جاوید اقبال
مینڈھر//اوقاف کمیٹی کی جانب سے جامع مسجد کی دکانوں کے کرایہ پر دعویٰ کیے جانے کے بعد جامع مسجد کمیٹی کی ایک اہم میٹنگ مرکزی جامع مسجد مینڈھر میں منعقد ہوئی، جس کی صدارت امام و خطیب مرکزی جامع مسجد مولانا محمد سلطان نقشبندی نے کی۔ اجلاس کے بعد ایک پریس کانفرنس کا بھی انعقاد کیا گیا، جس میں مسجد کمیٹی کے اراکین اور دیگر معزز شخصیات نے شرکت کی۔پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے اوقاف کمیٹی کے دعوے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جامعمسجد اور اس سے ملحقہ دکانوں کے معاملے میں اوقاف کا کوئی لینا دینا نہیں ہے اور نہ ہی ان کا اس منصوبے میں کوئی مالی تعاون شامل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جامعمسجد کمیٹی نے عوامی تعاون، چندہ اور مقامی لوگوں کی مدد سے ان دکانوں کی تعمیر مکمل کی ہے، اس لیے کسی دوسرے ادارے کی جانب سے ملکیت یا کرایہ پر دعویٰ کرنا بے بنیاد اور ناقابل قبول ہے۔
مقررین نے واضح الفاظ میں کہا کہ جامع مسجد کی تمام املاک، دکانوں اور دیگر انتظامی معاملات کی نگرانی مسجد کمیٹی کے پاس ہے اور اسے بلاوجہ متنازعہ بنانے کی کوشش نہ کی جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مذہبی معاملات میں غیر ضروری مداخلت سے عوامی جذبات مجروح ہو سکتے ہیں، جس سے حالات خراب ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔اس دوران جامع مسجد کمیٹی کی جانب سے ایک میمورنڈم ایس ڈی ایم مینڈھر کو بھی پیش کیا گیا، جس میں انتظامیہ سے مطالبہ کیا گیا کہ معاملے میں غیر ضروری مداخلت کو فوری طور پر روکا جائے اور امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے مناسب اقدامات کیے جائیں۔کمیٹی کے ذمہ داران نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر آئندہ دوبارہ اس معاملے میں مداخلت کی گئی اور اس کے نتیجے میں حالات کشیدہ ہوئے تو اس کی مکمل ذمہ داری انتظامیہ پر عائد ہوگی۔اجلاس میں جموں و کشمیر ٹرائبل ممبر ایڈوکیٹ محمد نظیر چوہدری ،سابق ڈی ڈی سی ممبر باجی فاروق چوہدری، متعدد سرپنچوں، پنچوں اور دیگر معززینِ علاقہ نے شرکت کی اور جامع مسجد کمیٹی کے مؤقف کی حمایت کی۔