مصنف : رئیس القلم مولاناسیدازہرشاہ قیصر
تبصرہ نگار : مقصوداحمدضیائی
زیر نظر کتاب چند روز قبل پڑھ کر فاغ ہوا آج موقع ملا تو دل نے چاہا کہ حسبِ روایت تبصرہ ہدیہ قارئین کر دیا جائے؛ یہ کتاب عزیزالقدر مولوی احسان اللّٰہ بٹ قاسمی سلمہ نے بطورہدیہ دی تھی، ان کے لیے دل سے بہت بہت دعائیں نکلتی ہیں، اللّٰہ پاک ان کے علم و عمل اور عمر میں برکت عطا فرمائے۔ فرزندِ شاہِ کشمیری مولانا سید ازہر شاہ قیصرؒ کی مایہ ناز تصنیف “یادگارِ زمانہ ہیں یہ لوگ” دراصل بزمِ رفتہ کے ان تابندہ ستاروں کا تذکرہ ہے جن کی فکری ضیا باریوں سے نصف صدی کا علمی و ادبی افق منور رہا، اور مصنف نے کمالِ ہنر مندی سے علمائے کرام، صلحاء، صوفیائے عظام اور قومی رہنماؤں کی عبقری شخصیتوں کو لفظوں کے قالب میں اس طرح ڈھالا ہے کہ یہ محض خشک سوانحی خاکوں کا مجموعہ نہیں بلکہ اخلاص، استقامت اور ملی حمیت کا ایک بحرِ بیکراں بن گئی ہے، جس کی ورق گردانی کرتے ہوئے قاری ماضی کے ان مٹیاروں کے زہد و تقویٰ، علمی تبحر اور بے لوث قربانیوں کے روبرو خود کو کھڑا پاتا ہے؛ خصوصاً کتاب میں شامل محدثِ عصر علامہ محمد انور شاہ کشمیریؒ کی ذاتِ گرامی پر لکھا گیا مضمون اس قدر جاندار، شاندار اور سحر انگیز ہے کہ وہ قاری کے دل و دماغ پر وجدانی کیفیت طاری کر دیتا ہے اور مصنف نے اپنے والدِ محترم کے علمی جلال، حافظے کے کمال اور تقوے کے جمال کو عقیدت و محبت کے جس ارفع معیار پر قلم بند کیا ہے، وہ اس پوری کتاب کا حاصل محسوس ہوتا ہے۔ مصنف کا رسیلا، شگفتہ، مرصع اور دل آویز اسلوب نگارش قاری کو آغاز سے انجام تک اپنے سحر میں جکڑے رکھتا ہے اور چونکہ انہوں نے ان جلیل القدر ہستیوں کو بہت قریب سے دیکھا اور برتا تھا، اس لیے کتاب کا ہر صفحہ ایک عینی شاہد کی مستند ترین گواہی بن کر تاریخ کا ایک انمول جزو بن گیا ہے۔ اگرچہ ایک خالص علمی اور تنقیدی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو کتاب کے تانے بانے میں عقیدت کا رنگ فکری و نظریاتی مباحث پر غالب دکھائی دیتا ہے، مگر تزکیہِ نفس، دلوں کی بیداری اور اصلاحِ معاشرہ کے باب میں یہ ایک ایسی لازوال اور روح پرور دستاویز ہے جو عہدِ حاضر کے شدید فکری انتشار، تہذیبی بحران اور نظریاتی بے راہ روی میں ڈوبی ہوئی ہماری نئی نسل کے لیے ایک سچی مشعلِ راہ اور حیات آفریں فکری نسخہ ثابت ہوگی۔ لہٰذا، یہ کتاب دورِ جدید کے غفلت شعار انسانوں سے یہ پرزور تقاضا کرتی ہے کہ ہم اپنی گراں خوابی کے گہرے پردوں کو چاک کر کے اس کے مصلحانہ صفحات کا گہرا مطالعہ کریں، تاکہ ان اسلافِ عظام کے نقشِ قدم پر چل کر اپنے فکری، اخلاقی اور ملی زوال کا شافی علاج ڈھونڈ سکیں، کیونکہ مادیت پرستی کے اس ہنگامہ خیز دور میں علم، کتاب اور اسلاف کی پاکیزہ روایات کے ساتھ سچا رشتہ استوار کرنا ہی ہماری بقا کا واحد اور بہترین ذریعہ ہے۔