پرویز احمد
سرینگر //جموں و کشمیر خاص کروادی ذہنی صحت کے بحران کا سامنا کر رہی ہے، جو مسلسل تشدد اور رہائشیوں و نوجوانوں پر اس کے مضر اثرات سے منسلک ہے۔ کشمیر پولیس ریکارڈ نے 2021 میں خودکشی کی کوششوں میں اضافے کا انکشاف کیا ہے، 2021 میں وادی میں 586 واقعات رپورٹ ہوئے، جبکہ 2020 میں یہ تعداد 472 تھی۔ ریاستی ڈیزاسٹر رسپانس فورس (SDRF) کے اعداد و شمار سے بھی اس رجحان کو اجاگر کیا گیا، جس میں فروری 2021 سے اگست 2022 کے درمیان 365 خودکشی کی کوششیں کے دوران127 اموات ریکارڈ کی گئیں۔21 مئی 2004 کو نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن آف انڈیا کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کشمیر میں 1990 سے 2004 کے دوران 14 سال کی سماجی و سیاسی بدامنی کے دوران 20,000 افراد نے خودکشی کی کوشش کی ہے۔ ان میں سے 3,000 کوششوں کے نتیجے میں موت واقع ہوئی، جن میں سے زیادہ تر خودکشی کرنے والوں میں سے 16سے 25سال کی عمر کے تھے۔جموں و کشمیر میں عملی طور پر کوئی محلہ ایسا نہیں ہے جس میں خودکشی کے واقعات نہ ہوں۔Mdecins Sans Frontires کی طرف سے کرائے گئے “کشمیر مینٹل ہیلتھ سروے” کے نام سے 2015 کے ایک مطالعہ نے انکشاف کیا ہے کہ شورش سے پہلے خودکشی کی شرح 0.5 فی ایک لاکھ افراد سے بڑھ کر فی لاکھ 13 فیصد ہو گئی ہے۔ نیشنل کرائم بیورو کے مطابق جموں و کشمیر میںایک سال کے دوران خود کشی کے واقعات میں 13فیصد اضافہ ہوا ہے۔خود کشی کرنے والے افراد میں سب سے زیادہ شرح 42فیصد ، 15سے 29سال کے عمر کے زمرے میں آنے والے نوجوانوں کی ہے۔ نوجوانوں میں خود کشی کے بڑھتے ہوئے رحجان کی بڑی وجوہات میں مالی مسائل ، گھریلوں تنازعات، تعلیمی دبائو ، نشیلی ادویات کا استعمال ، ذہنی بیماریوں ، بے روزگاری اور رشتوں میں ناکامی ہے۔نیشنل کرائم بیورو کے مطابق سال 2022سے 2023کے درمیان ملکی سطح پر مجموعی طور پر 1769افراد نے خود کشی کرنے کی کوشش کی جن میں سب سے زیادہ 497افراد کا تعلق جموں و کشمیر سے تھا ۔اس عرصے کے دوران نہ صرف خود کشی کی کوشش کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا بلکہ خود کشی کرنے سے جان گنوانے والوں کی شرح میں 13فیصد اضافہ ہوا ہے۔ سال 2020میں 287نوجوانوں کی موت ہوئی ہے۔ اسی طرح سال 2022میں مرنے والوں کی تعداد 323تھی جبکہ سال2023میں مرنے والوں کی تعداد 13فیصد اضافہ کے ساتھ 365 کی تھی ۔
خود کشی کی اہم وجوہات
بھارت میں مختلف ماہر نفسیات جہاں تنائو، بے روزگاری، گھریلو تشدد، پڑھائی اور نشیلی ادویات کو خود کشی کے رحجان میں اضافہ کی بڑی وجہ قرار دے رہے ہیں، وہیں ماہر ین کا کہنا ہے کہ طرز زندگی میں تبدیلی اورتجدید، پڑھائی کا دبائو ، بے روزگار اور نشیلی ادویات کے علاوہ نفسیاتی بیماریاں خود کشی کی بڑی وجوہات بن کر سامنے آئی ہے۔جنرل آف سوشل ریسپاسیبلٹی، ٹورئمز اینڈ ہاسپٹلیٹی کے مطابق جموں و کشمیر میں خود کشی کرنے والے 90فیصد نوجوان نشیلی ادویات کا استعمال کرنے کے عادی ، 75فیصد بے روزگار، 35فیصد میں تعلیم کا دبائو اور 50فیصد میں تنہائی ہوتی ہے۔
خود کشی کرنے والوں کی عمر
خودکشی کرنے والوں کا زیادہ رحجان 18سے 29سال کے نوجوانوں میں پایا جاتا ہے،جو نشیلی ادویات ، بے روزگاری اور گھریلو تشدد کی وجہ سے خودکشی کررہے ہیں۔ خود کشی کی کوشش کرنے والوں میں 42فیصد کی عمر 18سے 29سال کے درمیا ن ہے ۔ اس کے علاوہگورنمنٹ میڈیکل کالج اننت ناگ کے شعبہ فارنسک میڈیسن کے مطابق خودکشی کی کوشش کرنے والوں میں 1سے 14سال تک کے 1فیصد، 15سے 29سال تک کے 42فیصد30سے 44سال تک کے 27فیصد،45سے 59سال تک کے 19فیصد اور 60سال کی زیادہ عمر کے 11فیصد افراد شامل ہوتے ہیں۔
خود کشی کرنے کا طریقہ
خود کشی کرنے والے 46فیصد افراد نے گھروں میں موجود کیمیائی ادویات کا استعمال کیا جبکہ پھانسی دینا ، دریاء میں چھلانگ لگانا اور خود کو آگ لگانے کے طریقے بھی استعمال کئے گئے ہیں۔ شعبہ فارنسک میڈیسن کے مطابق 46فیصد نوجوانوں نے گھروں میں موجود کیمیات جیسے کھاد ، چوہے مار ادویات وغیر ہ کا استعمال کیا ، اس کے علاوہ 17فیصد نے خود کو پھانسی ، 16فیصد نے خود کو آگ لگانے،10فیصد نے دریاء میں چھلانگ لگا کر اور 8فیصد نے زہر کھاکر خودکشی کرنے کی کوشش کی ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ خودکشی کرنے والے نوجوانوں کی اکثریت مشکلات کی وجہ سے نشیلی ادویات کی عادی ہوگی تھی۔
ماہرین کی رائے
ماہر نفسیات کا کہنا ہے کہ بچوں کی صحیح دیکھ ریکھ اور نوجوانوں کو بروقت روزگار فراہم کرنے میں کامیاب ہو نے سے 65فیصد سے زائد خودکشی کے واقعات پر روک لگ سکتی ہے۔ انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ اینڈ نیرو سائنسز نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’ 36فیصد نوجوان بے روزگاری کی وجہ سے پیدا ہونے والی مالی مشکلات کی وجہ سے خود کشی جیسا انتہائی سنگین قدم اٹھاتے ہیں اور اگر نوجوانوں کو بروقت روزگار، گھریلو تنائو سے دور اور دبائو نہ ڈلیں تو 30فیصد سے زائد خود کشی کے واقعات کو روکا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر والدین سنجیدگی کا مظاہرہ کریں تو 90فیصد خودکشی کے واقعات کو ٹالا جاسکتا ہے لیکن بدقسمتی سے ایسا نہیں ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ذہنی دبائو ، نشیلی ادویات کے عادی اور مالی مشکلات کے علاوہ رشتوں میں ناکام نوجوانوں کی کونسلنگ کیلئے ٹیلی مانس نام سے ٹول فری نمبر دستیاب ہے اور تنائو اور مشکلات میں پھنسا کوئی بھی نوجوان ٹال فری نمبر 14416پر فون کرکے کونسلنگ حاصل کرسکتا ہے۔