غلام نبی رینہ
کنگن / سربل سونہ مرگ میں بنیادی سہولیات کے فقدان کی وجہ سے مقامی آبا دی کوگوناگوں مشکلات کاسامنا ہے۔سونہ مرگ سے آٹھ کلومیٹردور سربل ضلع گاندربل کاآخری گائوں ہے،جہاں دردشینالوگ آباد ہے۔گائوں کے نمبردار فاروق احمدرینہ نے کشمیرعظمیٰ کوبتایاکہ ایک سوگیارہ کنبوں پرمشتمل اس گائوں کی آبادی چھ نفوس پرمشتمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ سربل علاقے میں لوگ گذشتہ کئی دہائیوں سے رہائش پذیر ہیں لیکن بھاری برفباری اور سہولیات کی عدم دستیابی کی وجہ سے یہاں رہائش پذیر لوگ نومبر کے آخر میں ہجرت کرتے ہیں اور موسم بہار شروع ہونے کے ساتھ ہی مئی کے مہینے میں واپسی کا رخ کرتے ہیں ۔فاروق احمد نے بتایا کہ علاقہ کے لوگ طبی سہولیات ،اندرونی رابطہ سڑک نہ ہونے کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کررہے ہیں ۔فاروق احمد نے بتایا کہ علاقہ محکمہ جنگلی حیات کی حدود میں آتا ہے، جبکہ اگر چہ سربل کو پہلے سونہ مرگ ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے ساتھ جوڑا گیا تھا لیکن ان کی طرف سے بھی یہاں پر کوئی تعمیر و ترقی کا کام نہیں کیاگیا۔ ان کا کہناتھا کہ انہیں پتہ نہیں کہ سربل محکمہ جنگلی حیات کی حدود میں آتا ہے یا سونہ مرگ ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی حدود میں آتاہے۔ فاروق احمد نے بتایا کہ یہاں طبی سہولیات دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے انہیں رات کے دوران بھی مریض کو لیکر سونہ مرگ ہسپتال کا رخ کرنا پڑتاہے۔ گائوں کے نمبردار نے بتایا کہ ان کے علاقے میں بجلی کی ترسیلی لائن کھمبوں کے بجائے درختوں یا لکڑی کے ٹکڑوں پر لٹکی ہوئی ہے جبکہ گزشتہ ایک ہفتے سے پینے کے پانی کی بھی قلت ہے اور خواتین پینے کا پانی دریائے سندھ سے لیکر استعمال کرتی ہیں۔ اس بارے میں چیف ایگزیکٹو آفیسر سونمرگ ڈیولپمنٹ اتھارٹی بلال مختار ڈار نے بتایا کہ علاقہ میں محکمہ آر ڈی ڈی روشنی،نالیاں اوررابطہ سڑکیں تعمیر کرسکتا ہیںلیکن ماحولیات کو بچانے کے لئے کوئی تعمیرات کھڑاکرنے کی اجازت نہیں ہوگی ۔انہوں نے بتایا کہ سربل کو اب سیاحتی نقشے پر لانے کے لئے آگے رپورٹ بھیج دی گئی ہے۔