عظمیٰ نیوز سروس
راجوری//تھنہ منڈی کے رکن اسمبلی مظفر اقبال نے ضلع راجوری میں محکمہ تعمیرات عامہ (پی ڈبلیو ڈی) کے تحت ترقیاتی منصوبوں کی غیر مساوی تقسیم پر شدید ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ضلع میں ترقیاتی فنڈز اور منصوبوں کا بڑا حصہ نوشہرہ اسمبلی حلقہ کی طرف منتقل کیا جا رہا ہے، جس کی نمائندگی نائب وزیر اعلیٰ سریندر چوہدری کرتے ہیں اور انہی کے پاس محکمہ تعمیرات عامہ کا قلمدان بھی موجود ہے۔
ایک پریس بیان میں مظفر اقبال خان نے صورتحال کو ’انتہائی سنگین‘قرار دیتے ہوئے کہا کہ اب ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے اور وہ مزید خاموش نہیں رہ سکتے۔ انہوں نے کہا کہ تھنہ منڈی اسمبلی حلقہ کے عوام کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے جبکہ دیگر علاقوں کو غیر معمولی ترجیح دی جا رہی ہے۔واضح رہے کہ مظفر اقبال خان ایک آزاد رکن اسمبلی ہیں، جو ماضی میں نیشنل کانفرنس سے وابستہ رہے، تاہم ٹکٹ نہ ملنے کے بعد انہوں نے آزاد امیدوار کی حیثیت سے انتخابات لڑے اور کامیابی حاصل کی۔ بعد ازاں انہوں نے نیشنل کانفرنس حکومت کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ بدھل اور راجوری کے اراکین اسمبلی بھی اس صورتحال پر تشویش میں مبتلا ہیں کیونکہ ان حلقوں کا ترقیاتی حصہ بھی نوشہرہ منتقل کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر تمام وسائل صرف ایک ہی حلقہ کو دیے جائیں گے تو دیگر علاقوں کے عوام کو کیا جواب دیا جائے گا۔مظفر اقبال خان نے دعویٰ کیا کہ نابارڈ سڑک منصوبوں کے تحت تھنہ منڈی کو صرف پانچ کروڑ روپے کی منظوری ملی جبکہ نوشہرہ کو تقریباً پچاس کروڑ روپے فراہم کیے گئے۔ اسی طرح تھنہ منڈی میں ایک بھی پل منظور نہیں کیا گیا جبکہ نوشہرہ میں تقریباً چالیس کروڑ روپے کے پلوں کی منظوری دی گئی ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اس معاملے کو فوری طور پر حل نہ کیا گیا تو وہ حکومت کے خلاف احتجاجی محاذ کھولیں گے، دھرنا دیں گے اور بھوک ہڑتال سمیت ہر ممکن جمہوری راستہ اختیار کریں گے۔ایم ایل اے تھنہ منڈی نے کہا کہ وہ جلد وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے ملاقات کرکے پورا معاملہ ان کے سامنے رکھیں گے تاکہ راجوری ضلع کے تمام اسمبلی حلقوں کے ساتھ یکساں انصاف کو یقینی بنایا جا سکے۔