عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر//سرینگر کے شہرِ خاص (ڈاؤن ٹاؤن) سے تعلق رکھنے والے کشمیری دستکاروں کے ایک وفد نے کل اپنی پارٹی کے سربراہ سید محمد الطاف بخاری سے ملاقات کی اور انہیں دستکار برادری کو درپیش مشکلات، مسائل اور انہیں لاحق خدشات سے آگاہ کیا۔وفد نے سید محمد الطاف بخاری سے اپیل کی کہ وہ اس معاملے میں مداخلت کریں اور اپنے ذاتی اثر و رسوخ کو بروئے کار لا کر اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان کے مسائل اور خدشات مؤثر انداز میں حل کیے جائیں اور اس روایتی ہنر و صنعت کے تحفظ اور فروغ کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔وفد کی قیادت میر یونس احمد کر رہے تھے، جو دستکار برادری کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم کاریگر کلیان فاؤنڈیشن کے ایک عہدیدار ہیں۔
وفد نے کہا، ’’اگرچہ کشمیری فنون اور دستکاری کی مصنوعات نہ صرف ملک بھر بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی بے پناہ طلب اور اعلیٰ تجارتی قدر رکھتی ہیں، لیکن تلخ حقیقت یہ ہے کہ منافع کا سب سے بڑا حصہ تاجروں اور بڑے کاروباری افراد کو ملتا ہے۔ وہ دستکار جن کی محنت، پسینہ اور لگن صدیوں پرانے ہنر کو زندہ رکھے ہوئے ہیں، انہیں آمدنی میں نہایت معمولی حصہ ملتا ہے۔ نتیجتاً روایتی دستکاریوں کی کشش دستکاروں، خصوصاً نوجوان نسل، میں مسلسل کم ہوتی جا رہی ہے کیونکہ وہ ان پیشوں میں اپنے مستقبل کو محفوظ اور قابلِ عمل نہیں سمجھتے۔‘‘وفد نے متعلقہ سرکاری محکموں پر زور دیا کہ وہ اس سلسلے میں دستکاروں کی مدد اور رہنمائی کے لیے فعال کردار ادا کریں۔بخاری نے وفد کے مسائل اور خدشات کو بغور سے سنا اور انہیں یقین دلایا کہ وہ ان معاملات کو مناسب اور اعلیٰ ترین سطح پر اٹھائیں گے تاکہ ان کا مؤثر حل یقینی بنایا جا سکے۔انہوں نے کہا، ’’کشمیری دستکاریوں کے تحفظ اور فروغ کی فوری ضرورت ہے کیونکہ یہ کشمیر کی شناخت، ثقافتی ورثے اور فخر کی علامت ہیں۔‘‘