جاوید اقبال
مینڈھر// جموں و کشمیر آرمڈ پولیس کی 6ویں بٹالین کے ایک ہیڈ کانسٹیبل محمد مشتاق کی مینڈھر کے بھیرہ علاقے میں ایک عمارت کی چھت سے گرنے کے باعث المناک موت واقع ہو گئی۔ اس افسوسناک حادثے کے بعد پورے علاقے میں غم کی لہر دوڑ گئی جبکہ پولیس محکمہ میں بھی سوگ کا ماحول پیدا ہو گیا۔ذرائع کے مطابق محمد مشتاق معمول کے فرائض کے دوران عمارت کی چھت پر موجود تھے کہ اچانک اْن کا توازن بگڑ گیا اور وہ نیچے گر گئے۔ واقعہ پیش آتے ہی وہاں موجود افراد نے فوری طور پر امدادی کارروائی شروع کی اور شدید زخمی حالت میں انہیں علاج کے لئے سب ڈسٹرکٹ ہسپتال مینڈھر منتقل کیا گیا۔ہسپتال پہنچنے پر ڈاکٹروں کی ٹیم نے اْن کا فوری طبی معائنہ کیا، تاہم زیادہ چوٹیں آنے کے باعث وہ جانبر نہ ہو سکے۔
ڈاکٹروں نے معائنہ کے بعد انہیں مردہ قرار دے دیا۔ ہسپتال ذرائع کے مطابق زخمی اہلکار کو بچانے کی ہر ممکن کوشش کی گئی لیکن وہ پہلے ہی دم توڑ چکے تھے۔واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور جے کے اے پی کے اعلیٰ افسران بھی ہسپتال پہنچ گئے اور صورتحال کا جائزہ لیا۔ بعد ازاں قانونی کارروائی اور پوسٹ مارٹم مکمل ہونے کے بعد میت کو جے کے اے پی 6ویں بٹالین کے افسران کے حوالے کر دیا گیا تاکہ آخری رسومات کی ادائیگی کے لیے اْن کے آبائی گاؤں ہارون، سرینگر منتقل کیا جا سکے۔محمد مشتاق کی اچانک موت کی خبر سن کر اہل خانہ، رشتہ داروں اور ساتھی اہلکاروں میں غم و اندوہ کی لہر دوڑ گئی۔ مقامی لوگوں نے بھی اس حادثے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا۔پولیس نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے مزید تحقیقات شروع کر دی ہیں تاکہ حادثے کی اصل وجوہات کا پتہ لگایا جا سکے۔ ابتدائی طور پر اسے ایک حادثاتی واقعہ قرار دیا جا رہا ہے، تاہم پولیس ہر پہلو سے معاملے کی جانچ کر رہی ہے۔ادھر مختلف سماجی اور سیاسی شخصیات نے بھی اس واقعے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کے اہل خانہ سے تعزیت کی ہے اور دعا کی ہے کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور لواحقین کو یہ صدمہ برداشت کرنے کی توفیق دے۔