ایجنسیز
بینکاک// جمعہ کے روز عالمی حصص بازاروں میں ملا جلا رجحان دیکھنے میں آیا جبکہ امریکی فیوچرز میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کی وجہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے معاہدے سے پیدا ہونے والی امیدوں کو دھچکا لگنا تھا، کیونکہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات کی بحالی اور آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل دوبارہ شروع کرنے سے متعلق اہم مذاکرات ملتوی کر دیے گئے۔امریکی مالیاتی منڈیاں جون ٹینتھ کی تعطیل کے باعث جمعہ کو بند رہیں گی۔سوئٹزرلینڈ میں ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے مجوزہ مذاکرات مؤخر کر دیے گئے، جبکہ اسرائیلی فوج کے مطابق اس کی افواج نے رات بھر جنوبی لبنان میں مختلف اہداف کو نشانہ بنایا۔ دوسری جانب حزب اللہ نے علاقے میں شدید جھڑپوں کی اطلاع دی ہے۔رابو ریسرچ کے ماہرباس فان گیفن نے اپنے تبصرے میں کہا،’’دونوں فریق نیک نیتی کا مظاہرہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن اگرچہ حالات بظاہر پرسکون دکھائی دے رہے ہیں، پھر بھی پس منظر میں شدید تناؤ موجود ہے۔ یہ معاہدہ کئی حوالوں سے اب بھی کمزور ہے۔‘‘اس کے باوجود ابتدائی یورپی کاروبار میں جرمنی کاDAX انڈیکس 0.4 فیصد اضافے کے ساتھ 25,129.38 پوائنٹس پر پہنچ گیا، جبکہ پیرس کا CAC 40 بھی 0.4 فیصد بڑھ کر 8,499.08 پوائنٹس تک جا پہنچا۔ برطانیہ کا FTSE 100 معمولی اضافے کے ساتھ 10,406.28 پوائنٹس پر بند ہوا۔S&P 500 فیوچر میں 0.2 فیصد جبکہ ڈاؤ جونز انڈسٹریل ایوریج فیوچر میں 0.1 فیصد سے بھی کم کمی دیکھی گئی۔ٹوکیو کا نکی 225 انڈیکس اتار چڑھاؤ کے بعد 0.3 فیصد اضافے کے ساتھ 71,250.06 پوائنٹس کی نئی ریکارڈ سطح پر بند ہوا۔ حکومت کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق تازہ غذائی اشیا کو نکال کر افراطِ زر کی شرح میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ایندھن کی بلند قیمتوں کے باعث آنے والے مہینوں میں مہنگائی میں اضافہ متوقع ہے۔زیادہ افراطِ زر کے خدشات کے باعث بینک آف جاپان نے رواں ہفتے اپنی بنیادی شرح سود بڑھا کر 1 فیصد کر دی، جو گزشتہ تین دہائیوں کی بلند ترین سطح ہے۔جنوبی کوریا کا کوسپی انڈیکس 0.1 فیصد کمی کے
ساتھ 9,052.42 پوائنٹس پر بند ہوا جبکہ آسٹریلیا کا S&P/ASX 200 انڈیکس 0.9 فیصد گر کر 8,828.70 پوائنٹس پر آ گیا۔بھارت کا سینسیکس بھی 0.9 فیصد نیچے رہا۔ڈریگن بوٹ فیسٹیول کے باعث ہانگ کانگ، شنگھائی اور تائیوان کی مارکیٹیں بند رہیں۔جمعرات کے روز وال اسٹریٹ میں حصص کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا اور ایک روز قبل کے بیشتر نقصانات پورے ہو گئے۔ سرمایہ کاروں کو خدشہ تھا کہ فیڈرل ریزرو مہنگائی پر قابو پانے کے لیے رواں سال شرح سود میں مزید اضافہ کر سکتا ہے۔ٹیکنالوجی کمپنیوں کے حصص میں سب سے زیادہ تیزی دیکھی گئی۔ انٹیل کے حصص 10.6 فیصد بڑھ گئے، جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ یہ کمپنی امریکہ میں ایپل کے لیے چپس تیار کرے گی۔ دیگر سیمی کنڈکٹر کمپنیوں کے حصص بھی اوپر گئے۔اینویڈیا 3 فیصد جبکہمائکرون ٹیکنالوجی 8.7 فیصد اضافے کے ساتھ بند ہوئی۔دوسری جانب اسپیس ایکس کے حصص میں مسلسل دوسرے روز بھی کمی دیکھی گئی۔ ایلون مسک کی راکٹ اور مصنوعی ذہانت کی کمپنی کے حصص 3.6 فیصد گر گئے، جبکہ بدھ کو بھی ان میں 4.9 فیصد کمی آئی تھی۔امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو تیل بردار جہازوں کے لیے دوبارہ کھولنے کے معاہدے کے بعد تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ رہا۔ برینٹ کروڈ 0.4 فیصد اضافے کے ساتھ 79.85 ڈالر فی بیرل پر بند ہوا، جبکہ امریکی خام تیل 0.2 فیصد کمی کے ساتھ 75.85 ڈالر فی بیرل رہا۔