عظمیٰ ویب ڈیسک
سری نگر/ جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کہا ہے کہ پنچایتی راج اداروں (PRIs) کو محض انتظامی اکائیوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ انہیں اختراع، مساوی مواقع، پائیدار ترقی اور عوامی اعتماد کے مراکز کے طور پر ابھرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ نچلی سطح کی حکمرانی، وزیر اعظم نریندر مودی کے ترقی یافتہ بھارت کے وژن کو حقیقت میں بدلنے میں فیصلہ کن کردار ادا کرے گی۔
سری نگر کے SKICC میں ’’سیوا سے سمردھی: پنچایت کے زیرِ قیادت خدمات کی فراہمی‘‘ کے موضوع پر منعقدہ علاقائی ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے ملک بھر سے آئے مندوبین اور پنچایتی نمائندوں کا خیر مقدم کیا اور مرکزی وزارتِ پنچایتی راج کا جموں و کشمیر میں اس ورکشاپ کے انعقاد پر شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ پنچایتوں کے ذریعے عوامی خدمات کی مؤثر فراہمی نظامِ حکمرانی کا ایک اہم ستون ہے اور انتظامیہ مقامی خود حکمرانی کے اداروں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔
منوج سنہا نے کہا کہ ماضی میں جموں و کشمیر میں مکمل طور پر فعال تین سطحی پنچایتی راج نظام موجود نہیں تھا، تاہم گزشتہ چند برسوں میں فنڈز، اختیارات اور عملے کی منتقلی کے ذریعے مقامی اداروں کو بااختیار بنایا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ضلعی ترقیاتی منصوبے منتخب نمائندوں کے اشتراک سے تیار کیے گئے اور دیہی سطح پر طے شدہ ترجیحات کے مطابق ترقیاتی کام انجام دیے گئے، جس کے نتیجے میں دیہات میں کئی مؤثر منصوبے مکمل ہوئے۔
اپنے دورِ اقتدار کے ابتدائی دنوں کو یاد کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ 2020 میں جب وہ جموں و کشمیر آئے تو داربار موو نظام کے تحت تقریباً 154 ٹرک سرکاری فائلیں سری نگر سے جموں منتقل کر رہے تھے۔
انہوں نے کہا، ’’مجھے حیرت ہوئی کہ ڈیجیٹل دور میں بھی انتظامیہ فائلوں کی جسمانی منتقلی پر انحصار کر رہی تھی۔‘‘
انہوں نے بتایا کہ اس کے بعد انتظامیہ نے ڈیجیٹلائزیشن کے عمل کو تیز کیا اور حکومتی نظام کو آن لائن منتقل کیا، جس سے شفافیت اور کارکردگی میں نمایاں بہتری آئی۔
ای گورننس میں حاصل کی گئی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے منوج سنہا نے کہا کہ گزشتہ تین برسوں کے دوران 1100 سے زائد سرکاری خدمات آن لائن فراہم کی گئی ہیں، جس کے باعث جموں و کشمیر ملک کے صفِ اول کے ڈیجیٹل سروس فراہم کرنے والے خطوں میں شامل ہو گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی عوام کو شفاف اور جوابدہ انداز میں خدمات فراہم کرنے کا ایک مؤثر ذریعہ ثابت ہوئی ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ ’’بیک ٹو ولیج‘‘ جیسے عوامی رابطہ پروگراموں نے حکومت اور عوام کے درمیان براہِ راست رابطے کو مضبوط کیا ہے، جس سے حکمرانی عوامی امنگوں سے ہم آہنگ ہوئی ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی کے دیہی ترقی کے وژن کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ترقی یافتہ بھارت کا خواب ترقی یافتہ دیہات کے بغیر ممکن نہیں، اس لیے پنچایتوں کو مضبوط بنانا اور دیہی حکمرانی کو مستحکم کرنا ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکمرانی کی بنیاد عوامی شرکت، اعتماد اور جوابدہی پر ہونی چاہیے اور عام شہریوں کے خواب حکمرانی کی دھڑکن میں محسوس ہونے چاہئیں۔
جموں و کشمیر کی ڈیجیٹل ترقی پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 2016 سے 2018 کے دوران تقریباً دو کروڑ ڈیجیٹل لین دین ہوئے تھے، جبکہ صرف 2023 کے پہلے چھ ماہ میں یہ تعداد 50 کروڑ سے تجاوز کر گئی۔
انہوں نے بتایا کہ جموں و کشمیر میں اس وقت 15 ہزار سے زائد کامن سروس سینٹرز (CSCs) فعال ہیں۔
منوج سنہا کے مطابق 4290 پنچایتوں میں سے 4211 پنچایتیں ڈیجیٹل نیٹ ورک سے منسلک ہو چکی ہیں، جو کہ 98 فیصد سے زائد کوریج بنتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ باقی 79 پنچایتیں دور دراز اور سرحدی علاقوں میں واقع ہیں، جہاں وزیر اعظم کے ’’وائبرنٹ ولیجز پروگرام‘‘ کے تحت مکمل ڈیجیٹل شمولیت کو یقینی بنانے کے لیے کام جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ پنچایتی راج نظام مہاتما گاندھی کے خود کفیل دیہات کے تصور سے ہم آہنگ ہے اور یہ بھارت کی جمہوری روایات اور تہذیبی ورثے میں گہری جڑیں رکھتا ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے نیشنل پنچایت گورننس ایوارڈز جیسے اقدامات کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے اعزازات نچلی سطح کی حکمرانی میں اختراع، شفافیت اور بہترین کارکردگی کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جن پنچایتوں نے ڈیجیٹل ذرائع اور جدید طریقوں کے ذریعے عوامی خدمات کی فراہمی کو بہتر بنایا ہے اور عوامی اعتماد کو مضبوط کیا ہے، ان کی حوصلہ افزائی ضروری ہے۔
منوج سنہا نے ملک بھر میں کامیاب حکمرانی کے ماڈلز کو ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کرنے کے لیے منظم نظام قائم کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایک خطے میں کامیاب ثابت ہونے والے تجربات کو دیگر علاقوں میں بھی اپنانا چاہیے تاکہ حکمرانی اور قومی یکجہتی کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
انہوں نے ہر پنچایت میں ’’ولیج انوویشن لیب‘‘ قائم کرنے کی وکالت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے مراکز مقامی نوجوانوں، کسانوں، تعلیمی اداروں، سائنس دانوں اور سماجی تنظیموں کو مقامی مسائل کے عملی حل تلاش کرنے کے مواقع فراہم کر سکتے ہیں۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ مستقبل کی پنچایتوں کو ڈیجیٹل خدمات تک آسان رسائی، عوامی شمولیت پر مبنی فیصلہ سازی اور زیادہ جوابدہی کو یقینی بنانا ہوگا تاکہ حکمرانی عوام پر مسلط نہ ہو بلکہ عوام خود اس کی تشکیل میں شریک ہوں۔