پرویز احمد
سرینگر //جموں و کشمیر میں شوہر کے ہاتھوں تشدد کی شکار ہونے والی خواتین کی شرح میں 6.3فیصد کی کمی درج کی گئی ہے جبکہ سال 2023-24کے دوران خواتین کو با اختیار بنانے کی کوششوں کی وجہ سے گھر کے اہم فیصلوں میں حصہ لینے والی خواتین کی شرح میں تقریباً 10فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ نیشنل فیملی ہیلتھ سروے کے مطابق جموں و کشمیر میں سال 2019-21کے دوران شو ہر کے ہاتھوں تشدد کی شکار ہونے والے خواتین کی شرح 9.7فیصد تھی جو تازہ نیشنل ہیلتھ فیملی سروے میں کم ہوکر 3.4فیصد رہ گئی ہے۔ اس طرح شوہر کے ہاتھوں تشدد کی شکار خواتین کی شرح میں 6.3فیصد کی کمی آئی ہے۔شو ہر کے ہاتھوں تشدد کی شکار خواتین میں سے 3.7فیصد کا تعلق دیہی علاقوں سے جبکہ شہری علاقوں میں 2.4فیصد خواتین کو شوہر کے ہاتھوں تشدد کا سامنا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دوران زچگی تشدد کے شکار خواتین کے بارے میں بھی تقریباً 0.8فیصد کمی ہوئی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 18سے 49سال کی خواتین میں سال 2019-21کے دوران 1.2فیصد خواتین کو دوران زچگی تشدد کا سامنا کرنا پرتا تھا جو اب کم ہوکر صرف 0.4فیصد رہ گیا ہے۔
تشدد کی شکار حاملہ خواتین میں 0.8کا تعلق شہری علاقوں جبکہ 0.3فیصد کا تعلق دیہی علاقوں سے ہے۔ نوجوان لڑکیوںکے خلاف جنسی تشدد کے حوالے رپورٹ میں تذکرہ کرتے ہوئے لکھا گیا ہے کہ جموں و کشمیر میں سال 2019-2021کے دوران صرف 0.1فیصد نوجوان لڑکیوں کو جنسی تشدد کا سامنا کرنا پڑتا تھا اور یہ ابھی بھی 0.1فیصد ہی ہے۔ رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ شہری علاقوں میں نوجوان لڑکیوں کو جنسی تشدد کا سامنا نہیں ہے لیکن دیہی علاقوں میں 0.1فیصد لڑکیوں کو جنسی تشدد کا سامنا ہے۔ خواتین کو با اختیار بنانے کے حوالے سے رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ جموں و کشمیر میں اہم گھریلو فیصلوں میں حصہ لینے والی خواتین کی شرح میں تقریباً 10فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔سال 2019-21میں اہم گھریلو فیصلوں میں حصہ لینے والی خواتین کی شرح 81.6فیصد تھی جو اب بڑھ کر 91.3فیصد ہوگئی ہے۔ ان میں 95.8فیصد کا تعلق شہری اور دیہی علاقوں میں 90.1فیصد خواتین کو یہ حق حاصل ہے۔ اس سے قبل 18.4فیصد خواتین کو جموں و کشمیر میں نقد تنخواہ دی جاتی تھی لیکن اب اس شرح میں بھی کمی آئی ہے۔ اب 14.2فیصد خواتین کو نقد تنخواہ دی جاتی ہے جن میں13.4فیصد کا تعلق شہری جبکہ 14.4فیصد کا تعلق دیہی علاقوں سے ہے۔ 2019-21کے دوران صرف 84فیصد خواتین خود ہی بینک کھاتے چلاتی تھیں اور اب ان خواتین کی تعداد 93فیصد ہوگئی ہے۔ اس طرح بینک کھاتے چلانے والی خواتین کی شرح میں 9فیصد اضافہ ہوگیا ہے۔ خواتین میں پہلے 75.2فیصد خواتین موبائیل فون کا استعمال کرتی تھی جو تقریباً2فیصد اضافہ کے ساتھ 76.9فیصد تک پہنچ گئی ہے۔