عوام نے انتظامیہ کی کارکردگی پر سوال اُٹھا دئیے
عاقب سلام
سرینگر// سرینگر کے مضافات فقیر گجری میں جمعرات کو آوارہ کتوں کے حملے میں دو سکولی بچوں کے زخمی ہونے کے واقعے نے ایک بار پھر شہر میں آوارہ کتوں کے بڑھتے ہوئے خطرے کو بے نقاب کر دیا ہے۔ شہر کے مضافاتی علاقوں سے لے کر مصروف تجارتی مراکز تک رہائشیوں کا الزام ہے کہ متعلقہ حکام آوارہ کتوں کی تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی پر قابو پانے میں ناکام رہے ہیں۔یہ واقعہ سرینگر کے مضافاتی پہاڑی علاقے فقیر گجری میں، دارہ ہارون پٹی کے اندر پیش آیا، جہاں آوارہ کتوں نے دو اسکولی بچوں پر حملہ کر دیا، جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
حملے میں بچوں کے چہرے اور گردن پر متعدد زخم آئے، تاہم مقامی لوگوں نے بروقت مداخلت کر کے انہیں کتوں سے بچایا۔مقامی افراد کے مطابق زخمی بچوں کی شناخت سمیرا اسلم اورشکیل احمد کے طور پر ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں بچے اسکول سے گھر واپس آ رہے تھے کہ راستے میں آوارہ کتوں نے ان پر حملہ کر دیا۔زخمی بچوں میں سے ایک کے رشتہ دار منیر احمد نے بتایا کہ اس واقعے نے پورے علاقے کو صدمے میں مبتلا کر دیا ہے۔انہوں نے کشمیرعظمیٰ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’دونوں بچے اسکول سے واپس آ رہے تھے کہ کتوں نے ان پر حملہ کر دیا۔ انہیں شدید زخم آئے ہیں اور اس وقت زیر علاج ہیں۔ یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ چند برس قبل بھی اسی علاقے میں ایسا ہی حملہ ہوا تھا اور اس نوعیت کے واقعات مسلسل پیش آ رہے ہیں۔‘‘رہائشیوں کا کہنا ہے کہ اس خوفناک واقعے کے بعد والدین شدید پریشان ہیں اور اب بہت سے لوگ اپنے بچوں کو تنہا اسکول، ٹیوشن سینٹر یا قریبی دکانوں تک بھیجنے سے ہچکچا رہے ہیں۔نیو تھید ہارون کے ایک رہائشی نے کہا، ’’حملے کی تصاویر انتہائی خوفناک تھیں۔ اگر مقامی لوگ بروقت نہ پہنچتے تو بچوں کی جان بھی جا سکتی تھی۔
اب والدین اپنے بچوں کو اکیلے باہر بھیجنے سے ڈر رہے ہیں۔‘‘ایک اور مقامی باشندے نے کہا کہ یہ کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں بلکہ فقیر گجری، دارہ، نیو تھید، درباغ اور ملحقہ علاقوں میں آوارہ کتوں کی مسلسل بڑھتی ہوئی تعداد کا نتیجہ ہے۔رہائشیوں نے بتایا کہ سرینگر کے مضافاتی علاقے پہلے ہی ریچھ اور تیندوؤں کی بار بار آمد کے باعث انسان اور جنگلی حیات کے تصادم کا شکار رہتے ہیں، جبکہ آوارہ کتوں کی بے قابو تعداد نے ان کی روزمرہ زندگی کو مزید خوفزدہ کر دیا ہے۔ایک مقامی شہری مدثر احمد نے کہا، ’’ہم پہلے ہی ریچھ اور تیندوؤں کے حملوں کے خوف میں زندگی گزار رہے ہیں، اب آوارہ کتوں نے مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ جنگلی جانوروں کو فوری طور پر آبادی میں آنے سے روکنا شاید ممکن نہ ہو، لیکن آوارہ کتوں کی آبادی پر ضرور قابو پایا جا سکتا ہے۔‘‘تشویش صرف مضافاتی علاقوں تک محدود نہیں بلکہ شہر کے اندر بھی لوگ اس مسئلے سے پریشان ہیں۔ سرینگر میں صبح کی سیر کرنے والے افراد اور جوگرز کا کہنا ہے کہ اب وہ اپنی حفاظت کے لیے ہاتھ میں لاٹھیاں لے کر نکلنے پر مجبور ہیں۔نشاط کے رہائشی اور جوگررفیق احمد نے کہا، ’’ہم نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ صبح کی سیر کے لیے بھی لاٹھی ساتھ رکھنی پڑے گی۔ آوارہ کتے تقریباً روزانہ جوگرز، سائیکل سواروں اور دو پہیہ گاڑی چلانے والوں کا پیچھا کرتے ہیں۔ صورتحال انتہائی خطرناک ہوتی جا رہی ہے۔‘‘رہائشیوں نے ناقص کچرا انتظامیہ کو بھی اس مسئلے کا ایک بڑا سبب قرار دیتے ہوئے کہا کہ شہر کے مختلف مقامات پر کچرے کے ڈھیر آوارہ کتوں کی خوراک کا مستقل ذریعہ بن چکے ہیں۔اس تازہ واقعے کے بعد کشمیر میں اینیمل برتھ کنٹرول پروگرام کی مؤثریت پر بھی ایک بار پھر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔حال ہی میں کشمیرعظمیٰ نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ وادی میں آوارہ کتوں کی نس بندی کا پروگرام غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے۔
شہامہ میں قائم نس بندی کا ایک بڑا مرکز 2024 سے بند پڑا ہے، جبکہ چھترہامہ میں مجوزہ اینیمل برتھ کنٹرول مرکز اب تک فعال نہیں ہو سکا، جس کے باعث پہلے سے محدود نس بندی کی صلاحیت مزید متاثر ہوئی ہے۔حکام نے پہلے موسمِ سرما میں شدید سردی کو نس بندی مہم کی معطلی کی وجہ قرار دیا تھا۔ بعد ازاں سرینگر میونسپل کارپوریشن کے کمشنر نے کہا تھا کہ گرمیوں کے آغاز سے قبل نس بندی کا پروگرام دوبارہ شروع کیا جائے گا۔تاہم ماہرین مسلسل خبردار کرتے رہے ہیں کہ موجودہ بنیادی ڈھانچہ، فعال ہونے کی صورت میں بھی، آوارہ کتوں کی تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی پر قابو پانے کے لیے ناکافی ہے۔عوامی صحت کے اعداد و شمار بھی اس مسئلے کی سنگینی کو ظاہر کرتے ہیں۔ 2022 سے 2025 کے درمیان جموں و کشمیر میںدو لاکھ سے زائدافراد آوارہ کتوں کے کاٹنے کا شکار ہوئے، جو انسانوں اور آوارہ کتوں کے درمیان بڑھتے ہوئے تصادم کی عکاسی کرتا ہے۔رہائشیوں کا ماننا ہے کہ محض وقتی مہمات سے مسئلہ حل نہیں ہوگا، بلکہ اس کے لیے بڑے پیمانے پر نس بندی، سائنسی بنیادوں پر کچرے کا انتظام، کتوں کی ویکسینیشن، ان کی آبادی کی مسلسل نگرانی اور عوامی آگاہی مہم پر مشتمل جامع حکمت عملی اپنانا ناگزیر ہے۔شہر کے ڈاؤن ٹاؤن کے رہائشی فاروق احمد نے کہا،’’ہر حملے کے بعد وقتی اقدامات اور وعدے کیے جاتے ہیں، لیکن خوف برقرار رہتا ہے۔ اس مسئلے کے مستقل حل کے لیے ایک پائیدار نظام قائم کرنا ہوگا، نہ کہ ہر واقعے کے بعد عارضی کارروائیاں۔‘‘