اِکز اِقبال
دنیا کے ہر معاشرے میں مرد اور عورت کا اپنا ایک منفرد مقام اور کردار ہے۔ دونوں کی ذمہ داریاں الگ ہونے کے باوجود ایک دوسرے سے جُڑی ہوئی ہیں۔ عورت جہاں محبت، رحمت اور پرورش کی علامت ہے، وہیں مرد ایثار، قربانی اور قرب کے جذبات سے سرشار ایک ایسی ہستی ہے جو بچپن سے لے کر تختۂ غسل تک دوسروں کے لیے جیتا ہے۔
ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں ہر درد کی آواز ہے، ہر زخم کی تشریح ہے، ہر محرومی کا تذکرہ ہے، مگر مرد کے حصے میں آنے والی اذیتیں اکثر اس کی خاموشی کے قبرستان میں دفن ہو جاتی ہیں۔ اسے بچپن سے سکھایا جاتا ہے کہ مضبوط بنو، آنسو نہ بہاؤ، کمزوری ظاہر نہ کرو۔ یوں وہ عمر بھر اپنے جذبات کو سینے کے کسی تاریک گوشے میں قید رکھتا ہے اور دنیا کے سامنے ایک مسکراتا ہوا چہرہ پیش کرتا رہتا ہے۔
ایک پسماندہ گھر میں پیدا ہونے والا لڑکا تو اور بھی جلدی بڑا ہو جاتا ہے۔ اس کے بچپن کی کتاب میں کھیل کم اور فکر زیادہ لکھی ہوتی ہے۔ وہ اپنے والد کے چہرے پر معاشی پریشانیوں کی لکیریں پڑھتا ہے، ماں کی آنکھوں میں ادھورے خواب دیکھتا ہے اور بہن بھائیوں کی خواہشات کو اپنی ذمہ داری سمجھنے لگتا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس کے اپنے خواب سکڑتے جاتے ہیں اور دوسروں کی ضرورتیں اس کی زندگی کا مقصد بن جاتی ہیں۔
پھر ایک دن وہ گھر کی دہلیز پار کرتا ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ روزگار کی تلاش میں نکلا ہے، مگر حقیقت میں مرد عزت، خودداری اور بقا کی ایک طویل جنگ لڑنے نکلتا ہے۔ اس سفر میں اسے بے شمار ایسے موڑ ملتے ہیں جہاں اس کی انا زخمی ہوتی ہے، اس کی خواہشیں دم توڑتی ہیں اور اس کی تھکن حدوں کو چھونے لگتی ہے۔ لیکن وہ خاموش رہتا ہے، کیونکہ اس کے لیے ہار ماننے کا مطلب صرف اپنی شکست نہیں بلکہ ان سب کی امیدوں کا ٹوٹ جانا ہوتا ہے جو اس سے وابستہ ہیں۔
عجیب بات یہ ہے کہ مرد کو ہمیشہ ایک مضبوط درخت سمجھا جاتا ہے۔ لوگ اس کے سائے میں پناہ لیتے ہیں، اس کے سہارے کھڑے ہوتے ہیں، مگر کم ہی کوئی اس کی جڑوں کی تھکن محسوس کرتا ہے۔ جب مرد تھک جائے تو اسے صبر کا درس دیا جاتا ہے، جب مرد ٹوٹنے لگے تو اسے حوصلے کی تلقین کی جاتی ہے، اور جب وہ اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرنا چاہے تو اسے یاد دلایا جاتا ہے کہ “تم مرد ہو۔” شاید یہی وہ جملہ ہے جو اس کے اور دنیا کے درمیان سب سے بڑی دیوار بن جاتا ہے۔
مرد کی زندگی اکثر ایک ایسے چراغ کی مانند ہوتی ہے جو دوسروں کی زندگیوں کو روشن کرتے کرتے خود پگھل جاتا ہے۔ وہ والدین کے بڑھاپے کا سہارا بنتا ہے، بہن کے خوابوں کی تعبیر ڈھونڈتا ہے، بھائی کے مستقبل کی بنیاد رکھتا ہے، شریکِ حیات کی خوشیوں کا خیال رکھتا ہے اور اولاد کے کل کے لیے اپنا آج قربان کر دیتا ہے۔ مرد اپنے حصے کی کئی خوشیاں دوسروں کے نام لکھ دیتا ہے، مگر اس کے بدلے میں اکثر صرف ذمہ داریوں کا ایک نیا باب کھل جاتا ہے۔
مرد کے دُکھ بڑے بے زبان ہوتے ہیں وہ نہ تو ماں کو گلے لگا کر رو سکتا ہے اور نہ ہی بے ساختہ اپنے باپ کو گلے لگا سکتا ہے ۔۔۔ اندر سے ختم ہو رہا ہوگا لیکن دوستوں میں گُھل مِل جائے گا ، رات کو اپنی کِسی خواہش پہ فاتحہ پڑھ کر صبح پھر بھی مُسکراتا ہُوا دِکھائی دے گا روئے گا بھی تو صرف خود کے ساتھ ، مرد کی دی گئی قُربانی محدود نہیں ہوتی وہ قُربان
ہوتا ہی رہتا ہے کبھی بیٹا بن کر تو کبھی شوہر اور باپ بھائی بن کر !!
سچائی یہ بھی ہے کہ ع ورت بھی اپنی جگہ قربانی، صبر اور محبت کی ایک عظیم داستان ہے۔ اگر مرد باہر کی دنیا کی سختیوں سے لڑتا ہے تو عورت گھر کے اندر بے شمار جذباتی اور معاشرتی امتحانات سے گزرتی ہے۔ ایک کامیاب معاشرہ نہ مرد کے بغیر مکمل ہو سکتا ہے اور نہ عورت کے بغیر۔ دونوں ایک دوسرے کے حریف نہیں بلکہ ایک دوسرے کی تکمیل ہیں۔ مسئلہ کسی ایک جنس میں نہیں، بلکہ اس سوچ میں ہے جو ایک کے درد کو اہم اور دوسرے کے دکھ کو معمولی سمجھتی ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم مرد کو صرف ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھانے والی مشین نہ سمجھیں بلکہ ایک حساس انسان کے طور پر بھی دیکھیں۔ ایک ایسا انسان جس کے پاس دل بھی ہے، خواب بھی ہیں، خوف بھی ہیں اور تھکن بھی۔ اسے بھی کبھی کسی کے چند نرم لفظوں، چند لمحوں کی توجہ اور چند سچے سوالوں کی ضرورت ہوتی ہے۔
شاید دنیا کا ہر مرد اپنی زندگی میں کم از کم ایک بار یہ سننا چاہتا ہے:’’تم ٹھیک تو ہو؟‘‘
یہ ایک مختصر سا سوال ہے، مگر بہت سے مردوں کے لیے پوری دنیا کی محبت سے زیادہ قیمتی ہو سکتا ہے۔ کیونکہ مرد اکثر رو نہیں پاتا، شکایت نہیں کر پاتا، مانگ نہیں پاتا۔ وہ صرف نبھاتا ہے۔ اور کبھی کبھی دل کے کسی سنسان گوشے میں بیٹھ کر یہی سوچتا ہے:
� اسے ظاہر کرانا پڑتا ہے بے درد ہونا بھی
بڑا تکلیف دہ ہوتا ہے اکثر مرد ہونا بھی
� وہ گھر والوں کی خاطر اپنے خوابوں کو کچلتا ہے
ہے امتحان کسی پسماندہ گھر کا فرد ہونا بھی
� بس اک خواب کا سہارا ہے جو جینے پر مجبور کرے
مرد کہاں لے کے جائے اپنی عرضی، کون سنے؟
شاید یہی مرد کی سب سے بڑی داستان ہے؛ ایک ایسی داستان جو لکھی کم اور جھیلی زیادہ جاتی ہے۔
(مضمون نگار ایک معلم، کالم نگار اور سماجی مبصر ہیں اور مریم میموریل انسٹیٹیوٹ پنڈت پورا قاضی آباد میں پرنسپل ہیں)
رابطہ ۔ 7006857283
[email protected]
���������������������������