جموں و کشمیر کے لوگوں کیلئے دیرپا امن واستحکام اور جامع ترقی کو یقینی بنانے پربھی زور
نئی دہلی//وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ سے ملاقات کی اور جموں و کشمیر سے متعلق متعدد اہم امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔دونوں رہنماؤں نے ریاستی درجہ کی بحالی، ٹرانز یکشن آف بزنس رولز، ریزرویشن کی معقولیت اور دیگر اہم اِنتظامی اور جموں و کشمیر سے متعلق عوامی فلاح و بہبود کے مسائل سمیت کئی اہم معاملات پر تبادلہ خیال کیا۔دورانِ ملاقات جموں و کشمیر کی موجودہ سیکورٹی اور اِقتصادی صورتحال پر بھی غور کیا گیااورجموں و کشمیر کے لوگوں کے لئے دیرپا اَمن و استحکام اور جامع ترقی کو یقینی بنانے پر زور دیا گیا۔وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اِنتظامی امور سے متعلق مسائل کے حل اور عوامی توقعات کو پورا کرنے کے لئے ترقیاتی و فلاحی اَقدامات میں تیزی لانے کی اہمیت کو اُجاگر کیا۔
اُنہوں نے عوامی اہمیت کے مسائل پر مرکز اور جموں و کشمیر حکومت کے درمیان مسلسل تال میل کی ضرورت پر بھی زور دیا۔یہ گفتگو خوشگوار ماحول میں ہوئی جس میں حکمرانی کو مضبوط بنانے، عوامی خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانے اور خطے میں طویل مدتی امن و خوشحالی کو یقینی بنانے سے متعلق مختلف پہلوؤں پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔قومی دارالحکومت کے لیے روانہ ہونے سے پہلے وزیر اعلیٰ نے سرینگر میں صحافیوں کو بتایا کہ پبلک سیفٹی ایونٹس کے دوران لیفٹیننٹ گورنر کو ٹیلی کام کے اختیارات دینے میں “کچھ غلط نہیں” ہے، کیونکہ وہ سیکورٹی اور امن و امان کا چارج رکھتے ہیں۔ انہوں نے نامہ نگاروں کو بتایا “یہ صحیح بات ہے، یہ اختیارات لیفٹیننٹ گورنر کے پاس ہونے چاہئیں، یہ بزنس رولزیا تنظیم نو ایکٹ کے خلاف نہیں ہے‘‘۔انہوں نے کہا کہ فون سروس یا انٹرنیٹ بند کرنے کے احکامات محکمہ داخلہ کی طرف سے جاری کیے جاتے ہیں جو کہ ایل جی کے تحت آتا ہے۔
اگر انہیں بندوق چلانے کے لیے ہمارے کندھے پر ٹیک لگانا پڑے تو یہ ہمارے لیے اچھا نہیں ہوگا کیونکہ اس میں ہمارا کوئی کردار نہیں ہے۔شراب کے معاملہ پر انہوں نے کہا، “شراب بیچنے والی یہ دکانیں ان لوگوں کے لیے ہیں جو اپنے مذہبی عقائد کے مطابق یہ چیزیں کھا سکتے ہیں۔ ہمارے مذہبی عقائد اس کی اجازت نہیں دیتے۔ مسئلہ یہ ہے کہ اپوزیشن میرے بیانات کو توڑ مروڑ کر کنفیوژن پیدا کر رہی ہے‘‘ ۔عمرعبداللہ نے کہا کہ اپوزیشن کو لوگوں کو بتانا چاہئے کہ جب وہ اقتدار میں تھے تو انہوں نے اس مسئلے کے بارے میں کیا کیا ہے۔انکاکہناتھا”میں نے اتوار کو گاندربل میں جو کہا وہ بالکل وہی ہے جو پی ڈی پی کے وزیر خزانہ نے ایوان کے فلور پر کہا۔ ہم نے کوئی نئی شراب کی دکان نہیں کھولی ہے، اور ہم اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ یہ دکانیں ایسی جگہوں پر نہ ہوں جہاں ہمارے نوجوانوں کو گمراہ کیا جا سکے‘‘۔کابینہ میں توسیع پر وزیر اعلی نے کہا کہ یہ مناسب وقت پر ہو گا۔انہوں نے مزید کہا کہ “یہ مسئلہ اپوزیشن اٹھا رہی ہے، مجھے نہیں معلوم کہ وہ کیوں پریشان ہیں، حکومت کا کام ٹھیک طریقے سے چل رہا ہے، اگلے الیکشن ساڑھے تین سال میں ہونے والے ہیں، جب توسیع یا ردوبدل ہونا ہے تو میں پارٹی قیادت سے اس پر بات کروں گا اور مناسب وقت پر کروں گا‘‘۔