محمد تسکین
بانہال // ضلع رام بن کی سب ڈویژن رامسو میں سینا بتی سے گجراڑہ تک تعمیر کی جارہی تقریباً ساڑھے تین کلومیٹر طویل رابطہ سڑک کے کام میں مبینہ بے ضابطگیوں اور غیر معیاری تعمیراتی میٹریل کے استعمال پر مقامی لوگوں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ مقامی لوگوں نے الزام عائد کیا ہے کہ سڑک کی تعمیر میں ٹینڈر شرائط اور قواعد و ضوابط کی کھلی خلاف ورزی کی جارہی ہے، جس کے باعث مستقبل میں سڑک کی پائیداری اور عوامی سلامتی متاثر ہوسکتی ہے۔مقامی لوگوں نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ سینا بتی تا گجراڑہ سڑک کے حساس اور لینڈ سلائیڈ سے متاثرہ مقامات پر حفاظتی دیواریں اور برسٹ وال تعمیر کرنے کے بجائے مبینہ طور پر بااثر افراد کی زمینوں کے قریب ترجیحی بنیادوں پر حفاظتی کام انجام دیے جارہے ہیں اور ان لوگوں کے کہنے پر ہی دیواروں کو لگایا جا رہا ہے ۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ کئی رہائشی مکانات خطرے کی زد میں ہیں، تاہم ان مقامات پر حفاظتی دیواروں کی تعمیر کو نظر انداز کیا جارہا ہے اور شنوائی نہیں ہو رہی ہے۔ علاقہ کے مکینوں نے مزید الزام لگایا کہ سڑک کی تعمیر میں معیاری بجری کے بجائے مقامی نالے سے نکالی گئی مٹی ملی بجری استعمال کی جارہی ہے، جس سے سڑک کے معیار پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ناقص میٹریل کے استعمال سے سڑک جلد خستہ حال ہوسکتی ہے اور یہ کام سرکاری فنڈز کا غلط استعمال کے زمرے میں آتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سڑک کی کھدائی کے دوران نکالے جانے والے ملبے کو مناسب جگہ منتقل کرنے کے بجائے قریبی زرعی زمینوں میں پھینکا جارہا ہے، جس کے نتیجے میں مقامی لوگوں کی ملکیتی زمینوں اور درختوں کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ عوام نے ضلع انتظامیہ رام بن اور محکمہ تعمیراتِ عامہ کے ایگزیکٹو انجینئر سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں اور سڑک کی تعمیر میں مبینہ طور پر ٹھیکیدار اور محکمہ اہلکاروں کے درمیان ملی بھگت کا نوٹس لیا جائے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ علاقہ گزشتہ سات دہائیوں سے بہتر سڑک رابطے کا منتظر ہے، اس لیے ضروری ہے کہ منصوبے کو معیاری انداز میں مکمل کیا جائے تاکہ عوام کو دیرپا سہولیات فراہم ہوسکیں اور سرکاری خزانے کا صحیح استعمال یقینی بنایا جاسکے۔