عظمیٰ ویب ڈیسک
کشتواڑ/ بارڈر روڈز آرگنائزیشن (بی آر او) نے انجینئرنگ مہارت اور قومی تعمیر و ترقی کے عزم کا مظاہرہ کرتے ہوئے چسوتی کے مقام پر 140 فٹ طویل ٹرپل ڈبل ری انفورسڈ بیلی برج تعمیر کرکے گلاب گڑھ اور مچیل کے درمیان سڑک رابطہ بحال کر دیا ہے۔
یہ رابطہ گزشتہ سال 14 اگست 2025 کو آنے والے تباہ کن بادل پھٹنے کے واقعے کے بعد منقطع ہو گیا تھا، جس میں چسوتی کا پرانا پل بہہ گیا تھا اور مچیل خطے کا واحد زمینی رابطہ ختم ہو گیا تھا۔
نئے پل کا افتتاح وائٹ نائٹ کور کے جنرل آفیسر کمانڈنگ لیفٹیننٹ جنرل پی کے مشرا نے ورچوئل طریقے سے کیا۔ اس موقع پر جموں و کشمیر اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور پڈر-ناگسینی حلقہ کے رکن اسمبلی سنیل کمار شرما بھی موجود تھے۔
بی آر او کے پروجیکٹ سمپرک کے تحت 35 بارڈر روڈز ٹاسک فورس کی 118 روڈ کنسٹرکشن کمپنی نے محض 12 دنوں کے اندر اس پل کی تعمیر مکمل کی۔ اس دوران دشوار گزار پہاڑی علاقے اور نامساعد موسمی حالات کے باوجود سائٹ کی تیاری، پل کے سہاروں کی تعمیر، ضروری سامان کی منتقلی، بیلی برج کی تنصیب اور رابطہ سڑکوں کی تعمیر کا کام انجام دیا گیا۔ اس منصوبے میں آرمی انجینئرز کے ماہرین نے بھی تکنیکی معاونت فراہم کی۔
لیفٹیننٹ جنرل پی کے مشرا نے اس کامیابی پر بی آر او اور آرمی انجینئرز کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ انتہائی مختصر وقت میں اس مشکل منصوبے کی تکمیل ان کی لگن، پیشہ ورانہ مہارت اور عزم کی عکاس ہے۔ انہوں نے کہا کہ رابطہ بحالی بی آر او کے نصب العین “شرمینا سروَم سادھیَم” (محنت سے سب کچھ ممکن ہے) کی عملی مثال ہے۔
اگست 2025 میں بادل پھٹنے کے سانحے کے بعد وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے جموں و کشمیر کے دورے کے دوران اعلان کیا تھا کہ گلاب گڑھ-مچیل سڑک کو طویل مدتی ترقی اور دیکھ بھال کے لیے بی آر او کے سپرد کیا جائے گا۔ وزارت دفاع نے مارچ 2026 میں اس تجویز کو منظوری دی تھی جبکہ باضابطہ منتقلی کے احکامات جلد متوقع ہیں۔
گلاب گڑھ-مچیل سڑک کشتواڑ، گلاب گڑھ، کنڈل اور مچیل کو جوڑنے والے اہم راستے کا حصہ ہے۔ یہ مستقبل میں زنسکار رینج کے اوماسی لا درے کے ذریعے لداخ کے زنسکار وادی میں واقع نیمو تک ممکنہ رابطے کی بھی اہم کڑی تصور کی جا رہی ہے۔
اس سڑک کی مذہبی اہمیت بھی غیر معمولی ہے کیونکہ یہ مچیل ماتا مندر تک پہنچنے کا بنیادی راستہ ہے۔ ہر سال تین لاکھ سے زائد عقیدت مند اس یاترا میں شرکت کرتے ہیں۔
بی آر او کے مطابق پل کی بروقت تکمیل سے جولائی میں شروع ہونے والی سالانہ مچیل ماتا یاترا کے لیے محفوظ اور قابل اعتماد آمدورفت یقینی بنائی گئی ہے۔ اس کے علاوہ دور افتادہ مچیل خطے کے رہائشیوں کی سماجی و اقتصادی سرگرمیوں کی بحالی اور سرحدی ضلع میں نقل و حرکت کو بھی نمایاں فروغ ملے گا۔چسوتی میں 140 فٹ طویل بیلی برج کی کامیاب تعمیر اور تنصیب کو بی آر او کی ایک تاریخی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے، جو سول انتظامیہ، فوج اور انجینئرنگ اداروں کے باہمی تعاون کی ایک روشن مثال ہے۔
چسوتی میں 140 فٹ طویل بیلی برج تعمیر، مچیل سے سڑک رابطہ بحال: بی آر او کا بڑا کارنامہ