جب تک میں وائٹ ہاؤس میں ہوں، بھارت کا امریکہ میں ایک دوست موجود رہیگا:ٹرمپ
سریندر اوبرائے
نئی دہلی// وزیر اعظم نریندر مودی اور امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز جی۔7سربراہی اجلاس کےحاشئے پر تفصیلی دو طرفہ ملاقات کی، جس میں مغربی ایشیا کی بدلتی صورتحال، بحری سلامتی، دفاعی تعاون اور علاقائی استحکام سمیت مختلف اہم امور پر گفتگو کی گئی۔ دونوں رہنماؤں نے ہند۔امریکہ تزویراتی شراکت داری کی مضبوطی کا اعادہ بھی کیا۔یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی جب امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ معاہدے پر عمل درآمد اور آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری آمدورفت کی بحالی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل اور بھارت کی تیل درآمدات کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ تصور کی جاتی ہے۔سربراہی اجلاس کے موقع پر گزشتہ روز غیر رسمی ملاقات اور مصافحے کے بعد یہ گزشتہ 16 ماہ میں دونوں رہنماؤں کی پہلی باضابطہ ملاقات تھی۔ملاقات کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسے نہایت مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور بھارت کے درمیان تعلقات مضبوط اور دیرینہ ہیں۔ انہوں نے کہا ’’جب تک میں وائٹ ہاؤس میں ہوں، بھارت کا امریکہ میں ایک دوست موجود رہے گا‘‘۔صدر ٹرمپ نے وزیر اعظم مودی کی قائدانہ صلاحیتوں کی تعریف کرتے ہوئے انہیں ایک مضبوط اور مؤثر مذاکرات کار قرار دیا اور کہا کہ بھارت عالمی معاملات خصوصاً مغربی ایشیا سے متعلق اہم امور میں بڑھتا ہوا کردار ادا کر رہا ہے۔
ملاقات کے دوران وزیر اعظم مودی نے بھارتی ملاحوں اور سمندری کارکنوں کی سلامتی کا معاملہ بھی اٹھایا۔ انہوں نے حالیہ خلیجی کشیدگی کے دوران ایک آئل ٹینکر پر میزائل حملے میں تین بھارتی عملہ ارکان کی ہلاکت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر کے سمندروں میں لاکھوں بھارتی ملاح خدمات انجام دے رہے ہیں اور ان کی حفاظت کو یقینی بنانا بے حد ضروری ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ بحری راستوں کی آزادی اور محفوظ آمدورفت عالمی تجارت اور توانائی کی سپلائی کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایران سے متعلق ابھرتے ہوئے امن معاہدے میں ملاحوں کی سلامتی کو خصوصی اہمیت دی جائے گی۔مودی نے آبنائے ہرمز کے ذریعے محفوظ، آزاد اور بلا رکاوٹ بحری نقل و حمل کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے خطے میں کشیدگی کم کرنے کی امریکی کوششوں کا خیرمقدم کیا اور مغربی ایشیا میں امن کی بحالی کے لیے صدر ٹرمپ کی کاوشوں کو سراہا۔دفاعی تعاون کے حوالے سے بھی دونوں رہنماؤں نے بات چیت کی اور فوجی مشقوں، جدید ٹیکنالوجی میں اشتراک اور دفاعی شعبے میں بڑھتے ہوئے تعاون کا جائزہ لیا۔ ملاقات میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ علاقائی سلامتی، اقتصادی تعاون اور عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے نئی دہلی اور واشنگٹن کے درمیان تعاون کو مزید فروغ دیا جائے گا۔وزیر اعظم نریندر مودی جی۔7سربراہی اجلاس میں شراکت دار ملک کے رہنما کے طور پر شرکت کر رہے ہیں۔ یہ جی۔7اجلاس میں ان کی مسلسل ساتویں شرکت اور بھارت کی مجموعی طور پر تیرہویں شرکت ہے۔