عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر// محکمہ وائلڈ لائف نے ایک نر کستوری ہرن کو مارنے والے چار شکاریوں کو پکڑنے کی تلاش شروع کر دی ہے۔ مبینہ طور پر مشکِ نافہ نکال کر بلیک مارکیٹ میں فروخت کرنے کے لیے وادی میں گریز کے جنگلات میں کستوری ہرن کا شکار کیا گیا۔وائلڈ لائف حکام نے بتایا کہ انہوں نے شکاریوں میں سے ایک کی شناخت کر لی ہے جو راجوری ضلع کا قبائلی ہے۔ شمالی کشمیر کے وائلڈ لائف وارڈن انتظار سہیل نے بتایا کہ “ہم واقعے کی جانچ کر رہے ہیں۔ اب تک ایک شخص کی شناخت ہو گئی ہے۔ وہ راجوری کا ایک قبائلی ہے۔ گرفتاری کا وارنٹ جاری کر دیا گیا ہے اور مزید کارروائی کی جائے گی۔”واضح رہے کہ وٹس ایپ کے ذریعے شکاریوں کی تصویر اور ویڈیو لیک ہونے کے بعد وائلڈ لائف حکام حرکت میں آ گئے۔
سہیل نے کہا کہ “اطلاع کے مطابق، یہ واقعہ ایک ہفتہ قبل گریز کے علاقے میں پیش آیا۔ تمام تفصیلات تحقیقات کے دوران اکٹھی کی جائیں گی اور مناسب کارروائی کی جائے گی۔”تصویر میں تین شکاریوں کو چاقو سے نایاب ہرن کے مشک نافہ کو کاٹتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جب کہ قریب کھڑے ایک شکاری کو بندوق کے ساتھ دیکھا جا سکتا ہے۔ وہیں ویڈیو میں ایک شکاری اپنے کندھوں پر مردہ ہرن اٹھائے ہوئے نظر آتا ہے جب کہ دوسرا شکاری اس کے آگے آگے چل رہا ہے جو مبینہ طور پر بندوق اٹھائے ہوئے ہے۔ واضح رہے کہ اس جانور کو کو خطرے سے دوچار نسل کے زمرے میں رکھا گیا ہے اور اس کا شکار ممنوع اور قانوناً جرم ہے۔ خطرے سے دوچار ہرن کے شکار اور غیر قانونی شکار کا واقعہ ایک ہفے قبل ضلع بانڈی پورہ کے گریز جنگل کے دودھپتی کسر علاقے میں پیش آیا تھا۔وائلڈ لائف کے حکام نے کہا کہ رینج آفیسر اور وائلڈ لائف حکام سمیت ایک ٹیم کو اس “سفاکانہ عمل” کی تحقیقات کے لیے گریز روانہ کر دیا گیا ہے۔ ہرن کی ہلاکت نے غم و غصے لہر کو جنم دیا ہے اور محکمہ جنگلی حیات پر سوالات اٹھائے ہیں جس پر نایاب ہرن کے غیر قانونی شکار کو “نہ روکنے” کا الزام لگایا جا رہا ہے۔