شہیدانِ کربلا
بیشک بہ فیض خون شہیدانِ کربلا
رشک چمن بنا ہے بیابانِ کربلا
اسلام کو یہیں سے نئی زندگی ملی
ہے دوشِ مسلمین پہ احسانِ کربلا
جن و بشر ، ملائکہ اس در کے ہیں غلام
دیکھیں تو آپ جاکے ذرا شانِ کربلا
کثرت سے جیت سکتا نہیں ہےکوئی بھی جنگ
دیتا ہے یہ سبق ہمیں میدانِ کربلا
مدت سے برکتوں کی میں کرتا ہوں جستجو
میرے بھی گھر پہ آئیے مہمانِ کربلا
دیں کو یزید وقت بھلا کیا مٹائے گا
جاری ہے اس پہ ہر گھڑی فیضانِ کربلا
سونا اُدھر اُدھر سے نکلتا ہے آفریں
گذرا جدھر جدھر سے بھی مہمانِ کربلا
مت پوچھئے ملی ہیں اسے کتنی عظمتیں
زاہدؔ ہوا ہے جب سے ثنا خوانِ کربلا
محمد زاہدؔ رضا بنارسی
دارالعلوم حبیبیہ رضویہ
گوپی گنج ۔بھدوہی، اتر پردیش
کربلا
دل میں بسی ہے جسم میں سانسوں میں کربلا
محفوظ ہے کچھ اس طرح آنکھوں میں کربلا
کھلتے ہیں اس میں آج بھی کچھ دین کے گلاب
ایسے ہے جذب ریت کے ذروں میں کربلا
خورشیدِ حق کی بن کے چلی ہے جو روشنی
پھیلی ہوئی ہے دہر کے ظلموں میں کربلا
حق و صداقتوں کا جو پرچم ہے مؤجزن
لہرائے گی ہمیشہ وہ نسلوں میں کربلا
ایمان و دین و صبر کی منزل کا نام ہے
روشن ہے جیسے چاند ستاروں میں کربلا
آنسو بہا کے یاد میں پاتے ہیں ہم سکوں
بہتی ہے جیسے آنکھ کی لہروں میں کربلا
طاقت کبھی بھی حق کو دبا ہی نہیں سکی
کہتی ہے آج تک یہ کتابوں میں کربلا
پانی کی بوند بوند کو ترسا دیا گیا
لکھا ہے یہ فرات کی موجوں میں کربلا
مظلومیت کی تپتی ہوئی دھوپ کے تلے
سایہ بنی ہے صبر کے گوشوں میں کربلا
باطل ڈرا سکا نہ کبھی اہلِ بیت کو
چمکی ہے یوں بھی تیغ کی دھاروں میں کربلا
مٹ تو گیا یزید کا نام و نشاں مگر
گونجے گی کائنات کے خطوں میں کربلا
ملتا ہے دل کو چین اسی یاد سے مدام
بستی ہے میری روح کے خانوں میں کربلا
سجدہ حسین نے جو کیا آخری ادا
محفوظ ہو کے رہ گئی سجدوں میں کربلا
کیونکر نہ حق کے واسطے ڈٹ جائیں دیر میں
زندہ ہے میری نسل کی سوچوں میں کر بلا
پرویز مانوس
آزاد بستی نٹی پورہ سرینگر
موبائل نمبر؛9419463487
وہ پاسبان ہمارا
ہم سب حسینؑ کے ہیں مولیٰ حسینؑ ہمارا
عباسؑ کا علم ہے قومی نشان ہمارا
سایہ ہے پنجتنؑ کا عصر رواں ہمارا
عہد کُن ہمارا عزم جواں ہمارا
نیزوں کے نوک پر جو تبلیغ کر رہے ہیں
وہ نوجواں ہمارا وہ بے زباں ہمارا
اکبرؑ کی زندگی کو راہِ عمل بناکر
بیدار ہو رہا ہے ہر نوجوان ہمارا
کربلا کی سرزمین پر ثابت قدم رہے جو
اصغرؑ ہے وہ ہمارا پیر و جواں ہمارا
عزم حسینؑ ہمارا وارث ہیں ہم اُسی کے
پہنچے گا پابہ منزل اب کارواں ہمارا
ساقی بچھائو پلکیں راہوں میں کربلا کی
اُن ہی کا ہے سہارا وہ پاسباں ہمارا
امداد ساقی
سرینگر کشمیر
موبائل نمبر؛9419000643
غزل
صدیاں گزر گئیں پر جیتے رہے حسینؓ
دل کے چراغ بن کے سلگتے رہے حسینؓ
باطل کے ہر یزید سے ٹکراتی رہی صدا
حق کی ازاں بن کے ابھرتے رہے حسینؓ
تلوار کی جھنکار تھی، نیزوں کا شور تھا
پھر بھی خدا کے نام پہ ڈٹتے رہے حسینؓ
رہے گا ذکر اُن کا جہاں تک ہے یہ جہاں
ہر دور کے یزید سے لڑتے رہے حسینؓ
پیاسا تھا کارواں مگر ایمان نہ بجھ سکا
باطل کے روبرو بھی نکھرتے رہے حسینؓ
سجدے میں سر جھکا کے یہ پیغام دے گئے
سر کٹ گیا مگر نہ جھکتے رہے حسینؓ
مقتل بھی جن کے صبر کی تفسیر بن گیا
ہر درد سہ کے حق پہ ٹھہرتے رہے حسینؓ
بشارتؔ جب بھی دل پہ مصیبت کا بار تھا
تسکین بن کے روح میں اُترتے رہے حسینؓ
بشارت حفیظ
سینیرلکچرر اردو
گورمنٹ گرلز ہائر سکینڈری سکول بارہمولہ کشمیر
موبائل نمبر؛7006178358