیسا ستم ہے
صائمہؔ مت چھوڑ امیدوں کا دامن اب کبھی بھی تُو
ابھی باقی دعا بھی ہے ابھی رب کا کرم ہے
صائمہؔ مقبول
جموں و کشمیر
(اردو زباں کے معروف اور
صاحب طرز شاعر بشیر بدرؔ کی نذر)
شب کی تاریخی میں تُو ایک اُجالی رات ہے
ہر لفظ تیری غزل کا ایک اچھوتی بات ہے
تو امائوس کے بغیر بھی خوب سے ہے خوب تر
تیری ہر شب میں روشن تاروں کی بارات ہے
جھگمگائے تو نے لفظوں کے دئیے بدر وحنین
تیرے ہر ایک کام سے روشن یہ ظلمات ہے
راز افشاں کرنا سکا کوئی حیات رازداں
ساز سرور ہے زندگی میں تو ہی اثبات ہے
ہے سکوت ہر سو طاری تیرے بچھڑ جانے کے بعد
جیسے مردہ ہوچکی حسرت کی شش صبات ہے
تو ہی ہر دم مردہ دلوں کا مسیحا بن کر جیا
تیری ہر اک آشتی میں دم زندگی حیات ہے
تیرے رنگ و بو سے مہکا رہا یہ فصلِ شعر
تیرے ہی انفاس سے یہ جگت پر بھات ہے
ڈاکٹر محمد حسرت حسین، حسرت کاشمیری
منی گام کولگام، کشمیر
موبائل نمبر؛9596015315
اک عمارت ہے اور اک دیا
خوابِ فردا کا اک سلسلہ
یہ دیا صبح کا آئینہ
یہ عمارت ہے اک آسرا
اینٹ پتھر میں بستی وفا
یہ عمارت نہیں، معجزہ
اک دیا بانٹتا ہے ضیاء
تیرگی میں بنا رہنما
ہر طرف نور ہی نور ہے
علم کا دے رہا ہے پتا
خواب آنکھوں میں روشن ہوئے
ہر قدم پر ملا حوصلہ
جہل کے سارے بادل چھٹے
نُور کا جب ہوا سامنا
فکر کو مل گئے بال و پر
ہر قدم پر نیا مرحلہ
علم کی شمع جلتی رہے
اور قائم رہے یہ ضیاء
فیض اس کا رہے گا رواں
دل سے لب پر سجی ہے دعا
رُخسانہ پروین
باغات، برزلہ، سرینگر