عظمیٰ ویب ڈیسک
جموں/جموں و کشمیر اور لداخ کے درمیان ہر موسم میں رابطہ فراہم کرنے والے اہم اور اسٹریٹجک زوجیلا ٹنل منصوبے میں ایک تاریخی سنگ میل حاصل ہونے جا رہا ہے۔ 13.153 کلومیٹر طویل مرکزی ٹنل کا آخری بریک تھرو 9 جون کو متوقع ہے، جس کے بعد یہ منصوبہ تکمیل کے ایک اہم مرحلے میں داخل ہو جائے گا۔
سرکاری بیان کے مطابق بالتل (سونہ مرگ) اور مینہ مرگ (دراس، کرگل) کے درمیان تعمیر کی جا رہی یہ ٹنل دنیا کی بلند ترین سطح پر واقع سب سے طویل سنگل ٹیوب دوطرفہ سڑک ٹنل بنے گی۔ تقریباً 11,578 فٹ کی بلندی پر تعمیر ہونے والا یہ منصوبہ ہندوستانی انفراسٹرکچر کی تاریخ میں ایک غیر معمولی انجینئرنگ کارنامہ تصور کیا جا رہا ہے۔
زوجیلا پاس شدید برفباری، برفانی تودوں اور خراب موسمی حالات کے باعث ہر سال کئی ماہ تک بند رہتا ہے، جس سے لداخ کا زمینی رابطہ متاثر ہوتا ہے۔ اس منصوبے کا بنیادی مقصد کشمیر اور لداخ کے درمیان سال بھر آمد و رفت کو یقینی بنانا ہے۔
مرکزی ٹنل کا آغاز بالتل میں واقع مغربی داخلی راستے (West Portal) سے ہوتا ہے جبکہ اس کا اختتام مینہ مرگ میں مشرقی داخلی راستے (East Portal) پر ہوگا۔ ٹنل کی کھدائی دونوں جانب سے کی گئی ہے اور آخری بریک تھرو اس بات کی علامت ہے کہ زیرِ زمین کھدائی کا سب سے اہم اور مشکل مرحلہ کامیابی سے مکمل ہو چکا ہے۔
یہ منصوبہ نیشنل ہائی ویز اینڈ انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ کارپوریشن لمیٹڈ (NHIDCL) کے لیے میگھا انجینئرنگ اینڈ انفراسٹرکچر لمیٹڈ (MEIL) کے ذریعے تعمیر کیا جا رہا ہے۔
ٹنل کی تعمیر کے لیے نیو آسٹرین ٹنلنگ میتھڈ (NATM) استعمال کیا گیا ہے، جو ہمالیائی خطے کی نازک ارضیاتی ساخت اور متغیر چٹانی حالات کے لیے موزوں ترین طریقہ سمجھا جاتا ہے۔ اس تکنیک کے ذریعے انجینئرز کو بدلتے زمینی حالات کے مطابق فوری حفاظتی اقدامات اختیار کرنے میں مدد ملی ہے۔
منصوبے میں صرف مرکزی ٹنل ہی شامل نہیں بلکہ رابطہ سڑکیں، پل، حفاظتی ڈھانچے، کٹ اینڈ کور سیکشنز، برف سے تحفظ کے انتظامات اور نلگرار کے جڑواں ٹنلز بھی شامل ہیں، جس سے یہ ایک مکمل ٹرانسپورٹ راہداری کی شکل اختیار کر چکا ہے۔
منصوبہ مکمل ہونے کے بعد سری نگر، دراس، کرگل اور لیہ کے درمیان 365 دن آمد و رفت ممکن ہو سکے گی، جس سے نہ صرف عوامی سہولتوں اور سیاحت کو فروغ ملے گا بلکہ سامان کی ترسیل اور علاقائی معیشت کو بھی فائدہ پہنچے گا۔
زوجیلا ٹنل کو اسٹریٹجک اعتبار سے بھی انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ یہ سرحدی علاقوں میں فوجی نقل و حرکت اور لاجسٹک صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنائے گی۔
سرکاری بیان کے مطابق منصوبے پر تعمیراتی کام یکم اکتوبر 2020 کو شروع ہوا تھا جبکہ نلگرار ٹنل میں پہلی بلاسٹنگ 14 اکتوبر 2020 کو انجام دی گئی۔ منصوبے کے پہلے مرحلے، جس میں رابطہ سڑکیں، پل، نلگرار ٹوئن ٹنلز، کٹ اینڈ کور ورکس اور سنو گیلریاں شامل تھیں، کو 15 مارچ 2025 کو مکمل کر لیا گیا تھا۔
پورے منصوبے کی مجموعی لمبائی، بشمول سڑکوں اور پلوں کے، 30.894 کلومیٹر ہے جبکہ مرکزی زوجیلا ٹنل کی لمبائی 13.153 کلومیٹر ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اپریل 2026 تک منصوبے میں 10 ملین محفوظ افرادی گھنٹوں (Safe Man-Hours) کا ہدف بھی حاصل کیا جا چکا ہے، جو تعمیراتی سرگرمیوں میں حفاظتی معیارات کی عکاسی کرتا ہے۔
دریں اثنا، مرکزی وزیر برائے سڑک ٹرانسپورٹ و شاہراہیں نتن گڈکری 9 جون کو زوجیلا ٹنل کے تاریخی بریک تھرو بلاسٹ کو باضابطہ طور پر انجام دیں گے، جو جموں و کشمیر اور لداخ کے درمیان مستقل زمینی رابطے کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہوگا۔