سمت بھارگو
راجوری//جموں و کشمیر کے سرحدی ضلع راجوری میں جاری انسدادِملی ٹینسی آپریشن مسلسل تیرہویں روز بھی جاری رہا، جسے گزشتہ ڈیڑھ دہائی کے دوران ضلع کا سب سے طویل آپریشن قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ وسیع پیمانے کا آپریشن منجاکوٹ پولیس اسٹیشن کے دائرہ اختیار میں آنے والے گمبھیر مغلاں کے دھوری مہل علاقے میں جاری ہے، جہاں سیکورٹی فورسز نے پورے علاقے کا سخت محاصرہ کر رکھا ہے اور گھنے جنگلات میں بڑے پیمانے پر تلاشی کارروائیاں انجام دی جا رہی ہیں۔ذرائع کے مطابق سیکورٹی فورسز، جن میں فوج، جموں و کشمیر پولیس اور دیگر نیم فوجی دستے شامل ہیں، جدید آلات اور نگرانی کے خصوصی نظام کے ساتھ جنگلاتی علاقوں میں دہشت گردوں کی تلاش میں مصروف ہیں۔ آپریشن کے دوران کئی مقامات پر اضافی نفری بھی تعینات کی گئی ہے تاکہ دہشت گرد کسی بھی صورت میں علاقے سے فرار نہ ہو سکیں۔یہ آپریشن اب راجوری ضلع کی حالیہ تاریخ کے اہم ترین اور طویل ترین انسدادِ دہشت گردی آپریشنز میں شمار کیا جا رہا ہے۔ مقامی سطح پر اس کا موازنہ سنہ 2021 میں ضلع پونچھ کے مینڈھر علاقے کے ناڑ۔بھاٹہ دھوڑیاںآپریشن سے کیا جا رہا ہے، جو تین ہفتوں سے زائد عرصے تک جاری رہا تھا۔ موجودہ کارروائی نے ایک مرتبہ پھر راجوری کے سرحدی علاقوں میں سیکورٹی خدشات اورملی ٹینسی کے خطرات کو اجاگر کر دیا ہے۔تیرہویں روز بھی سیکورٹی فورسز نے جنگلاتی علاقوں میں اپنی تلاشی مہم کو مزید تیز کیا۔
ذرائع کے مطابق آپریشن کے مقام سے وقفے وقفے سے فائرنگ کی آوازیں سنائی دیں، جس سے اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ فورسز اورملی ٹینسی کے درمیان رابطہ اب بھی برقرار ہے۔ اس کے علاوہ گزشتہ کئی دنوں سے علاقے میں زور دار دھماکوں کی آوازیں بھی سنائی دے رہی ہیں، جس سے مقامی آبادی میں خوف و ہراس کی کیفیت پیدا ہو گئی ہے۔اگرچہ حکام کی جانب سے آپریشن کی پیش رفت یا ممکنہ نتائج کے بارے میں کوئی تفصیلی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا، تاہم سیکورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ کارروائی انتہائی حساس مرحلے میں داخل ہو چکی ہے اور فورسز پوری احتیاط کے ساتھ آپریشن انجام دے رہی ہیں۔ذرائع کے مطابق یہ آپریشن اْس وقت شروع کیا گیا تھا جب سیکورٹی ایجنسیوں کو علاقے میں ملی ٹینٹوں کی موجودگی سے متعلق خفیہ اطلاع موصول ہوئی۔ اطلاع کے بعد فورسز نے مشترکہ سرچ آپریشن شروع کیا، جس دوران ملی ٹینٹوںکے ساتھ رابطہ قائم ہوا اور دونوں جانب سے فائرنگ کا تبادلہ شروع ہوگیا۔ اسی ابتدائی انکاؤنٹر کے بعد پورے علاقے میں وسیع پیمانے پر آپریشن کا دائرہ بڑھا دیا گیا۔مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ مسلسل سیکورٹی سرگرمیوں، نقل و حرکت پر پابندیوں اور جنگلاتی علاقوں میں جاری کارروائیوں کی وجہ سے روزمرہ زندگی متاثر ہو رہی ہے۔ کئی دیہات کے لوگ خوف اور غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں، جبکہ بچوں اور بزرگوں میں بھی تشویش پائی جا رہی ہے۔دفاعی ماہرین کے مطابق راجوری اور پونچھ کے پہاڑی و جنگلاتی علاقے دہشت گردوں کے لیے چھپنے کے اعتبار سے حساس سمجھے جاتے ہیں، جس کی وجہ سے ایسے آپریشن اکثر طویل ہو جاتے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ موجودہ آپریشن کی طوالت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ سیکورٹی فورسز انتہائی باریکی اور احتیاط سے سرچ مہم چلا رہی ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کو مکمل طور پر ختم کیا جا سکے۔ادھر پورے ضلع میں سیکورٹی الرٹ برقرار ہے اور حساس مقامات پر نگرانی مزید سخت کر دی گئی ہے۔ عوام امید ظاہر کر رہے ہیں کہ سیکورٹی فورسز جلد اس آپریشن کو کامیابی کے ساتھ مکمل کریں گی تاکہ علاقے میں امن و امان کی صورتحال بحال ہو سکے۔