سید مصطفیٰ احمد
میں خود جہالت کی کوئی ٹھوس اور مدلل تعریف کرنے سے قاصر ہوں، لیکن اتنا ضرور جانتا ہوں کہ جہالت بڑے گناہوں میں سے ایک بڑا گناہ ہے۔ کیونکہ جہالت سے ہی دوسری تمام قسم کی بُرائیاں اور خرابیاں جنم لیتی ہیں،اسی لئے مذہبی امور میں بھی جہالت سے دور رہنے پر زور دیا گیا ہے۔ جب سے یہ وسیع کائنات وجود میں آئی ہے، تب سے علم اور جہالت کے درمیان کشمکش دیکھی گئی ہے۔ نور اور ظلمت کی باہمی کشمکش نے اللہ تعالیٰ کی ذات کے علاوہ انبیاء کرام علیہم السلام کی منور ہستیوں کو جہالت کے لبادوں سے نکال کر لوگوں کے بیچ صاف اور شفاف صورت میں سامنے رکھا ہے۔ جہالت یونہی کسی قوم کا مقدر نہیں بنتی۔ یہ اپنا وقت لیتی ہے اور زمین کو تیار کرتے کرتے ایسے زہریلے پیڑ پیدا کردیتی ہے کہ انسان خاردار جھاڑیوں میں اُلجھے بغیر نہیں رہ سکتا۔جہالت کی جھاڑیوں کے کڑوے پھل انسان کے لئےناقابل برداشت تو ہوتے ہیں، لیکن پھر بھی لوگوں کی زیادہ تر تعداد اِن تباہ کن جھاڑیوں کے قیدی بن جاتے ہیں اور آہستہ آہستہ علم اور حکمت کی نفیس وادیوں سے دور ہوکر تاریکیوں میں اپنی تباہی کا سامان جمع کرتے رہتے ہیں۔
اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ صرف جہالت کا پرچارہی بازی لے جائے اور علم و دانش کے دریا اور چشمے سوکھے رہ جائیں؟ ایک دانا انسان اس بات کو سمجھنے کی جتنی بھی کوشش کرتا ہے،پھر بھی وہ سمجھ نہیں پاتا۔تعجب ہےکہ جب علم ہی اصل سرمایہ ہے تو پھر جہالت کی کیا مجال کہ نور (علم) کے سامنے اپنی آواز بلند کرے اور علم سے لڑنے کی بے ادبی کرے۔ جب میں نے اپنی کم علمی کا استعمال کیا تو میں اس نتیجے پر پہنچا کہ کچھ وجوہات ایسی ہیں، جن کی وجہ سے یہ سارا معاملہ بگڑ جاتا ہے۔
اَنّا کا مرض : زیادہ تر لوگ اس بیماری میں مبتلا ہیں کہ ’’میں ہی سب کچھ ہوں، سب کچھ مجھ سے شروع ہوتا ہے اور مجھ پر ہی ختم ہوجاتا ہے۔‘‘ اس جاہلانہ سوچ نے بہتوں کا بیڑا غرق کر رکھا ہے۔ اپنے آپ کو دوسروں سے زیادہ عقلمند سمجھنا، اپنی جھوٹی خوبیوں پر اِترانا اور اپنی نیکیوں پر دل ہی دل میں پھولے سمانا، — یہ سب کچھ جہالتکے سِوا کچھ بھی نہیں۔ اسی مرض کی وجہ سے جہالت کی جڑیں دن بدن مضبوط ہوتی جا رہی ہیں۔
شخص پرستی : اس نے لگ بھگ ساری دنیا کو اپنے آہنی ہاتھوں سے کس کر پکڑ رکھا ہے۔ ہر طرف شخص پرستی میں لوگ اس قدر گھر گئے ہیں کہ باہر نکلنا ناممکن بن گیا ہے۔ جہاں بھی نظر دوڑائیں، ہر جگہ شخص پرستی کے بُت پوجے جا رہے ہیں۔ اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ جہالت آسانی سے اپنا کام نکال لیتی ہے اور شخص پرستوں کو اس کی بھنک تک نہیں لگتی۔ وہ فریب کی دنیا میں رہ کر خود کو صحیح سمجھتے ہیں، علم کا گلہ گھونٹتے ہیں اور جہالت کے پجاری بن کر اپنی دنیا اور اپنی آخرت پر کاری ضرب لگا دیتے ہیں۔
دین سے دوری : اسلام میں واضح الفاظ میں اس بات کا بار بار اعادہ کیا گیا ہے کہ علم حاصل کرنا کتنا اہم ہے اور جہالت سے کوسوں دور رہنا ا نتہائی لازمی ہے۔ عالم کا رتبہ جاہل سے کئی گنا زیادہ ہے۔ علم کی تلاش دراصل خدا کی تلاش ہے، جو علم کے راستے میں نکلتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے رحمت کے بادل سایہ فگن کرتے ہیں۔ عالم کی مثال ایک ایسے ستارے کی ہے جو بھول بھلیوں میں راہنمائی کرتا ہے۔اب جبکہ اسلام میں اتنی واشگاف الفاظ میں علم کی اہمیت بیان کی گئی ہو اور جہالت سے دور رہنے پر زور دیا گیا ہو، تو ہم کیسے سوچ سمجھ کر چیزوں کی تہہ میں اُترنے سے گریز کرتے ہوئے ایسے من گھڑت خیالات کا پرچار کر سکتے ہیں، جن کی کوئی بنیاد نہ ہو؟ جہاں علم کے چشمے پھوٹ رہے ہوں، وہاں ریگستان کا بورڈ نصب کرنے سے کون سا کارنامہ انجام دیا جاتا ہے؟
سماج کی ساخت : ہمارے سماج میں رسم و رواج نے ایسی گہری جڑیں پکڑ لی ہیں کہ اب دین، تہذیب اور رسم و رواج ایک دوسرے میں اس طرح مدغم ہو چکے ہیں کہ انہیں الگ کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ جب روایات ہی زندگی کا دوسرا نام بن جائیں تو حالات کا صحیح ڈگر پر رہنا انتہائی دشوار ہو جاتا ہے۔ ایسے ماحول میں جہالت کے پیر مضبوط سے مضبوط تر ہونا کوئی انوکھی بات نہیں۔ انہی حالات میں حقیقی علم پردے کے پیچھے چھپ جاتا ہے اور جہالت اپنی مستی میں رقص کرتی رہتی ہے۔
جہالت کے چند اہم اثرات : سب سے پہلے اس کا اثر اس شکل میں سامنے آتا ہے کہ علم کی وقعت کم ہو جاتی ہے اور علماء پر بھروسہ ختم ہو جاتا ہے۔ یہاں علماء کے لفظ کو وسیع معنوں میں استعمال کیا گیا ہے۔ جس قوم میں جاننے والوں سے پوچھا ہی نہ جائے، وہ قوم بظاہر خوش باش تو دکھائی دیتی ہے لیکن اس کا اصلی روپ مسخ ہو چکا ہوتا ہے۔ جب چیزوں کا اصلی علم رکھنے والا شخص ہی بے وقعت ہو جائے تو اس قوم کا خدا ہی حافظ ہوتا ہے، یہ معاملہ ہمارے ساتھ بھی ہے۔ اس کا دوسرا اثر سماج میں اختلافات کا ہر طرف سے اُمڈ کر آنے کی شکل میں نکل کر آتا ہے۔ جب ہر کوئی بدمست ہاتھی کی طرح جہالت میں سر سے پاؤں تک ڈوبا ہو، تو ان حالات میں ہر کوئی اپنے آپ کو عالم سمجھ کر اور شخص پرستی کا گندہ لبادہ اُوڑھ کر آگ پر تیل کا کام انجام دیتا ہے اور دیکھتے دیکھتے سارے کا سارا سماج طوفانوں میں گھر جاتا ہے۔ پھر معزز ہستیوں کی مٹی سر بازار پلید کی جاتی ہے اور اخلاقیات کا جنازہ نکل جاتا ہے۔ اس کا تیسرا اثر خدا کی ناراضگی ہے۔ الله تعالیٰ سب سے زیادہ جاننے والا ہیں۔ اس کا سیدھا سیدھا مطلب ہے کہ اس کو علم حاصل کرنے اور تحقیق کرنے والوں سے بڑا لگاؤ ہے ،لیکن جب علم حاصل کرنا محدود نظریات کا شکار ہو جائے اور لوگ تحقیق کرنا بھی چھوڑ دیں، تب الله تعالیٰ کی ناراضگی بندوں پر مختلف شکلوں میں ظاہر ہوتی ہے۔ اس قوم میں سکون کا فقدان دور سے چھلکتا اور جھلکتا ہے۔ بظاہر علم کے انبار لگانے کے باوجود خدا کی خوشنودی گنے چُنے علماء کے ہی نصیب میں آتی ہیں۔
اب وقت کی ضرورت ہے کہ ہم جہالت سے اپنا دامن بچانے کی جتنی بھی کوششیں کر سکتے ہیں، کریں۔ کسی بھی قوم کی بقا کے لئے جہالت کوئی زیور نہیں ہے۔ یہ ایک بدنما داغ ہے جس کی گہرائی کا کوئی احاطہ نہیں کرسکتا ۔ جہالت سے چھٹکارا پانے کے لئے ہمیں اپنے آپ سے شروعات کرنی چاہیے۔ خود کو جہالت کے طوق سے آزاد کرنا ہی عقل مندی ہے۔ اس کے علاوہ اصلی اور قابل علماء سے ہمیشہ رجوع کرنا چاہیے تاکہ عمل اور عقیدے دونوں میں بگاڑ نہ رہے۔ نیز اپنے سماج میں بھی ایسی بھرپور کوشش کرنی چاہیے جس سے دوسرے لوگوں میں علم کی اہمیت کا احساس ہو جائے۔ اس کار خیر میں سب کو آگے آنا پڑے گا، سب کو قوم کی فکر کرنے کی جہت میں پیش پیش رہنا چاہیے۔ درسگاہوں سے لے تعلیمی اداروں تک ہم اپنے نونہالوں کے لیے علم کے سٹیج مہیا کرسکتے ہیں ،جس سے حال کے علاوہ مستقبل بھی سنبھل جائے۔ بظاہریہ کوئی آسان کام نہیں ہے۔ اس کے لئے ہمیں آہنی چنے چبانے پڑیں گے ، دانت بھی لہولہان ہوںگے، لیکن منزل پر پہنچ کر سارے زخم بھر آئیں گے اور زندگی حسین دکھائی دے گی۔ الله تعالیٰ ہمارے حال پر رحم کرے۔
رابطہ۔ 7006031540
[email protected]