پرویز احمد
سرینگر //کشمیر کے بڑے ہسپتالوں اور دور دراز علاقوں کو ایمبولینسوں کی شدید کمی کا سامنا ہے، جہاں بہت سی سہولیات میں ایڈوانسڈ لائف سپورٹ (ALS)سسٹم نہیں ہیں۔ آپریشنل 108/102 خدمات کے باوجود، نازک مریضوں کو اکثر وینوں اور دیہی علاقوں جیسے کپواڑہ سے عام گاڑیوںمیں لے جایا جاتا ہے۔ موجودہ ایمبولینسوں کو محض ٹرانسپورٹ گاڑیوں کے طور پر جانا جاتاہے، جن میں اکثر بنیادی لائف سپورٹ سسٹم کا فقدان ہے۔ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کشمیر نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ایئر ایمبولینس سروسز کی عدم موجودگی سے ایمرجنسی کے دوران جانیں ضائع ہو جاتی ہیں۔ لوگوں کو بہتر طبی نگہداشت فراہم کرنے کیلئے کئی ضلع ہسپتالوں کو میڈیکل کالجوں میں تبدیل کردیا گیا ہے لیکن اس کے بائوجود 9ضلع ہسپتالوں میں مریضوں کو ایمبولنس کیلئے کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ وادی کے 9ضلع ہسپتالوں میں ٹریف حادثات میں زخمی ہونے والے، اچانک حرکت قلب بند ہونے اور سٹروک کے شکار مریضوں کو ہسپتال پہنچانے کیلئے صرف 41ایمبولنس گاڑیاں موجود ہیں۔ ان گاڑیوں میں 7ایمبولنس گاڑیاں جی ایم سی بارہمولہ، ہندوارہ اور اننت ناگ میں ہیں ۔اس کے علاوہ 6ضلع ہسپتالوں میں 34ایمبولنس گاڑیاں دستیاب ہیں لیکن ان میں سے ایمرجنسی صورتحال سے نپٹنے کیلئے طبی آلات نصب نہیں ہیں جبکہ ایک ایمبولنس خراب پڑی ہے۔ 9ضلع ہسپتالوں میںموجود 41ایمبولنس گاڑیوں سے نہ صرف ٹریفک حادثات، ایمرجنسی صورتحال جیسے آگ کی وارداتوں میں زخمی ہونے والے افراد، حرکت قلب بند ہونے اور سٹروک سے متاثر مریضوں کو ہسپتال پہنچانے کا کام لیا جاتاہے بلکہ ان گاڑیوں کو جے ایس ایس کے سکیم (جننی ششو سرکھشا کریکرم ) کے تحت حاملہ خواتین کو گھر سے ہسپتال لانے اور زچگی کے بعد گھر منتقل کرنے کی ذمہ داریاں بھی ہوتی ہیں۔ضلع ہسپتالوں میں ایمبولنس گاڑیوں کی شدید قلت کے بائوجود بھی ان ایمبولنسزسے ہسپتالوں کیلئے ضروری ادویات اور طبی آلات کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کا کام لیا جاتا ہے اور ایسی صورتحال میں بہت کم مریض ایمبولنسز کی سہولیات سے مستفید ہوتے ہیں۔ جنوبی کشمیر میں 25لاکھ سے زائد کی آبادی کیلئے قائم 3ضلع ہسپتالوں اور ایک میڈیکل کالج سمیت مجموعی طور پر 13ایمبولنس گاڑیاں دستیاب ہیں۔جس میں سے ایک خراب پڑی ہے۔
جنوبی کشمیر
گورنمنٹ میڈیکل کالج اننت ناگ میں روزانہ آنے والے 500سے زائد مریضوں کی سہولیت کیلئے صرف 2ایمبولنس گاڑیاںدستیاب ہیں۔ یہ ایمبولنس گاڑیاں سخت علیل مریضوں کو سرینگر کے ٹریشری کیئر ہسپتالوںمیں ریفر کرنے کیلئے استعمال کی جاتی ہیں۔ جی ایم سی اننت ناگ کے کیجولٹی میڈیکل افسر ڈاکٹرکلبیر سنگھ نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ کالج میں صرف 2 ایمبولنس گاڑیاں موجود ہیں جو مریضوں کو ریفر کرنے بلکہ زچگی کے بعد خواتین کو گھر چھوڑنے کیلئے بھی استعمال کی جاتی ہیں۔کولگام ضلع ہسپتال میں صرف ایک ایمبولنس گاڑی موجود ہے جو اسوقت خراب ہونے کی وجہ سے ناقابل استعمال ہے۔ میڈیکل سپر انٹنڈنٹ ڈاکٹر سعید مسعود نے بتایا کہ ہسپتال میں ایک ایمبولنس گاڑی رضاکار تنظیم کی جانب سے فراہم کی گئی ہے جبکہ 108کی ایک گاڑی بھی دستیاب ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ڈی ایچ پورہ کے پرائمری ہیلتھ سینٹر میں موجود ایمبولنس گاڑی فراہم کرنے کی مانگ کی تھی لیکن وہ ابھی تک پوری نہیں ہوئی ہے۔ اسی طرح ضلع ہسپتال پلوامہ میں 6ایمبولنس گاڑیاں موجود ہیں جبکہ ضلع ہسپتال شوپیان میں مجموعی طور پر 4ایمبولنس گاڑیاں ہیں جن میں سے 3چھوٹی اور ایک بڑی گاڑی شامل ہیں۔
شمالی کشمیر
شمالی کشمیر کے ضلع ہسپتالوں کی صورتحال اس سے مختلف نہیں ہے بلکہ یہاں بیشتر ہسپتال مفت ایمبولنس سروسز 102/108کی گاڑیاں استعمال کرتے ہیں اور یہ گاڑیاں بھی ہسپتال منتظمین کی جانب سے اطلاع دینے پر ہی مریضوں کو ایک ہسپتال سے دوسرے ہسپتال منتقل کرنے میں اپنے گاڑیوں کا استعمال کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔ گورنمنٹ میڈیکل کالج بارہمولہ ، گورنمنٹ میڈیکل کالج ہندوارہ،، ضلع ہسپتال کپوارہ اور ضلع ہسپتال بانڈی پورہ میں مجموعی طور پر 20ایمبولنس گاڑیاں تعینات ہیں جو نہ صرف مریضوں کو ٹریشر کیئر اسپتال تک پہنچانے میں استعمال کی جاتی ہیں بلکہ حاملہ خواتین کو جے ایس ایس کے تحت مفت ایمبولنس سروس فراہم کرنے کیلئے بھی استعمال کی جاتی ہے۔ ان 20ایمبولنس گاڑیوں میں سے 10محکمہ صحت کی اپنی گاڑیاں ہیں جبکہ دیگر 10ایمبولنس گاڑیاں مفت ایمبولنس سروس چلانے والے 102/108کی ہیں۔ ضلع ہسپتال بارہمولہ جو اب گورنمنٹ میڈیکل کالج میں تبدیل کردیا گیا ہے میں مجموعی طور پر 4ایمبولنس گاڑیاں موجود ہیں جن میں سے 3ہسپتال کی اپنی گاڑیاں ہیں جبکہ ایک سی ایس آر کے تحت دی گئی ہے۔ میڈیکل کالج ہندوارہ میں اپنی کوئی بھی ایمبولنس گاڑی نہیں ہے۔ یہاں مجموعی طور پر 5ایمبولنس گاڑیاں استعمال کی جاتی ہیں جن میں سے 108کی 2گاڑیاں اور 102کی 3ایمبولنس شامل ہیں۔ بانڈی پورہ ضلع ہسپتال میں 5ایمبولنس گاڑیاں دستیاب ہیں۔
وسطی کشمیر
بڈگام اور گاندربل ضلع میں مجموعی طور پر 9ایمبولنس گاڑیاں موجود ہیں جن میں 5ضلع ہسپتال گاندربل جبکہ 4گاڑیاں ضلع ہسپتال بڈگام میں ہیں۔ ضلع ہسپتال بڈگام میں 4ایمبولنس گاڑیاں موجود ہیں ۔ بڈگام کی 8لاکھ آبادی کیلئے چار ایمبولنس گاڑیاں کافی کم ہے ۔محکمہ صحت کے بیشتر افسران کا کہنا ہے کہ ایمبولنس گاڑیوں کی شدید قلت کی وجہ سے وہ تمام مریضوں کو مفت سروس فراہم کرنے سے قاصر ہے جبکہ سبھی حالمہ خواتین کو بھی مفت ایمبولنس فراہم کرنے میں ناکام ہورہے ہیں۔ جموں و کشمیر میں نیشنل ہیلتھ مشن کے تحت بھارت کی مختلف ریاستوں میں چلائی جانے والی ایمبولنس گاڑیوں کی تعداد 500سے زائد ہے جن میں 286 مختلف ہسپتالوں میں ایمرجنسی کیلئے تعینات رہتی ہیں۔