عظمیٰ نیوز سروس
گاندربل// زرعی شعبے میں پائیدار ترقی اور مٹی کی صحت کے تحفظ کے مقصد سے منعقد کیے گئے ایک اہم پروگرام کے تحت سیکرٹری، محکمہ زرعی پیداوار نیتو گپتا نے گاندربل کے واگورہ علاقے کے عیدگاہ میں منعقدہ کھیت بچائو ابھیان میں شرکت کی۔یہ پروگرام چیف ایگریکلچر آفیسر گاندربل کی جانب سے منعقد کیا گیا جس میں کسانوں، زرعی ماہرین اور محکمہ زراعت و اس کے ذیلی محکموں کے افسران کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ پروگرام کا مقصد جدید، سائنسی اور پائیدار زرعی طریقوں کے بارے میں آگاہی فراہم کرنا، سرکاری فلاحی اسکیموں سے متعلق شعور بیدار کرنا اور زرعی زمین و مٹی کی زرخیزی کے تحفظ کو یقینی بنانا تھا۔تقریب کے دوران ڈائریکٹر زراعت کشمیر سرتاج احمد شاہ نے ضلع گاندربل کی زرعی صورتحال کا تفصیلی جائزہ پیش کیا اور جاری ترقیاتی اقدامات پر روشنی ڈالی۔
اس موقع پر محترمہ نیتو گپتا نے کسانوں سے براہ راست ملاقات کی اور ان کے مسائل، تجاویز اور زرعی ترقی سے متعلق خدشات سنے۔پروگرام کے دوران کسانوں میں سائل ہیلتھ کارڈز تقسیم کیے گئے تاکہ وہ زمین کی غذائیت اور فصلوں کے لیے متوازن کھاد کے استعمال سے متعلق بہتر فیصلے کر سکیں۔ اس کے علاوہ قدرتی کاشتکاری، نامیاتی زراعت، نیشنل مشن آن ایڈیبل آئلز (NMEO)، کسان کریڈٹ کارڈ (KCC)، پی ایم کسان اسکیم اور پردھان منتری فصل بیمہ یوجنا (PMFBY) سمیت مختلف اسکیموں پر آگاہی سیشنز بھی منعقد کیے گئے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے محترمہ نیتو گپتا نے کہا کہ زرعی شعبے کی طویل مدتی پائیداری کا انحصار مٹی کی صحت پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کو چاہیے کہ وہ متوازن کھاد کے استعمال، کیمیائی کھادوں کے کم استعمال اور قدرتی و ماحول دوست زرعی طریقوں کو اپنائیں تاکہ نہ صرف پیداوار میں اضافہ ہو بلکہ زرعی ماحولیاتی نظام بھی محفوظ رہے۔انہوں نے کہا کہ زراعت کی پائیدار ترقی اسی وقت ممکن ہے جب ہم اپنی مٹی کی صحت کا خیال رکھیں۔ کسانوں کو چاہیے کہ وہ جدید سائنسی طریقوں کو اپنائیں تاکہ آنے والی نسلوں کے لیے غذائی تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔محترمہ نیتو گپتا نے مزید کہا کہ زرعی آمدن میں اضافہ اور دیہی معیشت کی مضبوطی کے لیے حکومتی اسکیموں سے بھرپور استفادہ ضروری ہے۔ انہوں نے کسانوں پر زور دیا کہ وہ مرکزی اور یو ٹی حکومت کی فلاحی اسکیموں سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھائیں۔پروگرام میں ڈپٹی ڈائریکٹر لا انفورسمنٹ کشمیر، ہیڈ کے وی کے گاندربل، ڈپٹی ڈائریکٹر ہارٹیکلچر کشمیر، چیف ایگریکلچر آفیسر گاندربل، محکمہ زراعت اور دیگر متعلقہ محکموں کے افسران کے علاوہ واگورہ اور اطراف کے علاقوں سے بڑی تعداد میں کسانوں نے شرکت کی۔