عظمیٰ نیوز سروس
نئی دہلی//نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے)نے لال قلعہ کار بم دھماکہ کیس میں10 ملزمان کے خلاف 7,500 صفحات کی چارج شیٹ داخل کی ہے جس میں 11 لوگ مارے گئے تھے۔گزشتہ سال 10 نومبر کو قومی راجدھانی کو ہلا دینے والے امپرووائزڈ ایکسپلوسیو ڈیوائس (VBIED) دھماکے میں بھی متعدد افراد زخمی ہوئے تھے اور املاک کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا تھا۔حکام نے جمعرات کو بتایا کہ پٹیالہ ہاس کورٹ میں این آئی اے کی خصوصی عدالت میں داخل کی گئی چارج شیٹ کے مطابق، تمام 10 ملزمین، بشمول مرکزی مجرم، ڈاکٹر عمر النبی (متوفی)، انصار غزوات الہند سے منسلک تھے، جو القاعدہ برصغیر پاک و ہند (AQIS) کی شاخ ہے۔جون 2018 میں وزارت داخلہ نے القاعدہ اور اس کے تمام مظاہر کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا تھا۔
این آئی اے جس نے تفصیلی سائنسی اور فرانزک تحقیقات کے ذریعے ایک بڑی جہادی سازش کا پردہ فاش کیا ہے، نے کہاکہ مجرموں میں سے کچھ بنیاد پرست طبی پیشہ ور تھے، وہ مہلک حملہ کرنے کے لیے انصار غزوات الہند /القاعدہ نظریے سے متاثر تھے۔سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ چارج شیٹ غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ 1967، بھارتیہ نیا سنہتا 2023، دھماکہ خیز مواد ایکٹ 1908، اسلحہ ایکٹ 1959، اور عوامی املاک کو نقصان کی روک تھام ایکٹ 1984 کی متعلقہ دفعات کے تحت داخل کیا گیا ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ پلوامہ میں مقیم ڈاکٹر عمر النبی(متوفی)، فرید آباد(ہریانہ)کی الفلاح یونیورسٹی میں میڈیسن کے سابق اسسٹنٹ پروفیسر کے خلاف الزامات کو ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔تحقیقاتی ایجنسی نے بتایا کہ ڈاکٹر نبی کے علاوہ چارج شیٹ میں عامر رشید میر، جاسر بلال وانی، ڈاکٹر مزمل شکیل، ڈاکٹر عدیل احمد راتھر، ڈاکٹر شاہین سعید، مفتی عرفان احمد وگے، سویاب، ڈاکٹر بلال نصیر ملہ اور یاسر احمد ڈار شامل ہیں۔