عظمیٰ ویب ڈیسک
نئی دہلی/ہندستان نے چین اور پاکستان کے مشترکہ بیان میں مرکز کے زیر انتظام علاقے جموں و کشمیر کے ذکر کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے اسے مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے اور سخت تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ جموں و کشمیر ہندستان کا اٹوٹ حصہ ہے اور کسی بھی دوسرے ملک کو اس معاملے پر تبصرہ کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے منگل کو اس سلسلے میں میڈیا کے سوالات کے جواب میں نام نہاد چین-پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کو قانونی حیثیت دینے کی کوششوں کی یہ کہتے ہوئے مخالفت کی کہ یہ قدم ہندستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ انہوں نے چین اور پاکستان کے درمیان نام نہاد ’’سرحد پار آبی وسائل تعاون‘‘ سے متعلق بیان کی بھی مخالفت کی اور کہا کہ ہندستان نے اس سے متعلق کسی بھی معاہدے کو کبھی تسلیم نہیں کیا۔
ترجمان نے چین اور پاکستان کے مشترکہ بیان میں جموں و کشمیر کے ذکر پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا، ’’ہندستان ، چین اور پاکستان کے مشترکہ بیان میں مرکز کے زیر انتظام خطہ جموں و کشمیر کے بارے میں غیر ضروری ذکر کو مکمل طور پر مسترد کرتا ہے۔ ہندستان کا موقف ہمیشہ یکساں رہا ہے اور متعلقہ فریق اس سے بخوبی واقف ہیں۔ مرکز کے زیر انتظام خطے جموں و کشمیر اور لداخ ہندستان کے اٹوٹ اور ناقابل تقسیم حصے رہے ہیں اور ہمیشہ رہیں گے۔ کسی بھی دوسرے ملک کو اس معاملے پر تبصرہ کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔‘‘
چین-پاکستان اقتصادی راہداری کے بارے میں ترجمان نے کہا، ’’جہاں تک نام نہاد چین-پاکستان اقتصادی راہداری منصوبوں کا تعلق ہے، جن میں سے بعض ہندستان کے خودمختار علاقے میں واقع ہیں، ہم دوسرے ممالک کی جانب سے ان علاقوں پر پاکستان کے غیر قانونی اور زبردستی قبضے کو مضبوط یا قانونی جواز فراہم کرنے کی کسی بھی کوشش کی سختی سے مخالفت اور تردید کرتے ہیں، کیونکہ یہ اقدامات ہندستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی ہیں۔ یہ بات پاکستانی اور چینی حکام کو کئی بار واضح طور پر بتائی جا چکی ہے۔‘‘
اس کے علاوہ انہوں نے چین اور پاکستان کے درمیان نام نہاد ’’سرحد پار آبی وسائل تعاون‘‘ کی بھی مخالفت کرتے ہوئے کہا، ’’ہم نے چین اور پاکستان کے درمیان نام نہاد ’سرحد پار آبی وسائل تعاون‘ کے ذکر کو بھی دیکھا ہے۔ چونکہ ان دونوں ممالک کے درمیان کوئی مشترکہ سرحد نہیں ہے، اس لیے نام نہاد ’سرحد پار آبی وسائل تعاون‘ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ہندستان نے پاکستان اور چین کے درمیان 1963 کے نام نہاد سرحدی معاہدے کو کبھی تسلیم نہیں کیا ہے۔‘‘قابل ذکر ہے کہ اطلاعات کے مطابق پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورۂ چین کے دوران جاری مشترکہ بیان میں جموں و کشمیر مسئلے کا حل قوم متحدہ کی قراردادوں کے تحت نکالنے کی بات کہی گئی ہے۔
چین-پاکستان کو ہندستان کا منہ توڑ جواب، کہا جموں و کشمیر ہندستان کا اٹوٹ حصہ، کسی دوسرے ملک کو تبصرہ کرنے کا حق نہیں