محمد فرقان
امیر المومنین حضرت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی پیدائش مکۃ المکرمہ میں قبیلہ بنو عدی میں خطاب بن نفیل کے گھر ہوئی۔ آپؓ صحابی رسول اور مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ راشد ہیں۔ آپؓ کا شمار عشرے مبشرہ جن کو دنیا میں جنت کی بشارت ملی، ان میں ہوتا ہے۔ حضرت عمر ؓرسول اللہ ؐ کے خسربھی ہیں ۔آپؓ کی صاحبزادی ام المومنین حضرت سیدہ حفصہؓ، رسول اللہؐ کی ازواج میں سے ایک ہیں۔آپ ؓکا لقب فاروق، کنیت ابو حفص ہے۔ لقب و کنیت دونوں محمدؐ کے عطا کردہ ہیں۔ آپ کا نسب نویں پشت میں رسول اللہ ؐسے جا ملتا ہے۔ حضرت عمر فاروقؓ کا شمار مکہ کے ان لوگوں میں ہوتا تھا جو پڑھ لکھ سکتے تھے۔ جب حضور ؐ نے پہلے اسلام کی تبلیغ شروع کی تو حضرت عمر ؓاسکے مخالف تھے۔ آپ ؐ کی دعا سے آپؓ نے نبوت کے چھٹے سال ستائیس برس کی عمر میں چالیس مردوں اور گیارہ عورتوں کے بعد مشرف بہ اسلام ہوئے۔ اسی لئے آپکو مراد رسولؐ کہا جاتا ہے۔’’آپ ؓکے اسلام لانے پر فرشتوں نے بھی خوشیاں منائی تھیں‘‘ (مستدرک حاکم)۔ ہجرت کے موقعے پر کفار مکہ کے شر سے بچنے کیلئے سب نے خاموشی سے ہجرت کی، مگر آپؓ کی غیرت ایمانی نے چھپ کر ہجرت کرنا گوارا نہیں کیا۔ آپؓ نے تلوار ہاتھ میں لی، کعبہ کا طواف کیا اور کفار کے مجمع کو مخاطب کر کے کہا ’ ’تم میں سے اگر کوئی شخص یہ چاہتا ہو کہ اس کی بیوی بیوہ ہو جائے، اس کے بچے یتیم ہوجائیں تو وہ مکہ سے باہر آکر میرا راستہ روک کر دیکھ لے۔‘‘ مگر کسی کافر کی ہمت نہ پڑی کہ آپ کا راستہ روک سکتا۔ رسول اللہ ؐ نے آپ ؓکو مخاطب کرتے ہوئے ایک دفعہ ارشاد فرمایا کہ ’’ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، آپ جس راستے پر چلتے ہیں شیطان وہ راستہ چھوڑ کر دوسرا راستہ اختیار کرلیتا ہے‘‘ (مصنف ابن ابی شیبہ)۔ ہجرت کے بعد عمر فاروقؓ تمام غزوات میں رسول اللہؐ کی معیت میں رہے۔
حضرت سیدنا عمر فاروقؓ کفر و نفاق کے مقابلہ میں بہت جلال والے تھے اور کفار و منافقین سے شدید نفرت رکھتے تھے۔ ایک دفعہ ایک یہودی و منافق کے مابین حضور ؐ نے یہودی کے حق میں فیصلہ فرمایا مگر منافق نہ مانا اور آپؓسے فیصلہ کیلئے کہا۔ آپؓ کو جب علم ہوا کہ نبیؐ کے فیصلہ کے بعد یہ آپ سے فیصلہ کروانے آیا ہے تو حضرت عمر فاروقؓ نے اس کو قتل کر کے فرمایا جو میرے نبیؐکا فیصلہ نہیں مانتا ،میرے پاس اس کا یہی فیصلہ ہے۔کئی مواقع پر نبی کریمؐ کے مشورہ مانگنے پر جو مشورہ حضرت فاروق اعظم ؓ نے دیا قرآن کریم کی آیات مبارکہ اس کی تائید میں نازل ہوئیں۔
حضرت عمر فاروقؓ باعظمت، انصاف پسند اور عادل حکمران تھے۔ان کی عدالت میں مسلم و غیر مسلم دونوں کو یکساں انصاف ملا کرتا تھا۔ حضرت عمر ؓحق و صداقت کے علمبردار تھے۔حضرت ابوبکر صدیقؓ اپنے وقت وصال امت کی زمام آپؓ ہی کے سپرد کی تھی، 22؍جمادی الثانی 13؍ ھجری کو آپ مسند نشین خلافت ہوئے۔آپ ؓکے دور خلافت میں عراق، مصر، لیبیا، سرزمین شام، ایران، خراسان، مشرقی اناطولیہ، جنوبی آرمینیا اور سجستان فتح ہو کر مملکت اسلامی میں شامل ہوئے۔ آپؓ ہی کہ دور ِخلافت میں پہلی مرتبہ یروشلم فتح ہوا، اس طرح ساسانی سلطنت کا مکمل رقبہ اور بازنطینی سلطنت کا تقریباً تہائی حصہ اسلامی سلطنت کے زیر نگین آگیا۔آپ ؓنے 22؍لاکھ مربع میل کے رقبے پر اسلام کا جھنڈا لہرایا اور قبلہ اول بیت المقدس کی شاندار فتح کا سہرا بھی آپ کے سر ہے۔ حضرت عمر بن خطاب ؓنے جس مہارت، شجاعت اور عسکری صلاحیت سے ساسانی سلطنت کی مکمل شہنشاہیت کو دو سال سے بھی کم عرصہ میں زیر کر لیا، نیز اپنی سلطنت و حدود سلطنت کا انتظام، رعایا کی جملہ ضروریات کی نگہداشت اور دیگر امور سلطنت کو جس خوش اسلوبی اور مہارت و ذمہ داری کے ساتھ نبھایا، وہ ان کی عبقریت کی دلیل ہے۔آپؓ کا دور خلافت عدل و انصاف کا درخشندہ باب اور مثالی دور ہے نیز بہت مبارک اور اشاعت و اظہار اسلام کا باعث تھا۔ آپؓ ہی نے تقویم اسلامی (اسلامی کیلنڈر) کی ابتداء ہجرت مدینہ کی بنیاد پر یکم محرم الحرام سے کروائی۔ مفتوحہ علاقوں میں900؍جامع مساجد اور 4000؍ عام مساجد تعمیر کروا کر اس میں تعلیم و تدریس کا انتظام کروایا، جب کہ حرمین شریفین کی توسیع بھی آپؓ کے دور خلافت میں ہوئی۔تاریخ کی سب سے پہلی مردم شماری ،کرنسی سکہ کا اجراء،مہمان خانوں(سرائے) کی تعمیر،لاوارث بچوں کی خوراک ،تعلیم و تربیت کا انتظام اور وطائف کا اجراء دور فاروقی میں کیا گیا۔ آپؓ کا مقام و مرتبہ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ نبی کریم ؐنے فرمایا کہ ’’میرے بعد اگر کوئی نبی ہوتے تو عمر بن خطاب ہوتے۔‘‘(ترمذی شریف)
27 ؍ذی الحجہ سن 23ھ بروز بدھ کو مسجد نبوی میں حضرت عمر فاروقؓ فجر کی نماز کی امامت کررہے تھے۔نماز کے دوران ابو لؤلؤفیروز نامی بدبخت مجوسی غلام نے زہر آلود خنجر سے آپؓ کے جسم مبارک پر تین چار وار کئے۔ جس کی وجہ سے حضرت عمرؓ زخمی ہوکر گر پڑے۔ حضرت عبد الرحمن بن عوفؓ نے نماز پڑھائی۔ آپؓ کو بے ہوشی کے حالات میں گھر لایا گیا۔ ہوش آنے پر آپکو جب یہ بتایا گیا کہ حملہ آور مجوسی تھا تو آپ ؓنے اس بات پر اللہ کا شکریہ ادا کیا کہ حملہ آور مسلمان نہیں تھا۔آپؓ کے علاج کے باوجود افاقہ نہیں ہو رہا تھا،اس دوران اپنے بیٹے عبداللہ بن عمرؓ کو حکم دیا کہ وہ اماں عائشہ ؓ کے پاس جاکر کہیں کہ ’’عمر کی خواہش ہے کہ انہیں اپنے رفقا ء کے جوار میں دفن ہونے کی اجازت دے دی جائے‘‘۔حضرت عمر فاروقؓ کا پیغام سننے کے بعد حضرت عائشہ صدیقہؓ نے فرمایا کہ ’’بخدا یہ جگہ میں نے اپنے لیے منتخب کرلی تھی ،لیکن آج کے دن میں یہ قربان کئے دیتی ہوں۔‘‘ تین دن کرب میں گزارنے کے بعد آپؓ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے یکم محرم الحرام سن 24 ھ جام شہادت نوش فرماگئے۔آپؓ کی نماز جنازہ حضرت صہیب رومیؓ نے پڑھائی۔ (المنتظم) روضۂ نبوی میںخاتم النبیین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور خلیفہ ٔاول حضرت ابوبکر صدیقؓ کی پہلو میں حضرت عمرفاروقؓ کی قبر مبارک بنائی گئی اور یوں عدل و انصاف کا آفتاب ومہتاب غروب ہو گیا۔ یہ مشیعت خداوندی ہی ہے کہ اسلامی سال کی ابتداء ہی شہادت سیدنا عمر فاروقؓ سے ہوتی ہے اور پھر مرقدرسول اللہؐ کے سرہانے تاقیامت استراحت کیلئے دو گز جگہ بھی عطا فر مادی گئی۔ قیامت تک جو بھی مسلمان روضۂ اقدس میںسلامی کیلئے حاضر خدمت ہوگا ،وہ حضرت ابوبکر صدیقؓ اور حضرت عمر فاروقؓ پر سلام بھیجے بغیر آگے نہ بڑھ سکے گا۔ دشمنان صحابہ کا منہ بند کرنے کیلئے یہ ایک اعزاز خداوندی ہی کافی ہے۔
رابطہ۔8495087865