اعجاز میر
اوڑی//باباگیل آبشار، جسے مقامی طور پر مٹھہ وائن کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، ضلع بارہمولہ کے بونیار بلاک میں لمبر وائلڈ لائف سینکچری کے اندر چھپا ہوا جھرنا ہے۔لمبر وائلڈ لائف سینکچری( جنگلی جانوروں کی پناہ گاہ)، نایاب مارخور جنگلی بکرے کی حفاظت کے لئے بنائی گئی ہے، جو کہ ہندوستان میں صرف چند ایک جگہوں پر پایا جاتا ہے۔یہاں تقریباً 120پرندوں کی پرجاتیوں اور 20 ستنداریوں کی انواع پاتے جاتے ہیں۔ جن میں ہمالیائی کستوری ہرن، بھورا ریچھ اور تیندوا بھی شامل ہیں۔ سرینگر سے باباگیل تقریباً 90 کلومیٹر جبکہ بارہمولہ سے صرف 25کلومیٹر دور ہے۔ جنگل، ندی اور آبشار کا امتزاج اسے ایک فائدہ مند دن کا سفر بناتا ہے جس کی کوشش بہت کم باہری گروپ کرتے ہیں۔ 8کلومیٹر ٹریک (رائونڈ ٹرپ )کے میں وقفے کے ساتھ آرام دہ رفتار سے چلنے میں 3 سے 4 گھنٹے لگتے ہیں۔ جموں و کشمیر اور غالباً ہمالیائی سلسلے میں لمبر جنگلی حیات پناہ گاہ واحد ایسی مخصوص جنگلی جانوروں کی جگہ ہے جس میں 7دیہات آباد ہیں۔وائلڈ لائف فاسٹر ریاض احمد نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ یہ پورہ علاقہ ، جو 12کمپارٹمنٹوں پر مشتمل ہے، پہلے محکمہ جنگلات کے تحت آتا تھا لیکن بعد میں اسے وائلڈ لائف کے حوالے کیا گیا اور اسی وجہ سے یہاں بستیاں بھی آباد ہیں۔انکا کہنا تھا کہ یہاںلمبراے، لمبر بی،بنیار،بودھ یاری،بابا گیل،پرنگل اور سوچنہ کی بستیاں موجود ہیں۔انکا مزید کہنا تھا کہ بابا گیل آبشار سے ایک کلو میٹر کی دوری پر مار خور کیلئے بنائی گئی قاضی ناگ نیشنل پارک ہے، جہاں بنیادی طور پر مار خور دیکھے جاتے ہیں۔انکا مزید کہنا تھا کہ قاضی ناگ کے دائین جانب لچھی پورہ اوڑی کی وائلڈ لائف سینکچری ہے۔
یہ انتہائی خوبصورت علاقہ ہے جہاں عام طور پر صرف مقامی نوجوان ہی جاتے ہیں۔حالانکہ یہ ٹریک بنیادی فٹنس کے ساتھ ابتدائی افراد کے لئے موزوں ہے، جو لوگ ٹریکنگ کے عادی ہیں یہ انکے لئے بہترین جگہ ہے۔باباگیل آبشار لمبر وائلڈ لائف سینکچری کو کشمیر کا ایک چھپا ہوا ٹکڑا قرار دیا جاتا ہے۔یہ راستہ، بہتی ندیوں، اور ایشیا کے سب سے بڑے جنگلی پہاڑی بکرے کے خطرے سے دوچار مارخور کے محفوظ گھر بھی ہے، جس کے لئے یہ خطہ خاص طور پر جانا جاتا ہے۔چونکہ آبشار ایک حساس جنگلی حیات کی پناہ گاہ کے اندر واقع ہے، اس لئے قدرتی رہائش گاہ کو محفوظ رکھنے اور جنگلی حیات کی حفاظت میں مدد کے لیے داخلے کو منظم کیا جاتا ہے۔ خواہشمند مسافروںکو وائلڈ لائف وارڈن نارتھ کشمیر ڈویژن سوپور سے چند روز قبل پیشگی اجازت لینا ضروری ہے،اور لمبر وائلڈ سینکچری میں داخلے سے پہلے اجازت نامہ دیکھا جاتاہے اور فی نفری 100روپے فیس اداکرنی پڑھتی ہے جبکہ باباگیل تک ٹریک کیلئے محکمے کی طرف سے ایک مقامی رجسٹرڈگائیڈ ساتھ دیا جاتا ہے ، جسے 800سے 1000روپے ادا کرنا پڑتا ہے۔ علاقے میں کسی بھی قسم کی گندگی یا پلاسٹک چیز یا لفافے کو پھینکنا ممنوعہ قرار دیا گیا ہے۔
ٹریک کیلئے داخلہ کی اجازت 2بجے تک دی جاتی ہے اور 4بجے سے پہلے پہلے سبھی لوگوں کو بیس کیمپ تک واپس پہنچانا ہوتا ہے۔ یہ اجازت اس دن طلوعِ آفتاب سے غروبِ آفتاب تک قابل قبول ہوتا ہے۔ یہ ٹریک بونیار کے باباگیل گائوں سے شروع ہوتا ہے۔ یہ تقریباً 8کلومیٹر (آنا جانا) کا راستہ ہے جس میں تقریباً 3سے 4گھنٹے لگتے ہیں۔باباگیل کچی اور اچھوتی فطرت سے ہمکنار ہونے کا ایک نادر احساس دیتا ہے، جہاں آبشاروں کی گونج، جنگل کی سرگوشیاں اور پہاڑوں کی خاموشی ٹریک ختم ہونے کے بعد بھی دیر تک آپ کے ساتھ رہتی ہے۔یہاں آباد 7گائوں وادی کی واحد ایسی بستیاں ہیں، جو جنگلی جانوروں کیلئے محفوط پناہ گاہ کے اندر آباد ہے۔یہاں کے لوگ بہت ہی خوش اخلاق، ملنسار اور مہمان نواز ہیں۔ اس لحاظ سے یہ ایک بہت ہی منفرد جگہ ہے۔گائوں سے ہوتے ہوئے ہی آبشار تک پہنچا جاسکتا ہے جہاں پہنچنے کیلئے پیدل ہی راستہ طے کرنا ہوتا ہے۔اس پورے سفر میں آبشار کا پانی آپکے دائیں یا بائیں طرف جھرنوں کی صورت میں ساتھ رہتا ہے۔