محمد امین میر
جموں و کشمیر میں اراضی ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن آزادی کے بعد کی جانے والی اہم ترین انتظامی اصلاحات میں شمار ہوتی ہے۔ روایتی کاغذی جمابندیوں کو ڈیجیٹل شکل میں منتقل کرنے کے عمل نے بلاشبہ رسائی، شفافیت اور عوامی سہولت میں نمایاں بہتری پیدا کی ہے۔ آج شہری بار بار ریونیو دفاتر کے چکر لگائے بغیر آن لائن اراضی ریکارڈ حاصل کر سکتے ہیں جبکہ سرکاری ادارے بھی ریکارڈ کے بہتر انتظام اور نگرانی سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔تاہم ان نمایاں کامیابیوں کے باوجود ایک اہم مسئلہ اب بھی موجود ہے جو ایک مکمل طور پر قابل اعتماد اور قانونی طور پر درست اراضی ریکارڈ نظام کے قیام میں رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ سینکڑوں دیہات میں ڈیجیٹل جمابندیوں کی عوامی قرأت کے دوران متعدد اعتراضات اور خامیاں سامنے آئیں۔ یہ اعتراضات ملکیت کی تفصیلات، وراثتی اندراجات، انتقالات کی شمولیت، کاشتکاری اور قبضہ ریکارڈ، رقبہ جات، سروے نمبرز، اراضی کی درجہ بندی اور دیگر قلمی غلطیوں سے متعلق ہیں جو کئی دہائیوں سے جمع ہوتی رہی ہیں۔اسی دوران محکمہ محصولات نے ان بیک لاگ انتقالات کو آن لائن اپ لوڈ کرنے کا عمل شروع کیا ہے جو برسوں تک یا تو تصدیق شدہ ہونے کے باوجود جمابندیوں میں شامل نہ ہو سکے یا مختلف انتظامی وجوہات کی بنا پر التوا کا شکار رہے۔ اگرچہ یہ اقدام ریکارڈ کو اپ ڈیٹ کرنے کے لیے نہایت اہم ہے، لیکن جب تک ڈیجیٹل جمابندیوں کو محدود اور ضابطہ بند طریقے سے غیر منجمد نہیں کیا جاتا، تب تک ان انتقالات اور تصدیق شدہ اصلاحات کو مکمل طور پر شامل کرنا ممکن نہیں ہوگا۔اس وقت ایک عجیب صورتحال پیدا ہو چکی ہے۔ ایک طرف ڈیجیٹلائزیشن کا مقصد شفاف اور درست ریکارڈ فراہم کرنا ہے، جبکہ دوسری طرف جمابندیوں کے منجمد ہونے کی وجہ سے وہ حقیقی غلطیاں درست نہیں ہو پا رہیں جو عوام نے خود قرأت کے دوران نشاندہی کی تھیں۔ نتیجتاً ہزاروں شہری ایک جدید ڈیجیٹل نظام کے باوجود مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔لہٰذا وقت آ گیا ہے کہ محکمہ محصولات ایک منظم، شفاف اور قانونی طریقہ کار وضع کرے جس کے تحت ڈیجیٹل جمابندیوں کو محدود مدت کے لیے غیر منجمد کر کے حقیقی شکایات کا ازالہ اور بیک لاگ انتقالات کی شمولیت ممکن بنائی جا سکے۔
جمابندی کو ہمیشہ اراضی انتظامیہ کی ریڑھ کی ہڈی تصور کیا گیا ہے۔ انیسویں صدی سے یہ ریکارڈ ملکیت، کاشت، قبضہ، مزارعت، محصولات اور زمین سے متعلق دیگر حقوق کی بنیادی دستاویز کے طور پر استعمال ہوتا آیا ہے۔جموں و کشمیر میں مختلف ادوار کی بندوبستی کارروائیوں کے نتیجے میں تیار ہونے والی جمابندیاں زمینی نظم و نسق کی بنیاد بن گئیں۔ محصولات کے افسران انہی ریکارڈز کی بنیاد پر اراضی محصولات کا تعین، حقوق ملکیت کی حفاظت اور تنازعات کے تصفیے کا کام انجام دیتے رہے ہیں۔عدالتیں، مالیاتی ادارے، ترقیاتی ایجنسیاں اور مختلف سرکاری محکمے بھی جمابندی کو اراضی حقوق کے ایک اہم ثبوت کے طور پر تسلیم کرتے ہیں۔ اسی لیے اس کی درستگی نہ صرف زمین مالکان بلکہ پورے انتظامی نظام کے لیے ضروری ہے۔
ڈیجیٹل جمابندیوں کا بنیادی مقصد ان مسائل کا خاتمہ کرنا تھا جو روایتی دستی ریکارڈ میں موجود تھے۔ڈیجیٹلائزیشن کے ذریعے درج ذیل فوائد متوقع تھے۔
ریکارڈ تک آسان رسائی،جعلسازی اور ردوبدل میں کمی،عوامی خدمات کی تیز تر فراہمی،ریکارڈ کا بہتر تحفظ،لین دین میں شفافیت،آن لائن انتقالی نظام کے ساتھ انضمام،اعلیٰ حکام کی مؤثر نگرانی۔یہ منصوبہ کافی حد تک کامیاب بھی رہا ہے۔ آج شہری کہیں سے بھی جمابندی کی نقل حاصل کر سکتے ہیں، اندراجات کی تصدیق کر سکتے ہیں اور مختلف معلومات تک فوری رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔تاہم یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ ڈیجیٹلائزیشن صرف موجودہ ریکارڈ کو الیکٹرانک شکل میں منتقل کرتی ہے۔ اگر اصل ریکارڈ میں پہلے سے غلطیاں موجود ہوں تو صرف ڈیجیٹل شکل اختیار کر لینے سے وہ غلطیاں ختم نہیں ہوتیں۔
محکمہ محصولات نے اس امکان کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ پرانے ریکارڈ میں خامیاں موجود ہو سکتی ہیں، مختلف دیہات میں ڈیجیٹل جمابندیوں کی عوامی قرأت کا عمل انجام دیا۔
یہ اقدام نہایت مفید ثابت ہوا کیونکہ اس دوران بے شمار غلطیاں اور تضادات سامنے آئے۔عام طور پر درج ذیل شکایات موصول ہوئیں:
تصدیق شدہ انتقالات کی عدم شمولیت،والدیت یا نسب نامے کی غلطیاں،وراثتی اندراجات کا فقدان،غلط سروے نمبرز،رقبہ جات میں فرق،زمین کی درجہ بندی میں خامیاں،
ملکیتی حصص کی غلط عکاسی،ڈیٹا انٹری کی غلطیاں،دستی اور ڈیجیٹل ریکارڈ میں تضاد،پرانے بندوبستی مراحل سے پیدا شدہ خامیاں۔
متعدد دیہات میں مالکان نے تحریری اعتراضات متعلقہ دستاویزات کے ساتھ جمع کروائے۔ اس پورے عمل نے یہ ثابت کیا کہ عوامی شرکت ریکارڈ کی درستگی کو بہتر بنانے کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔جمابندیوں کو منجمد کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ڈیجیٹل جمابندیوں کو منجمد کرنے کا مقصد ان کی سالمیت کو برقرار رکھنا اور غیر مجاز تبدیلیوں کو روکنا تھا۔یہ مقصد اپنی جگہ بالکل درست تھا۔اگر ریکارڈ میں بلا روک ٹوک تبدیلیوں کی اجازت دی جاتی تو جعلسازی، بدعنوانی اور غیر قانونی ردوبدل کے امکانات بڑھ سکتے تھے۔ منجمد ریکارڈ ایک طرح کا استحکام فراہم کرتا ہے اور اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ کوئی بھی تبدیلی مناسب اجازت کے بغیر نہ ہو،تاہم یہ امر بھی حقیقت ہے کہ منجمد کرنے کا مقصد حقیقی اور ثابت شدہ غلطیوں کی اصلاح کو ہمیشہ کے لیے روکنا نہیں تھا۔آج سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہزاروں حقیقی شکایات ابھی تک زیر التوا ہیں کیونکہ متعلقہ ڈیجیٹل ریکارڈ میں ضروری اصلاحات نہیں کی جا سکتیں۔متعلقہ ریونیو افسران کے پاس اکثر ایسی دستاویزی شہادت موجود ہوتی ہے جو غلطیوں کی تصدیق کرتی ہے۔زمین مالکان کے پاس انتقالات، وراثتی اسناد، عدالتی فیصلے اور دیگر قانونی دستاویزات موجود ہیں جو ان کے دعووں کی تائید کرتی ہیں۔اس کے باوجود منجمد ڈیجیٹل نظام ان تصدیق شدہ تبدیلیوں کی مکمل عکاسی نہیں کر پا رہا۔یہ صورتحال عوامی اعتماد کو متاثر کرتی ہے کیونکہ ایک شہری یہ توقع رکھتا ہے کہ جب کوئی غلطی ثابت ہو جائے تو سرکاری ریکارڈ میں اس کی اصلاح ضرور کی جائے گی۔(جاری۔۔۔)
[email protected]
����������������