بلا شبہ انسانی زندگی چند روزہ ہے لیکن اس کی ذمہ داری کئی حصہ زیادہ ہے اور اگر انسان زندگی کے اس مقررہ وقت کو ضائع کرتا ہے تو گویا وہ اپنی زندگی برباد کرتاہے۔اس لئے انسان کے لئے لازم ہے کہ وہ معلومات اور تجربات حاصل کرنے کے لئے ہر دم کوشاں رہے اور زندگی کا کوئی دن ایسا نہ گذرے جس میں وہ اپنے آپ میں کوئی بہتری پیدا نہ کرسکے،ورنہ اس کی زندگی کی کشتی ساحل مقصود تک پہنچ نہیں سکتی۔ظاہر ہے کہ ہر انسان کی زندگی کا کوئی نہ کوئی خاص مقصد ہوتا ہے،جس کے لئے وہ سرگرم عمل رہتا ہے،لیکن یاد رہے کہ تمام لوازمات ِ زندگی سے ہر کوئی لطف اندوز نہیں ہوتا،کیونکہ زندگی میں قسمت کا بھی دخل ہوتا ہے،اس لئے عقلمند وہی ہے جو ہر حال میں اپنی زندگی کو ضروری اور جائز کاموں میں صرف کرےاور خوشحال زندگی بسر کرنے کے لئے نیک نیتی سے کام کرتا رہے۔
آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہماری نوجوان نسل میں تعلیم کے حصول کا مقصد علم، کردار سازی اور صلاحیتوں کی نشوونما کے بجائے صرف ملازمت حاصل کرنے تک محدود رہ گیا ہے اورجب ہمارےنوجوان برسوں محنت کے بعدڈگریاں حاصل کرتے ہیںاورپھر جب اُنہیں مناسب روزگار نہیں ملتا تو وہ مایوسی اور احساسِ ناکامی کا شکار ہو جاتے ہیں۔یہ بھی دیکھنے میں آرہا ہے کہ زیادہ تر نوجوان محنت، جدوجہد اور صبر کے بجائے جلد کامیابی حاصل کرنے کے خواب دیکھتے ہیںاور سوشل میڈیا پر راتوں رات مشہور ہونے والے افراد کو دیکھ کر وہ بغیر محنت کے کامیابی چاہتے ہیںاورجب حقیقت ان توقعات کے برعکس سامنے آتی ہے تو وہ مایوسی کا شکار ہوجاتےہیں۔ حالانکہ اسلام اور عقل دونوں محنت، استقامت اور جدوجہد کا درس دیتے ہیں،اس لئے نوجوانوں کو یہ سمجھنا چاہئے کہ کامیابی کا کوئی مختصر راستہ نہیں ہوتاہے۔بے شک موجودہ دور میںموبائل فون اور سوشل میڈیا نے زندگی کو آسان بنایا ہے، لیکن اس کا غیر ضروری اور حد سے زیادہ استعمال نوجوانوں کی ذہنی صحت پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے۔
گھنٹوں تک سوشل میڈیا پر رہنا، دوسروں کی مصنوعی اور پُرتعیش زندگیوں کو دیکھنا، فضول ویڈیوز میں وقت ضائع کرنا اور حقیقی زندگی سے دور ہونا،اُن کے لئے ڈپریشن کا سبب بنتا ہے۔ظاہر ہے کہ صحت مند جسم اور متوازن ذہن ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں،جبکہ بے ترتیب طرزِ زندگی، نیند کی کمی، ورزش سے دوری، غیر صحت بخش خوراک اور مسلسل ذہنی دباؤ نوجوانوں کی جسمانی قوت متاثر کرتی ہےاور پھرجسمانی کمزوری رفتہ رفتہ ذہنی کمزوری کا باعث بنتی ہے اور نوجوان نسل ڈپریشن، چڑچڑے پن اور نااُمیدی کا شکار ہو جاتی ہے۔ہماری نوجوان نسل اس بات کو ذہن سے نکال دیتی ہے کہ زندگی ہمیشہ انسان کی خواہشات کے مطابق نہیں چلتی،جبکہ کامیابی اور ناکامی، آسانی اور مشکل، خوشی اور غم زندگی کا حصہ ہیں،لیکن وہ اس حقیقت کو قبول کرنے کے بجائے مسلسل پریشانی میں مبتلا رہتی ہے۔بعض نوجوان زندگی کو صرف ایک ہی زاویے سے دیکھتے ہیں۔ اگر کسی ایک شعبے میں ناکامی مل جائے تو وہ پوری زندگی کو ناکام تصور کر لیتے ہیں۔
یہ یک رُخا سوچ بھی ڈپریشن کو بڑھاوا دیتی ہے۔یاد رکھیں کہ حالات کے ساتھ مثبت انداز میں مطابقت پیدا کرنا، صبر و تحمل اختیار کرنا اور مشکلات کو سیکھنے کا ذریعہ سمجھنا ہی انسان کو ذہنی طور پر مضبوط بناتا ہے۔زندگی میں مواقع کے بے شمار دروازے ہوتے ہیں، ایک راستہ بند ہو جائے تو دوسرا راستہ اختیار کیا جا سکتا ہے،کیونکہ تعلیم کے حصول کا مقصد ہی زندگی کو مختلف حالات میں خوبی سےسنبھالنا ہے۔اس لئے انسان کے لئے زندگی میں کامیابی کاراز ہر آنے والے موقع کے لئے تیار رہنا ہے اور جو انسان زندگی کی بقاء کو دوست رکھتا ہے،وہ اپنے دل کو شدائدو مصائب کے تحمل کے لئے آمادہ رکھتا ہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے ہماری تعلیم یافتہ نوجوان نسل زندگی میں کامیابی کے لئے حیوانات کی طرح حلیم ، صابر اور محنت کش بن جائےاوربغیر کسی سے مقابلہ یا موازنہ کئےاپنی زندگی بسر کریں،یہی اعلیٰ اطمینان کی علامت ہے اورپریشانیوں ،ذہنی دبائو اور ڈپریشن سے بچنے کی دوا بھی ہے۔