آبادی کیلئے پینے کے صاف پانی کا انتظام نہ ہی کوئی سڑک رابطہ
اشرف چراغ
کپوارہ// سرحدی ضلع کپوارہ میں21ویں صدی میں بھی ایک ایسا علاقہ ہے جہاں بجلی نہیں ہے اور یہاں ہزاروں لوگ اپنے گھروں میں پرانے زمانے کی طرح موم بتیاں،لال ٹین اور مشعل کا استعمال کررہے ہیں۔بڈنمبل علاقہ اکیسوی صدی میں بھی ان بنیادی سہولیات سے محروم ہے ۔ بہتر سڑک رابطہ ،پینے کا صاف پانی اور بجلی جیسی بنیادی سہولیات موجود نہیں ہیں، جس کی وجہ سے یہ علاقے کپوارہ ضلع کے پسماندہ ترین علاقے قرار دیئے جاتے ہیں۔ کچھ حصوں کو بجلی سپلائی سے جو ڑ دیا گیا ہے ۔ ابھی بھی ان علاقوں کے لوگ قدیم طرز زندگی گزار رہے ہیں اور یہا ں کے لوگ جدید دور میں بھی ترقی سے پیچھے ہیں ۔موجودہ سائنسی دور میں لوگو ں کا رہن سہن تیزی سے بدل رہا ہے اورجدید ٹیکنالوجی سے بہتر سڑک رابطے اور بدلتے ہوئے طرز زندگی نے رہائشو ں کی ترجیحات کو بالکل نیا روپ دے دیا ہے لیکن ضلع کپوارہ کے 4دیہات ونڈ دجی، موری کلاروس، لشہ ڈیٹ ہیہامہ اور کمکڈی ہیہامہ میں رہائش پذیر آبادی سب کی نظروں سے اوجھل ہے۔یہاں ان چار دیہات کے لوگوں سے ہر ایک الیکشن میں سیاستدانوں نے ووٹ تو ضرور بٹور لئے لیکن ان پر پیسہ خرچ نہیں کیا تاکہ کم سے کم یہاں بجلی کی سہولیات کو دستیاب کیا جاسکے۔
ونڈ دجی
ونڈ دجی بڈنمبل کے لوگو ں کے لئے یہ سب سہولیات ایک خواب ہے ۔ علاقہ شمالی ضلع کپوارہ کا ایک سر حدی گائو ں ہے جو لائن آف کنٹرول کے بالکل نزدیک ہے ۔ہمالیائی سلسلے اور شمس بری پہا ڑی کے درمیان واقع ونڈ دجی قدرت کا ایک حسین شاہکار ہے لیکن اس علاقہ کو حکومت نے یکسر نظر انداز کر دیا ۔یہا ں کی کئی نسلو ں نے آج تک بجلی کی روشنی تک نہیں دیکھی اور وہ یہی خواہش لیکر اس دنیا سے بھی رخصت ہوئے۔ ونڈ دجی کا سفر کرنا بھی بہت مشکل ہے ۔ علاقہ کی طرف جانے والا راستہ دشوار ہی نہیں بلکہ لوگو ں کو پگڈنڈیو ں کا سہارا لیکر یہا ں پہنچنا پڑتا ہے ۔یہاں تقریباً 400 نفوس آباد ہیں اور حلقہ پنچایت بڈنمبل کے دو وارڈوں میںبجلی کی سہولت نہیں ہیں۔ بڈنمل کے باقی حصوں کو بجلی سپلائی سے جوڑ دیا گیا ہے لیکن ونڈ دجی کے مکین ابھی تک روشنی کی ایک جھلک کیلئے ترس رہے ہیں ۔ونڈ دجی میں ایک سرکاری سکول بھی ہے اور وہ بھی بجلی سپلائی سے محروم ہے ۔یہاں آج تک کوئی پختہ سڑک بھی نہیں ہے۔
موری
موری ضلع صدر مقام سے محض 15 کلو میٹر ہے تاہم بجلی سپلائی سے محروم ہے ۔موری ایک بہت بڑا گائوں ہے جو 9 پنچایت وارڈوں پر مشتمل ہے ۔یہاں کی آبادی قریب 1800 ہے ۔یہاں 5 پرائمری اور ایک مڈل سکول بھی قائم ہے لیکن آج تک بجلی سپلائی سے محروم رکھا گیا ہے ۔یہاں نہ کوئی سڑک ہے اور نہ گاڑیوں کی آمد و رفت ہے ۔
لشہ ڈٹ اور کمکڈی
علاقہ ہایہامہ کی ایک چھوٹی سی بستی ہے۔ محکمہ بجلی کے ریکارڈ کے مطابق لشہ ڈٹ بجلی کے بغیرہے۔ زمینی صورتحال کے مطابق لشہ ڈٹ کی آبادی نے 90 کی دہائی میں یہاں سے ضلع کے مختلف علاقوں میں ہجرت کی اور کئی گھر کمکڑی ہایہا مہ میں سکونت پذیرہوئے اور لشہ ڈٹ ایک ویران بستی بن کر رہ گئی ۔کمکڑی ایک چھوٹا، سا گائوں ہے۔یہاں 50 گھرانے ہیں اور یہاں کی آبادی قریب 400 ہے لیکن آج تک بجلی سپلائی سے نہیں جوڑا گیا ہے ۔لوگوں کے مطابق کئی سال قبل محکمہ بجلی نے دین دیال سکیم کے دائرے میں اس بستی کو لایا لیکن پھرکسی کو کوئی پتہ نہیں چلا کہ اس سکیم کا کیا ہوا۔