پرویز احمد
سرینگر //جموں و کشمیر میں7 عام صحت کے مسائل ہیں جو آبادی کی اکثریت کو متاثر کرتے ہیں۔متعدی یا متعدی بیماریاں وہ ہیں جو ایک شخص سے دوسرے میں پھیلتی ہیں۔ یہ عالمی بیماریاں ہیں، لیکن ہر بیماری موت اور معذوری کا باعث نہیں بنتی۔ اس بیماری کے پھیلنے کی بڑی وجہ طرز زندگی ہے، جیسے حفظان صحت کا خیال نہ رکھنا، کم سے کم حفظان صحت کے ساتھ جنک فوڈ کھانا، طرز زندگی اور انسانی سرگرمیوں میں مکمل تبدیلی، قوت مدافعت کی کمی اور بہت کچھ۔ متعدی بیماریوں میں ملیریا، ایچ آئی وی، تپ دق، جنسی طور پر منتقل ہونے والی بیماریاں، وائرس اور بہت سی دوسری بیماریاں ہیں۔کشمیر میں بلڈ شوگر، ہائی بلڈ پریشر ، مختلف اقسام کے سرطان، ذہنی امراض، امراض قلب ، گردوں کی بیماریاں کے علاوہ اور مختلف انفیکشنوں کی وجہ سے ہونے والی بیماریوںمیں ہر گذرتے دن کے ساتھ اضافہ ہورہا ہے ۔ بین الاقوامی اور ملکی صورتحال کی طرح وادی میں بھی لوگوں کو طرز زندگی میں تبدیلی اور وقت وقت پر نمودار ہونے والی وبائی بیماریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ طرز زندگی میں تبدیلی کی وجہ سے ہونے والی بیماریوں جیسے بلڈ پریشر، شوگر، سرطان ، امراض قلب ، اعصابی بیماریاں، سٹروک، گردوں کی مختلف بیماریاں، موٹاپا، ذہنی بیماریاں لوگوں کو متاثر کررہی ہیں ۔ اس کے علاوہ کشمیر میں موسم بہار کے بعد انفیکشن کی بیماری عام ہے۔جو مختلف وائرس کی وجہ سے ہونے پھیلتا ہے۔ ایچ آئی وی، فلو، سوائن فلو، کورونا وائرس ، انفلنزا، Hapititisاور گندے پانی کی وجہ سے ہونے والی بیماریاں جیسے دست، آنتوں کا انفکیشن، پیٹ درد، سردرد ، بخار اوردیگر بیماریاں بھی تیزی سے لوگوں کو متاثر کررہی ہیں۔
وبائی بیماریاں
وبائی بیماریاں وہ بیماریاں ہوتی ہیں جو ہو، پانی اور ایک انسان کے دوسرے انسان کے ساتھ رابطے میں آنے کی وجہ سے پھیلتی ہیں لیکن ان بیماریوں کی وجہ سے ہر کوئی مرتا نہیں ہے۔ وادی میں پائی جانے والی وبائی بیماریوں میں ایچ آئی وی، ٹی بی، کورونا وائرس، جنرل فلیو ، سوائن فلیو ، ایبولا وائرس اور دیگر بیماریاں شامل ہیں۔
طرز زندگی میں تبدیلی
طرز زندگی میں تبدیلی کی وجہ سے کئی بیماریوں نے جنم لیا ہے اور وبائی بیماریوں کا رخ اختیار کیا ہے۔ ان بیماریوں کو غیر متعدی بیماریوں کے زمرے میں رکھا جاتا ہے ۔ ان بیماریوں میں موٹاہا،شوگر، ہائی بلڈ پریشر، امراض قلب ، اعصابی امراض اور دیگر امراض شامل ہیں۔ وادی میں ماحولیاتی آلودگی اور گندے پانی کی سپلائی کی وجہ سے لوگ چھاتی کے مختلف امراض کے علاوہ آنتوں کے امراض میں بھی مبتلا ہورہے ہیں۔ وادی میں بچوں میں ہونے والی بیماریاں سب سے بڑا چیلنج بن کر ابھری ہیں۔
ذہنی امراض
وادی میں 21فیصد لوگ مختلف ذہنی امراض کے شکار ہیں جن میں مرگی، پاگل پن ، بے چینی الزمریا اور دیگر بیماریاں ہیں۔ بیشتر لوگوں کا کہنا ہے کہ حکومت پچھلی کئی دہائیوں سے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط کرنے کا دعویٰ کررہی ہے لیکن نہ تو بنیادی ڈھانچہ مضبوط ہورہا ہے اور نہ بنیادی ڈھانچہ مضبوط ہورہا ہے۔ محکمہ صحت و طبی تعلیم نے بتایا ’’ اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ سرکاری ہسپتالوں میں بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے کی کوشش کی جارہی ہے لیکن ان کوششوں میں مریضوں کو دی جانے والی طبی سہولیات میں کوئی بہتری نہیں آئی ہے۔ مذکورہ افسر نے بتایا ’’ سرکاری ہسپتال میں طبی نگہداشت دن بہ دن کمزور ہورہا ہے جس کو بہتر بنانے کی اشد ضرورت ہے۔