عظمیٰ نیوز سروس
پونچھ//ڈائریکٹر زراعت جموں شری انیل گپتا نے ضلع پونچھ کا اپنا دو روزہ دورہ مکمل کیا جس کا مقصد محکمہ کی ترقیاتی سرگرمیوں، جاری اسکیموں کی پیش رفت کا جائزہ لینا اور کسانوں و فیلڈ عملے کے ساتھ براہ راست تبادلہ خیال کرنا تھا۔دورے کے پہلے روز ڈائریکٹر زراعت جموں نے چیف ایگریکلچر آفیسر پونچھ شری جوگ راج سنگھ سلاتھیہ کے ہمراہ نگالی صاحب پونچھ میں منعقدہ وائبرنٹ ولیجز پروگرام میں شرکت کی۔
اس پروگرام کی قیادت جموں و کشمیر کے معزز لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا نے کی۔ بعد ازاں انیل گپتا نے چیف ایگریکلچر آفیسر پونچھ کے دفتر میں ایک جائزہ میٹنگ کی صدارت کی جس میں محکمہ زراعت کی مختلف اسکیموں اور پروگراموں کے تحت حاصل شدہ مالی و جسمانی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔میٹنگ کے دوران چیف ایگریکلچر آفیسر نے ضلع میں جاری محکمانہ سرگرمیوں، کامیابیوں اور درپیش چیلنجز پر مبنی تفصیلی رپورٹ پیش کی۔ اس موقع پر ڈائریکٹر زراعت نے موجودہ مالی سال کے مقررہ اہداف بروقت مکمل کرنے، دستیاب وسائل کے مؤثر استعمال اور فیلڈ سرگرمیوں کی مسلسل نگرانی کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری اسکیموں کا زیادہ سے زیادہ فائدہ کسانوں تک پہنچانا محکمہ کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔دورے کے دوسرے دن شری انیل گپتا نے سب ڈویژن سرنکوٹ کا دورہ کیا جہاں انہوں نے ضلع اور سب ڈویژن سطح کے افسران کے ہمراہ مختلف زرعی سرگرمیوں کا معائنہ کیا۔ سب سے پہلے انہوں نے گاؤں مدانہ، زون لسانہ کے رہائشی شری فرہاد چودھری کے ہائی ٹیک پولی ہاؤس کا معائنہ کیا اور جدید زرعی ٹیکنالوجی اپنانے پر کسان کی ستائش کی۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ محفوظ کاشتکاری جدید دور میں زرعی پیداوار، فصلوں کے معیار اور کسانوں کی آمدنی میں اضافے کا ایک مؤثر ذریعہ بن چکی ہے۔بعد ازاں انہوں نے ’کھیت بچاؤ ابھیان‘ کے تحت ساموٹ، زون سرنکوٹ میں منعقدہ بیداری پروگرام میں شرکت کی۔ اس دوران انہوں نے کسانوں سے زراعت کے شعبے میں درپیش مسائل، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور محکمانہ اسکیموں سے حاصل ہونے والے فوائد کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ انہوں نے متوازن کھادوں کے استعمال، مٹی کی صحت کے بہتر انتظام اور موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ زرعی طریقوں کو اپنانے کی اہمیت اجاگر کی۔ڈائریکٹر زراعت نے سموٹ پوتھا کے رہائشی شری طارق محمود کے ہائی ٹیک پولی ہاؤس کا بھی معائنہ کیا اور علاقے میں محفوظ کاشتکاری کے کامیاب نفاذ پر اطمینان ظاہر کیا۔
انہوں نے کسانوں کو زیادہ منافع بخش فصلوں کی طرف راغب ہونے کی ترغیب دی تاکہ ان کی معاشی حالت مزید بہتر ہو سکے۔اس دوران شری انیل گپتا نے سرنکوٹ میں سال 2025-26 کے دوران قائم کیے گئے نئے سوائل ٹیسٹنگ لیبارٹری کا بھی معائنہ کیا۔ انہوں نے لیبارٹری میں دستیاب آلات اور عملے کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ مٹی کی جانچ متوازن غذائی اجزاء کے انتظام اور زمین کی زرخیزی برقرار رکھنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت دی کہ مٹی کے نمونوں کی بروقت جانچ یقینی بنائی جائے تاکہ کسان سائنسی بنیادوں پر کھادوں کا استعمال کر سکیں۔دورے کے دوران ڈائریکٹر زراعت نے پنچایت لوئر سرنکوٹ اور اپر سرنکوٹ میں قائم کسان خدمت گھروں کا بھی معائنہ کیا اور وہاں فراہم کی جانے والی سہولیات کا جائزہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ کسان خدمت گھر دیہی سطح پر زرعی خدمات فراہم کرنے کے اہم مراکز ہیں جہاں کسانوں کو معیاری زرعی ادویات، تکنیکی رہنمائی اور سرکاری اسکیموں سے متعلق معلومات فراہم کی جاتی ہیں۔انیل گپتا نے کرشی ادیامی رابعہ منہاس سے بھی ملاقات کی اور مقامی کسانوں میں زرعی خدمات کو فروغ دینے کے لیے ان کی کوششوں کی سراہنا کی۔ انہوں نے کہا کہ زرعی صنعت کاری دیہی نوجوانوں اور خواتین کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کر رہی ہے اور زرعی شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے تعلیم یافتہ نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ حکومت کی مختلف اسکیموں سے فائدہ اٹھا کر زرعی شعبے میں آگے آئیں۔