عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر//شعبہ اردو کشمیر یونیورسٹی نے کل مین کیمپس میں وزیر برائے صحت و طبی تعلیم، سماجی بہبود اور تعلیم سکینہ اِیتو کی تصنیف کردہ کتاب ’دْرِّ نایاب‘ کی رسم رونمائی اَنجام دِی۔ تقریب میں نامور ماہرینِ تعلیم، ادبی شخصیات، طلبأ، سکالروں اور قلم کاروں نے شرکت کی۔اس کتاب کو سراہا گیا جو معروف سیاسی رہنما مرحوم ولی محمد اِیتو کی زِندگی، عوامی خدمات اور دیرپا ورثے کو اُجاگر کرتی ہے۔وائس چانسلر کشمیر یونیورسٹی پروفیسر نیلو فر خان نے کتاب کی رسم اِجرائی تقریب کی صدارت کی جبکہ سکینہ اِیتو نے بطور مہمانِ خصوصی اور کتاب کی مصنفہ شرکت کی۔سکینہ اِیتو نے ’دْرِّ نایاب‘ کو شاید سماج کے لئے اپنی سب سے بامعنی خدمت قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ سوانح کئی برسوں کی محنت، تحقیق، غور و فکر اور جذباتی وابستگی کا نتیجہ ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ اگر کبھی عوامی زندگی سے ہٹ کر ان سے ان کی سب سے بڑی خدمت کے بارے میں پوچھا جائے تو وہ اس کتاب کا حوالہ دیں گی کیوں کہ یہ ایک ایسے رہنما کی اقدار، جدوجہد اور عوامی خدمت کے عزم کو محفوظ کرتی ہے جس کی زندگی لوگوں کی خدمت کے لئے وقف تھی۔اُنہوں نے کہا کہ مرحوم ولی محمد ایتو نے تعلیمی مواقع کو وسعت دینے، طبی سہولیات بہتر بنانے اور خطے میں جامع ترقی کو فروغ دینے کے لئے انتھک محنت کی۔وزیر موصوفہ نے مطالعہ کے کم ہوتے رُجحان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ کتابیں پڑھنے کی عادت کو دوبارہ اَپنائیں بالخصوص ایسی سوانح حیات جو بے لوث رہنماؤں کی زندگی اور خدمات کو محفوظ کرتی ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ نوجوان ایسی کتابوں سے حوصلہ، قربانی، عوامی خدمت اور اخلاقی قیادت کے قیمتی اسباق حاصل کر سکتے ہیں۔ وائس چانسلر کشمیر یونیورسٹی پروفیسر نیلو فر خان نے اپنے صدارتی خطاب میں کہاکہ کتاب پڑھتے ہوئے انہیں احساس ہوا کہ مصنفہ کی شخصیت بھی اپنے مرحوم والد کے نظریات اور اقدار سے گہری طرح متاثر ہوئی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ کتاب میں عاجزی، لگن اور ہمدردی جیسی خصوصیات کو خوبصورتی سے پیش کیا گیا ہے جو مرحوم ولی محمد ایتو کی زندگی کا حصہ تھیں اور انہیں یقین ہے کہ یہ کتاب نوجوانوں کو دیانتداری، بے لوث قیادت اور سماجی خدمت کی ترغیب دے گی۔اِس موقعہ پر خطاب کرتے ہوئے ڈین اکیڈمک افیئرز پروفیسر شرف الدین پیرزادہ، رجسٹرار پروفیسر نصیر اقبال اور ڈین سکول آف آرٹس، لنگویجز اینڈ لٹریچر پروفیسر اعجازمحمد شیخ نے کتاب پر اَپنے خیالات کا اظہار کیا اور مصنفہ کی کاوشوں کو سراہا۔اِس سے قبل شعبہ اردو کے سربراہ پروفیسر عرفان احمد ملک نے خطبہ اِستقبالیہ پیش کیا اور مہمانوں، معزز شخصیات اور شرکأکا خیر مقدم کیا۔