عظمیٰ نیوز سروس
کولکاتا// مغربی بنگال میں اقتدار کی تبدیلی کے بعد سابق وزیر اعلیٰ اور ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی ایک بار پھر اپنے پرانے “اسٹریٹ فائٹر” انداز میں میدان میں آ گئی ہیں۔ ریاستی حکومت کی جانب سے سرکاری اراضی اور ریلوے املاک پر قائم تجاوزات کے خلاف جاری مہم کے خلاف ممتا بنرجی نے کولکاتا کی سڑکوں پر احتجاجی تحریک شروع کر دی ہے۔لکاتا کے دھرم تلہ علاقے میں ممتا بنرجی کی قیادت میں انسانی زنجیر اور احتجاجی مارچ کا انعقاد کیا گیا۔ گلے میں احتجاجی پلے کارڈ لٹکائے ممتا بنرجی نے غریب دکانداروں اور ریڑھی بانوں کے روزگار کے تحفظ کا مطالبہ کیا۔
ان کے ساتھ ترنمول کانگریس کے چند قریبی ساتھی، جن میں کنال گھوش اور ڈولا سین شامل تھے، مارچ میں شریک نظر آئے۔احتجاج سے خطاب کرتے ہوئے ترنمول قیادت نے حکومت پر شدید تنقید کی اور کہا کہ ہزاروں غریب خاندانوں کے روزگار کا کوئی متبادل انتظام کیے بغیر ان کی دکانیں مسمار کرنا غیر انسانی اور غیر قانونی اقدام ہے۔ پارٹی کا مؤقف ہے کہ حکومت طاقت کے زور پر غریب عوام کا ذریعہ معاش چھین رہی ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اس احتجاج نے ایک نئی سیاسی صورتحال کو جنم دیا ہے۔ماضی میں ممتا بنرجی کے ساتھ ہر تحریک میں پیش پیش رہنے والے کئی سینئر اور بااثر رہنما اس احتجاج میں نظر نہیں آئے، جس سے پارٹی کی اندرونی کمزوریوں پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ بائیں بازو کی جماعتوں کی دوبارہ ابھرتی ہوئی سرگرمیاں ترنمول قیادت کے لیے تشویش کا باعث بنی ہوئی ہیں۔جادھوپور، کالج اسٹریٹ اور دیگر علاقوں میں بائیں بازو کے کارکن تجاوزات ہٹانے کے خلاف عوامی حمایت حاصل کرنے میں مصروف ہیں، جس کے پیش نظر ممتا بنرجی نے خود میدان میں اترنے کا فیصلہ کیا۔ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران سیالدہ، ہاوڑہ، جادھوپور، کرشن نگر اور بنکورا سمیت کئی علاقوں میں تجاوزات کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیاں کی گئی ہیں۔ اگرچہ بہت سے شہریوں نے ان اقدامات کا خیر مقدم کیا ہے، تاہم ہزاروں ریڑھی بان اور چھوٹے تاجر اپنے روزگار سے محروم ہو گئے ہیں۔