عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر//جموں کشمیر انٹرپرنیورڈیولپمنٹ انسٹچوٹ (JKEDI) کے ذیلی ادارے Centre for Innovation, Incubation and Business Modelling نے جموں و کشمیر اسٹارٹ اپ پالیسی کے تحت اپنے مرکزی کیمپس پانپور میں ایک اہم اسٹیک ہولڈر میٹ کا انعقاد کیا، جس میں خطے میں صنعت کاری، اختراع اور اسٹارٹ اپ کلچر کے فروغ سے متعلق مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اجلاس کی صدارت ڈائریکٹرمحمد یونس ملک نے کی۔ اس موقع پر تعلیمی اداروں، صنعتی شعبے، انکیوبیشن مراکز، مالیاتی اداروں اور اسٹارٹ اپ ماحولیاتی نظام سے وابستہ متعدد اہم شخصیات اور نمائندوں نے شرکت کی۔اجلاس کا مقصد جموں و کشمیر میں اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مثر حکمت عملی وضع کرنا تھا۔
شرکا نے اس بات پر زور دیا کہ ابتدائی سرمایہ (Seed Funding) کی فراہمی اہم ضرور ہے، تاہم اسٹارٹ اپس کی طویل مدتی کامیابی کے لیے مسلسل رہنمائی، کاروباری ترقی میں معاونت، مالی نظم و ضبط، مارکیٹ تک رسائی اور پیشہ ورانہ مشاورت بھی ناگزیر ہے۔اجلاس کے دوران اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ نوجوانوں میں کم عمری سے ہی کاروباری سوچ اور اختراعی صلاحیتوں کو فروغ دیا جانا چاہیے۔ اس مقصد کے لیے اسکولوں میں صنعت کاری سے متعلق تعلیم متعارف کرانے، جدت طرازی اور ٹنکرنگ لیبز کے قیام اور نوجوان اختراع کاروں کو عملی تجربات کے مواقع فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔شرکا نے مضبوط انکیوبیشن فریم ورک، پروف آف کانسیپٹ کی بہتر تیاری اور ایسے پلیٹ فارمز کی ضرورت کو اجاگر کیا جو اسٹارٹ اپس کو اپنے خیالات کی جانچ، کاروباری ماڈلز کی بہتری اور مثر توسیع میں مدد فراہم کر سکیں۔اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ JKEDI، تعلیمی اداروں، انکیوبیشن مراکز، صنعتی شراکت داروں اور مالیاتی اداروں کے درمیان قریبی تعاون کے ذریعے کمرشلائزیشن، سرمایہ کاری کی تیاری اور کاروبار کی توسیع سے متعلق چیلنجز پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ شرکا نے اسٹارٹ اپس کو سرمایہ کاروں، سرپرستوں اور منڈیوں سے جوڑنے میں جے کے ای ڈی آئی کے کردار کو سراہا۔اجلاس کے اختتام پر تمام شرکا نے جموں و کشمیر میں ایک جامع، متحرک اور اختراع پر مبنی اسٹارٹ اپ ماحولیاتی نظام کی تشکیل کے عزم کا اعادہ کیا، جو جموں و کشمیر اسٹارٹ اپ پالیسی کے مقاصد کے مطابق نوجوان کاروباری افراد کے لیے پائیدار مواقع پیدا کرنے میں معاون ثابت ہوگا۔