ڈاکٹر عبدالمجید بھدرواہی
’’بیٹے خالد میری صحت دن بدن گرتی جا رہی ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ اپنے پوتے عثمان کی شادی دیکھ کر ہی اس دنیا سے کوچ کروں۔اَبا۔ یہ صبح صبح کیا کہہ رہے ہیں۔ اللہ آپ کو لمبی عمر دے۔ ابھی ماشاء اللہ آپ کی صحت آپ کے ساتھیوں کے مقابلے میں بہت اچھی ہے۔ آپ یہ خیال اپنے دماغ میں ہرگز نہ لائیں کیونکہ ناامیدی کفر میں شامل ہے۔ آپ ہی نے ہمیں بتایا ہے۔ نہیں بیٹا۔ میری بات مانو کسی اچھے خاندان کی لڑکی ڈھونڈ نکالو اور جلدی سے شادی کرلو۔ زندگی کا کوئی بھی بھروسہ نہیں ہے۔‘‘
”ابا۔ لڑکی ڈھونڈنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ آج کل زمانہ بہت مغربیت کی طرف چلا گیا ہے۔ عریانیت اور فیشن تمام حدیں پار کر گئے ہیں اور ہمارے گھر میں کسی فیشن پرست لڑکی کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔ ہمیں سیدھی سادھی، نیک اور دیندار لڑکی چاہیئے جس کو ڈھونڈ کر نکالنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ اور پھر عثمان آگے بھی پڑھنا چاہ رہا ہے۔“
”اب اور کیا پڑھنے کی ضرورت ہے اچھی خاصی نوکری مل گئی ہے۔ معقول تنخواہ بھی مل رہی ہے۔ عزت اور وقار بھی اتنی چھوٹی عمر میں مل گیا ہے۔ اب اور پڑھائی کو لیکر کیا کرنا ہے؟۔“ابا نے بہت دلائل کے ساتھ بتایا۔ اب صرف اللہ کا شکر کرنے کی ضرورت ہے اور اللہ کا شکر ادا کرنے کا آسان طریقہ ہے باقاعدگی سے نماز کی ادائیگی۔
”لڑکی ڈھونڈو۔ اللہ بھی ہماری مدد کرے گا۔ تلاش کرنے سے کیا نہیں ملتا“۔ ابا نے پھر کہا، ”نہیں ابا ۔ یہ بہت مشکل کام ہے۔ یہ کوئی ترکاری یا ڈبل روٹی یا پیزا لانا نہیں ہے موزوں لڑکی ملنا بڑا کٹھن کام ہے۔بغیر رنگ روغن اور با پردہ لڑکی کا ملنا بہت مشکل ہے۔ اور عثمان ابھی شادی کے لئے بالکل تیار نہیں ہے۔“
”اس کو میں تیار کروں گا۔“
”یہ بات میرے اوپر چھوڑ دو۔ وہ میری بات نہیں ٹالے گا“۔ ابا نے یقین کے ساتھ کہا۔ جب ابا بضد ہوئے تو میں اب اس کام کے لئے سنجیدہ ہو گیا۔ پرلے گاؤں میں ایک سادہ سا خاندان تھا۔ ان کی ایک ہی اریبہ نام کی لڑکی تھی۔ پڑھی لکھی، خوبصورت، صوم وصلوٰۃ کی پابند تھی۔ ان سے میں نے خود جا کر سیدھے طور پر بات چھیڑی۔ وہ بہت حیران پریشان ہوئے کہ یہ کیسے ممکن ہے۔
ان کو یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ ایسا بھی ہو سکتا ہے۔
بولے ”آپ یہ کیا کہہ رہے ہیں“ جناب ہمارا اور آپ کا میل ہی نہیں ہے۔ ہم غریب ہیں اور آپ شہر کے امیر اور متمول لوگوں میں شمار ہوتے ہیں اور ہماری بیٹی صرف بی اے پڑھی ہے۔ گاؤں میں پلی بڑی ہے۔ شہر کے طور طریقوں سے بالکل نا واقف ہے۔“
”ریشمی کپڑے میں اونی پیوند نہیں لگایا جا سکتا“۔ لڑکی کے والد نے کہا۔ ہم نے بہت اصرار کیا۔ ابا کی ضد کا بھی ذکر کیا۔ بڑی مشکل سے وہ لوگ مان گئے۔ لڑکی بھی بڑی بے دلی سے راضی ہو گئی۔ باپ کے آگے کچھ نہ اور بول سکی اُس نے شرم سے سر جھکا کر ہاں کر دی۔ ہمارے خاندان کے ایک بزرگ نے ایک بار بہت پہلے کہا تھا کہ لڑکا لڑکی کی شادی سے پہلے ایک بار ایک دوسرے کو دیکھ لینا، بات چیت کرنا، ایک دوسرے کو سمجھ لینا ضروری ہے۔ پھر شادی کے لئے قدم آگے بڑھانا چاہئے۔ اس کی ہمارے دین میں بھی اجازت ہے…… خیر شادی ہو گئی۔
دونوں نے باہمی مفاہمت سے ایک بات طے کر لی کہ یہ تقریباً مجبوری کی شادی ہے جو صرف دادا جی کی خوشنودی کے لئے کی گئی ہے۔ اس لئے ہم اپنی ازدواجی زندگی کو التوا میں رکھیں گے۔ صرف گھر والوں کو دکھانے کے لئے ہم شادی شدہ رہیں گے اور خوش رہنے کی اداکاری کریں گے۔ ایسا کرنے کے بعد اب دادا جی دن بدن خوش نظر آنے لگے۔ ان کی بھوک کھل گئی، سکون کی نیند آنے لگی۔ اپنے یار دوستوں سے ملنے لگے۔ روز کپڑے بدل کر سیر کو بھی نکلنے لگے۔
کھانے کے ٹیبل پر سب سے پہلے باقاعدگی سے آنے لگے۔ ہر وقت چہکتے رہتے۔ پوتے اور بہو سے بہت پیار کرتے۔ ہر وقت ان سے بات چیت کرنے کا بہانہ ڈھونڈتے۔ وقت کے ساتھ ساتھ عثمان اور اریبہ میں محبت کا چراغ آہستہ آہستہ جلنے لگا۔ کچھ عرصہ بعد دونوں میں باہمی مفاہمت ہو گئی۔ تو ایک دن انہوں نے فیصلہ کر کے یہ شرط توڑ دی اور عملی شادی شدہ زندگی کا آغاز کیا۔ شادی کی ایکٹنگ کے بدلے اب اصلی شادی میں مست رہنے لگے۔
ایک دن خلافِ معمول کافی انتظار کے بعد جب دادا جی ناشتہ کے لئے ٹیبل پر نہ آئے تو خالد اُن کو بلانے چلا گیا۔
ابا ابھی بستر میں ہی تھے۔ بہت آوازیں دیں مگر انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ ان کی نبض دیکھی جو بند ہو چکی تھی۔ جسم کو ہلایا تو ان کی گردن ایک طرف کو لڑھک گئی۔ چہرے کا رنگ زرد پڑ گیا تھا۔
ان کی روح قفسِ عنصری سے کب کی پرواز کر چکی تھی۔
خالد کے منہ سے ایک زور دار چیخ نکلی۔ صرف اتنا بول سکے۔ ’’آپ کس کا انتظار کر رہے ہو۔ ابا تو ہمیں چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔“ہاں۔ ان کے ہاتھ میں کاغذ کا پرزہ تھا جس پر لکھا تھا۔ خالد تم نے میری یہ آخری تمنا بھی پوری کر دی ۔ اللہ تجھے صحت، عزت، برکت، شہرت اور ایمان دے۔ میں تجھ سے بہت خوش ہوں۔ اللہ حافظ۔
کریم منزل، پیس کالونی
شیخوپورہ،بڈگام، سرینگر
موبائل نمبر؛ 8825051001