پرویز احمد
سرینگر //آیوشمان بھارت صحت سکیم کی عمل آوری میں حکومت کی عدم توجہی کی وجہ سے جموں و کشمیر میں 134نجی ہسپتالوں نے یکم جولائی 2026سے خود کو آیوشمان سے الگ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ نجی ہسپتالوں نے یہ فیصلہ سرکار کی جانب سے 300کروڑ روپے بقایات واگذار کرنے میں عدم دلچسپی کی وجہ سے لیا ہے۔ نجی ہسپتالوں اور پرائیویٹ ڈائگوناسٹک سینٹروں کی ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ سرکار کی جانب سے 300کروڑ روپے کی ادائیگی میں تاخیر کی وجہ سے ان کیلئے اب مرکزی زیر انتظام جموں و کشمیر میں آیوشمان بھارت چلانا ناممکن ہوگیا ہے اور اس وجہ سے وہ یکم جولائی 2026سے خود کو آیوشمان بھارت سکیم سے الگ کررہے ہیں۔ جموں و کشمیر پرائویٹ اسپتال و ڈائلیسس سینٹرز ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ بقایات ادا کرنے میں تاخیر سے وہ بہتر طریقے سے اپنی خدمات انجام نہیں دے پا رہے ہیں اور اسلئے ایسوسی ایشن نے آیوشمان بھارت سے الگ ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ سیکریٹری پرائیویٹ ہسپتال ایسوسی ایشن ڈاکٹرمسعود الحسن نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’ ایسوسی ایشن سے جڑے ہسپتال اور ڈائلیسز سینٹر روزانہ 3000کے قریب ڈائلیسز اور 500جراحیاں انجام دیتے ہیں، جن پر روزانہ لاکھوں روپے صرف ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2ماہ قبل سرکار نے صرف 20فیصد رقوم ادا کئے لیکن یہ رقم اب پھر سے 300کروڑ روپے تک پہنچ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں سرکار کی جانب سے صرف یقین دہائیوں کے علاوہ کچھ بھی نہیں ملتا اور وسائل کی کمی کی وجہ سے ہم مریضوں کو بہتر طبی سہولیات بھی فراہم نہیں کر پا رہے ہیں۔