عظمیٰ نیوز سروس
ممبئی// عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں تیزی سے کمی کے درمیان بدھ کو ہندوستان کی سرکاری تیل کی مارکیٹنگ کمپنیوں (OMCs) کے حصص میں تیزی سے اضافہ دیکھا گیا۔ بین الاقوامی بینچ مارک برینٹ کروڈ ہفتہ وار 16 فیصد گر کر 79 ڈالر فی بیرل سے نیچے آ گیا، جو تین ماہ میں اس کی کم ترین سطح ہے۔ اس کمی نے ادائیگیوں کے توازن (BoP) کے خسارے سے متعلق ہندوستانی معیشت کے لیے ایک بڑی تشویش کو دور کر دیا ہے۔خام تیل کی قیمتوں میں کمی سے آئل ریفائننگ کمپنیوں کے اخراجات کم ہوتے ہیں، ان کے منافع میں بہتری (مارکیٹنگ مارجن) کی امید کی جاتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ آج OMC کے حصص کو مارکیٹ میں نمایاں حمایت حاصل ہوئی۔ بھارت پٹرولیم کے حصص نے راہنمائی کی، 2.46 فیصد اضافہ ہوا اور 319.50 کی انٹرا ڈے اونچائی کو چھوا۔ہندوستان پٹرولیم کے حصص 2.26 فیصد بڑھے اور 410.45 کی انٹرا ڈے اونچائی پر پہنچ گئے۔انڈین آئل کے حصص بھی 1.61 فیصد بڑھ کر 147.45 روپے پر تجارت کر رہے ہیں۔ مارکیٹ ماہرین کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان عبوری معاہدے کی خبروں سے عالمی جغرافیائی سیاسی تنا میں نمایاں کمی آئی ہے۔ اس ممکنہ معاہدے سے امید پیدا ہوئی ہے کہ ایران سے خام تیل کی برآمدات تیزی سے دوبارہ شروع ہو جائیں گی۔ مزید برآں، آبنائے ہرمز کے کھلنے سے، دنیا کا سب سے اہم تیل کی ترسیل کا راستہ، تیل کی سپلائی میں رکاوٹوں کو کم کرنے کی امید ہے۔ دریں اثنا امریکی خام تیل (WTI) بھی 1 فیصد گر کر 75 ڈالر کے قریب آ گیا ہے۔مارکیٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ خام تیل کی قیمت 80 ڈالر سے نیچے آنے سے ہندوستان کا درآمدی بل کم ہو جائے گا۔
مزید برآں، ہندوستانی روپیہ مسلسل مضبوط ہو رہا ہے، جس کی وجہ سے غیر ملکی ادارہ جاتی سرمایہ کاروں (FIIs) کی فروخت میں کمی واقع ہوئی ہے۔ اس مثبت عالمی قیاس کی وجہ سے ملکی اسٹاک مارکیٹس سبز رنگ میں ٹریڈنگ کر رہی ہیں۔اس دوران کونسل آن انرجی، انوائرمنٹ اینڈ واٹر(سی ای ای ڈبلیو)نے خبردار کیا ہے کہ خام تیل کی درآمد کے معاملے میں صرف چھ ممالک پر ہندستان کا سب سے زیادہ انحصار ملک کی توانائی سلامتی کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔سی ای ای ڈبلیو کی جانب سے بدھ کو جاری ایک مطالعاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہندستان خام تیل کی 85 فیصد سے زیادہ درآمدات صرف چھ ممالک سے کرتا ہے، جن میں روس اور مغربی ایشیا کے پانچ ممالک شامل ہیں۔ یہ سپلائی میں کوئی رکاوٹ آنے پر، جیسا کہ اس وقت صورتحال پیدا ہوئی ہے، لچک کو محدود کررہی ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صرف درآمدات پر انحصار ہی نہیں، ریفائنریوں کی بناوٹ کی وجہ سے بھی خطرہ ہے، کیونکہ ملک صرف مخصوص اقسام کے خام تیل کو ہی کم لاگت میں ریفائن کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔