عظمیٰ نیوز سروس
نئی دہلی//وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ نے جمعرات کو ڈی ایف پی ڈی ایس-2026 (دفاعی خدمات کے مالی اختیارات کی تفویض) جاری کردی، جس کے تحت دفاعی شعبے میں آمدنی سے متعلق خریداری کے لیے مالی اختیارات میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔ اس نظام کے تحت سالانہ ایک لاکھ 25 ہزار کروڑ روپے سے زائد مالیت کی خریداری ممکن ہو سکے گی۔راج ناتھ سنگھ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں وزارتِ دفاع اور مسلح افواج کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ نئے مالی اختیارات سے دفاعی خریداری کے عمل میں تیزی آئے گی اور افواج کی ضروریات کو بروقت پورا کرنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک اہم اقدام ہے جس سے فیلڈ کمانڈروں کو زیادہ اختیارات حاصل ہوں گے، فیصلہ سازی کا عمل تیز ہوگا اور افواج کی عملی تیاری مزید مضبوط ہوگی۔ان کے مطابق نئی پالیسی دفاعی شعبے میں تحقیق و ترقی کو فروغ دے گی اور غیر ملکی اصل ساز و سامان تیار کرنے والی کمپنیوں پر انحصار کم کرے گی۔
وزیرِ دفاع نے کہا کہ اس اقدام سے دفاعی شعبے میں خود کفالت کو فروغ ملے گا اور نجی کمپنیوں، چھوٹی و درمیانی صنعتوں اور نئے کاروباری اداروں کی شمولیت بڑھے گی۔ انہوں نے بتایا کہ تعمیراتی منصوبوں کے لیے مالی اختیارات دوگنا کر دیے گئے ہیں تاکہ بنیادی ڈھانچے کے منصوبے تیزی سے مکمل کیے جا سکیں۔وزارتِ دفاع کے مطابق مقامی سطح پر دفاعی سازوسامان کی تیاری اور تحقیق و ترقی کے لیے مختص مالی اختیارات بھی دوگنا کر دیے گئے ہیں تاکہ ’’آتم نربھر بھارت‘‘ کے ہدف کو تقویت ملے اور غیر ملکی کمپنیوں پر انحصار کم ہو۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ فوج، فضائیہ اور بحریہ کے کمانڈروں کو دیے گئے خصوصی مالی اختیارات میں بھی نمایاں اضافہ کیا گیا ہے، جبکہ ہنگامی آپریشنل ضروریات پوری کرنے کے لیے مقررہ مالی حد میں سو فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ئے نظام میں مشترکہ دفاعی خریداری کو فروغ دینے کے لیے بھی خصوصی دفعات شامل کی گئی ہیں، جبکہ سامان اور خدمات کی خریداری کے عمل کو مزید غیر مرکزی بنانے کے لیے کئی نئے مجاز مالی حکام مقرر کیے گئے ہیں۔ وزارتِ دفاع کے مطابق مالی اختیارات کا آخری بار 2021 میں ازسرِ نو تعین کیا گیا تھا۔ موجودہ ترمیم مسلح افواج کی بڑھتی ہوئی ضروریات، آپریشنل اخراجات اور دفاعی بجٹ میں اضافے کو مدنظر رکھتے ہوئے کی گئی ہے۔