قیصر محمود عراقی
دنیا میں انسان علم بہت حاصل کر تا ہے ، کتابیں پڑھتا ہے ، مجالس میں بیٹھتا ہے ، وعظ سنتا ہے اور زندگی کے مختلف تجر بات سے گزرتا ہے ، مگر اصل سوال یہ ہے کہ ان سب چیزوں میں انسان اپنی زندگی میں کتنا عمل اختیار کر تا ہے ؟ حقیقت یہی ہے کہ علم کی اصل روح عمل میں پوشیدہ ہے ۔ اگر علم انسان کے کر دار ، اخلاق اور سوچ کو نہ بدلے تو وہ محض الفاظ کا مجموعہ رہ جا تا ہے ۔ تاریخ اسلام میں ہمارے اسلاف نے علم کو صرف یاد کر نے کی چیز نہیں سمجھا بلکہ اسے زندگی کا حصہ بنایا ۔ ایک واقعہ پیشِ خدمت ہے کہ ایک بزرگ تھے اور ان کا ایک شاگر دتھا ، ایک دن بزرگ نے اپنے شاگرد سے پو چھا : تم کتنے عرصے سے میرے ساتھ ہو ؟ شاگر د نے جواب دیا ، ۲۰ سال سے ، بزرگ نے شاگر دسے پھر سوال کیا کہ اتنے طویل عرصے میں تم نے کیا سیکھا ؟ شاگرد نے جواب دیا ، حضور! میں نے صرف آٹھ مسئلے سیکھے ہیں۔ یہ سن کر بزرگ کو حیرت ہو ئی ، ۲۰ ؍ سال ایک بہت طویل عرصہ ہو تا ہے ، عام طور پر انسان اس عرصے میں بے شمار علوم حاصل کر لیتا ہے مگر شاگرد نے صرف آٹھ اصول سیکھنے کی بات کی ۔ لیکن جب شاگرد نے وہ آٹھ اصول بیان کئے تو معلوم ہوا کہ در اصل یہی آٹھ اصول پوری زندگی بدلنے کے لئے کافی ہیں ۔
پہلا اصول یہ تھا کہ انسان کا اصل محبوب اس کی نیکیاں ہو نی چاہیئں ۔ دنیا میں ہر انسان کسی نہ کسی چیز محبت کر تا ہے ، کوئی مال سے محبت کر تا ہے ، کوئی اولاد سے ، کوئی شہرت سے اور کوئی دنیاوی آسائشوں سے ، مگر قبر میں انسان کے ساتھ نا مال جا تا ہے ، نہ دوست ، نہ رشتہ دار اور نہ دنیاوی عزت ، صرف اعمال ساتھ جا تے ہیں ۔ یہی وجہہ ہے کہ شاگر د نے نیکیوں کو اپنا محبوب بنا لیا ۔ اگر آج انسان اس حقیقت کو سمجھ لے تو اس کی ترجیحات بدل جائیں ، پھر وہ دنیا کی فانی چیزوں کے بجائے آخرت کی تیاری پر تو جہ دیگا ۔ دوسرا اصول یہ تھا کہ اصل محفوظ خزانہ وہ ہے جو اللہ کی راہ میں خرچ کر دیا جائے ۔ آج انسان پوری زندگی مال جمع کر تا رہتا ہے مگر موت کے بعد وہ مال دوسروں کے ہاتھ میں چلا جا تا ہے ۔ قرآن پاک ہمیں بتا تا ہے کہ دنیا کی ہر چیز فنا ہو جا ئے گی صرف وہ باقی رہے گا جو اللہ کے لئے خرچ کیا گیا ۔ یہی وجہہ ہے کہ صدقہ ، خیرات اور اللہ کی راہ میں خرچ کر نا در اصل اپنے مال کوہمیشہ کے لئے محفوظ کر نا ہے ۔ تیسرا اصول نفس کی خواہش کو قابو میں رکھنا ہے ۔ آج کا انسان اپنی خواہشات کا غلام بنتا جا رہا ہے ، ہر شخص اپنی مرضی کے مطابق زندگی گزارنا چاہتا ہے ، چاہے وہ اللہ کی نا فرمانی ہی کیو نہ ہو ۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ کامیاب وہی انسان ہو تا ہے جو اپنے نفس کو اللہ کے حکم کا پابند بنا لے ۔ خواہشات پر قابو پا نا آسان نہیں مگر یہی اصل جہاد ہے ، جو شخص اپنے نفس کو قابو میں کر لے وہ دنیا و آخرت دونوں میں کا میاب ہو جا تا ہے ۔ چوتھا اصول تقویٰ اختیار کر نا ہے ۔ آج کے معاشرے میں انسان مال ، عہدے ، خاندان اور شہرت پر فخر کر تا ہے ، لوگ اپنی دنیاوی حیثیت کی بنیاد پر ایک دوسرے کو کمتر سمجھتے ہیں ، حالانکہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اصل عزت صرف تقویٰ کی بنیاد پر ہے ، جس کے دل میں اللہ کا خوف اور نیکی کا جذبہ زیادہ ہو گا وہی اللہ کے نزدیک معزز ہو گا ، اگر معاشرہ اس اصول کو اپنا لے تو تکبر ، غرور اور نفرتیں ختم ہو سکتی ہیں ۔
پانچواں اصول حسد کو چھوڑ دینا ہے ۔ آج انسان دوسروں کی کامیابی دیکھ کر پریشان ہو جا تا ہے ، وہ یہ بر داشت نہیں کر پا تا کہ کسی اور کے پاس زیادہ مال ، عزت یا کامیابی کیوں ہے؟ یہی حسد انسان کے سکون کو ختم کر دیتا ہے ، حالانکہ رزق اور نعمتوں کی تقسیم اللہ کے اختیار میں ہے ۔ شاگرد نے اس حقیقت کو سمجھ لیا تھا اور جب یہ یقین دل میں آجائے تو انسان دوسروں سے حسد نہیںکر تا بلکہ اللہ کے فیصلوں پر راضی رہتا ہے ۔ چھٹا اصول یہ ہے کہ انسان کا اصل دشمن شیطان ہے ۔ آج لوگ معمولی باتوں پر ایک دوسرے کے مدشمن بن جاتے ہیں ، بھائی بھائی سے لڑ پڑتا ہے ، دوست دوست سے ناراض ہو جا تا ہے اور خاندان آپس میں بکھر جا تے ہیں ، حالانکہ قرآن واضح طور پر کہتا ہے کہ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے ، اگر انسان اس حقیقت کو سمجھ لے تو وہ دوسروں کے بجائے شیطانوں کے وسوسو ں سے بچنے کی کوشش کر ے گا ۔ ساتواں اصول رزق کے بارے میں ہے ۔ آج بہت سے لوگ رزق کے لئے حرام راستے اختیار کر تے ہیں ، جھوٹ بولتے ہیں ، دھوکا دیتے ہیں اور اپنی عزت تک قربان کر دیتے ہیں حالانکہ قرآن کہتا ہے کہ ہر جاندار کا رزق اللہ کے ذمہ ہے ، اس کا یہ مطلب نہیں نہ انسان کوشش کر نا چھوڑ دے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ رزق کے معاملے میں حرام اور ذلت کا راستہ اختیار نہ کرے ، حلال کم ہو تو بھی با برکت ہو تا ہے جبکہ حرام کثرت کے باوجود سکون نہیں دیتا ۔ آٹھواں اور آخری اصول توکل علی اللہ ہے ۔ آج کا انسان دولت ، کاروبار ، تعلقات اور اپنی طاقت پر بھروسہ کر تا ہے ، مگر یہ سب چیزیں عارضی ہیں ، اصل سہارا صرف اللہ کی ذات ہے، جب انسان سچے دل سے اللہ پر بھروسہ کر تا ہے تو اللہ اس کے لئے کافی ہو جا تا ہے ۔ اگر انسان ان آٹھ اصولوں کو اپنی زندگی میں اپنا لے تو اس کی سوچ ، عبادات اور تعلقات سب بدل سکتے ہیں ۔
قارئین حضرات ! آج ہمارا معاشرہ بے سکون ، حسد ، نفرت ، لالچ اور دنیا پر ستی کا شکار ہے ، لوگ دولت تو حاصل کر رہے ہیں مگر سکون کھو بیٹھے ہیں ، رشتے کمزور ہو رہے ہیں ، دل سخت ہو رہے ہیں ، انسان مادیت میں کھو گیا ہے ۔ ایسے وقت میں یہ آٹھ اصول ہمارے لئے روشنی کا مینار ہیں، یہ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ اصل کامیابی دنیاوی چمک دمک میں نہیں بلکہ اللہ کی رضا میں ہے ۔ لہذا علم کی کثرت سے اہم اس پر عمل کر نا ہے ، بہت سے لوگ کتابیں پڑھتے ہیں ، وعظ سنتے ہیں مگر ان کی زندگی میں کوئی تبدیلی نہیں آتی جبکہ کچھ لوگ تھوڑا علم حاصل کر تے ہیں اور اس پر اخلاص کے ساتھ عمل کر تے ہیں تو وہی کا میاب ہو جا تے ہیں ۔ ضرورت اس بات کہ ہے کہ ہم اپنے بچوں کو بھی یہی اصول سکھائیں ، انہیں دنیاوی تعلیم بھی نہ دیں بلکہ اللہ پر یقین ، تقویٰ ، صبر ، قناعت اور اخلاق کی بھی تر بیت دیں ۔ یہ آٹھ اصول دراصل ایک مکمل ضابطہ حیات ہیں ، اگر انسان اخلاص کے ساتھ ان پر عمل کر لے تو اس کی دنیا بھی سنور سکتی ہے اور آخرت بھی کامیاب ہو سکتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان اصولوں کو سمجھنے ، ان پر عمل کر نے اور اپنی زندگیوں کو حقیقی معنوں میں بدلنے کی توفیق عطا فرمائے ۔
رابطہ۔6291697668