پیرزادہ واحد احمد
اس حقیقت سے کسی کو انکار نہیں ہے کہ قوموں کی ترقی اور عروج کا راز اسلاف کی تعلیمات ، کردار اور قربانیوں میں پوشیدہ ہوتا ہے۔ ہمارے اسلاف کے دلوںمیں کتاب دوستی،دین کی پاسداری،انصاف پسندی، اخلاق نوازی اور حق گوئی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی ۔یہاں اسلاف سے مراد ہمارے صحابہ، تبع تابعین، بزرگان دین وغیرہ ہیں۔ہمارے اسلاف کے انصاف پسند اصول اور باکردار زندگی ہمارے لیے اور آنے والے نسلوں کے لیے ایک مشعل راہ ہے۔ ہمارے اسلاف نے دین کی خاطر بہت ساری قربانیاں پیش کیں ہیں اور اُنہیں طرح طرح کے صعوبتوں سے گزرنا پڑاہے۔ یہاں اگر یہ کہا جائے کہ ہمارے اسلاف کی قربانیوں کی وجہ سے دین زندہ جاوید ہے تو بے جا نہیں ہوگا، کیونکہ کربلا میں حضرت امام حسینؑ اور ان کے 72 ساتھیوں نے حق گوئی اور سچائی کا جھنڈابلند رکھا۔ اگر خدا نخواستہ اُس وقت سچائی اور حق گوئی کاجھنڈا بلند نہ ہوتا تو آج اس پر آشوب دور میں کوئی بھی سچائی کا ساتھ نہ دیتا۔ ہمارے صحابہ کرام حضرت بلال حبشیؓ، جنہوں نے تمام طرح کے مظالم برداشت کیے اور ان پر ظلم کے پہاڑ توڑے گئے مگر اپنے ایمان پر ڈٹے رہے ۔حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اُنھیں سید الموذنین کہا اور وہ ایک سچے عاشق رسول تھے۔الغرض یہی وہ ہستیاں ہیں جو ہمارے لیے اور آنے والی نسلوں کے لیے مشعل راہ ہیں ۔
یہ ہمارے اسلاف ہی تھے جنہوں نے ہزاروں میل سفر طے کر کے ہم تک دین الٰہی کا پیغام پہنچایا۔یہ ہمارے اسلاف کے اخلاق ہی تھے کہ جن کے سبب وادی کشمیر کے رہنے والے لوگوں کے دل نرم پڑے اور اُن سے متاثر ہوئے، پھر اس کے بعد دین اسلام جیسی عظیم نعمت سے فیضاب ہوئے۔کشمیر میں اسلام اور اس کی اشاعت میں سب سے بڑا نام سید شرف الدین عبد الرحمان بلبل شاہؒ جو کہ صوفیا تھے، نے کشمیر کے پہلے مسلمان رینچن شاہ کو اسلام کی دعوت دی، اس کے بعدحضرت امیر کبیر سید علی ہمدانی ؒ نے اپنے ہزاروں عقیدت مندوں کے ساتھ کشمیر میں اسلام کو بڑے پیمانے پر پھیلایا۔ہمارے اسلاف نے وقتاً فوقتاً اپنے دین کی سربلندی کے لیے قربانیاں پیش کیں ،چاہے وہ دین کی تبلیغ کی ہو یا دوسرے حوالے سے۔
اب اگرآج کی نوجوان نسل پر نظر ڈالیں تو وہ نہ صرف اپنے اسلاف کی قربانیوں سے ناواقف ہیں بلکہ وہ اُن کے ناموں سے بھی ناآشناہیں ۔ایسی قوم کا کیا بنے گا جو اپنے اسلاف کو چھوڑ کر اوروں کو اپنے ہیروز ماننے لگے ہوں۔ آج کا ہمارا نوجوان نہ صرف اسلامی روایات بھول چکا ہے بلکہ اسلام کے بتائے ہوئے اصولوں سے بھی بےخبر ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے تعلیمی نصاب میں ہمارے اسلاف کا تذکر ہ بھی شامل کیا جائے۔ چاہے وہ سرکاری نظام تعلیم ہو یا نجی۔ تاکہ ہماری موجودہ نوجوان نسل اور آنے والی نسلیں اپنے اسلاف کے طرزِ زندگی سے مستفید ہوجائیںاوراپنی زندگیوںمیں سدھار لاکراخلاقیات ،حق گوئی ،سچائی اور انصاف پسندانہ اصولوںکے مطابق گزر بسر کریں۔ اس سے یہ فائدہ بھی ہوگا کہ ہمارے معاشرے میںدیندار، باکردار اور انسان دوست افراد جنم لے سکیں گے ۔یا رکھیں کہ معاشرہ تب تک نہیں بدلتا، جب تک معاشرے کے افراد خود کو نہ بدلیں، ورنہ وقت صرف چہرے بدلتا ہے کردار نہیں۔
(طالبعلم، سینٹرل یونیورسٹی آف کشمیر )