اعجاز میر
سرینگر//مرکزی سڑک ٹرانسپورٹ اور شاہراہوں کی وزارت کی طرف سے تعمیر کی جارہی نئی قومی شاہراہ 444 (NH-444) پر کام برق رفتاری سے جاری ہے۔نئی قومی شاہراہ سرینگر کوبڈگام، پلوامہ، شوپیان اور کولگام کے راستے قاضی گنڈ سے جوڑنے والی ہے جس کی 105کلومیٹر طویل راہداری ہے۔ اس نئی قومی شاہراہ پربرزلہ سے ہمہامہ ہوائی اڈے تک 4 لین والا فلائی اوور اور ہمہامہ سے اوم پورہ بڈگام، چاڑورہ، نیوہ، پلوامہ، شوپیان، کولگام اور قاضی گنڈ تک 4 لین والی ہائی وے پر مشتمل پروجیکٹ کی ایک اعلیٰ ترجیحی اقدام کے طور پر نشاندہی کی گئی ہے۔یہ نئی قومی شاہراہ، موجودہ سرینگر جموں قومی شاہراہ 44 کی متبادل ہوگی جس سے موجودہ فور لین شاہراہ پر ٹریفک کا دبائو کم ہوگا ، جو کشمیر میں کنیکٹیویٹی کو بڑھانے، سیاحت کو فروغ دینے اور اقتصادی ترقی کو آگے بڑھانے کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتی ہے۔ اس شاہراہ میں برزلہ سے ہمہامہ ہوائی اڈے تک 4 لین کا فلائی اوور ہوگا، جو سرینگر انٹرنیشنل ایئرپورٹ تک بغیر کسی رکاوٹ کے رسائی کو یقینی بنائے گا، اس کے بعد اوم پورہ بڈگام، چاڈورہ، نیوہ، پلوامہ سے ہوتے ہوئے 4 لین والی شاہراہ شوپیان اور کولگام کوجواہر ٹنل کے قریب قاضی گنڈ پر ختم ہوگی۔NH-444 سرینگر اور قاضی گنڈ کے درمیان سفر کے وقت میں نمایاں طور پر کمی کرے گی، موجودہ NH-44 پر بھیڑ کو کم کریگی اور گلمرگ، پہلگام، اور سرینگر بین الاقوامی ہوائی اڈے جیسے اہم مقامات تک رسائی کو بہتر بنائے گی۔ شاہراہ کولگام،شوپیان،پلوامہ اوربڈگام کے دیہی علاقوں کے ساتھ رابطے کو بھی بڑھا دے گی اور مقامی کاروباری افراد کو فعال کرنے کے قابل بنائے گی۔
پروجیکٹ
نیشنل ہائی ویز اتھارٹی آف انڈیا (NHAI) کی نگرانی میں عملدرآمد اور DPR پر پیشرفت کے ساتھ، یہ منصوبہ ایک جدید، موثر کوریڈور فراہم کرنے کے راستے پر ہے جو کشمیر کے شہری اور دیہی مراکز کو جوڑے گا۔ NH-444 کشمیر کی ایک متحرک، قابل رسائی خطے میں تبدیلی کا سنگ بنیاد بننے کے لیے تیار ہے۔ایک متعلقہ پیشرفت میں، حکومت نے قاضی گنڈ بائی پاس کی تعمیر کے لیے 95 کروڑ روپے کی منظوری دی ہے، جو اس حصے کو پرانی بانہال-قاضی گنڈ قومی شاہراہ سے جوڑے گا۔ مجوزہ ہائی وے، جو قاضی گنڈ تک پہنچنے سے پہلے بڈگام، پلوامہ، شوپیان اور کولگام کے اضلاع سے گزرتی ہے، کا تصور NH-44 کے تزویراتی متبادل کے طور پر کیا گیا ہے۔ ایک بار مکمل ہونے کے بعد، یہ سڑک کی حفاظت میں اضافہ اور ہموار سفر پیش کرے گا، خاص طور پر سردیوں کے دوران جب موجودہ راستے کو اکثر رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔
۔4بائی پاس
اس شاہراہ پر 4بائی پاس تعمیر کئے جارہے ہیں جن میں سے 2تقریباً مکمل ہوگئے ہیں۔پہلا بائی پاس پلوامہ( (4.75کلومیٹر، شوپیان( (8.95کلومیٹر، اور کولگام ((8.7کلومیٹر اور قاضی گنڈ میںچوتھا بائی پاس بنے گا۔ان میں پہلے سے منظور شدہ تینوں پر کام جاری ہے، جن میں سے پلوامہ اور کولگام کے بائی پاس تقریباً مکمل ہوچکے ہیں۔پلوامہ بائی پاس گڈورہ درسو تک مکمل ہے اور اس پر گاڑیاں چل رہی ہیں۔کولگام بائی پاس پہلو برازلو کے درمیان ہے جس پر برازلو پل کی تعمیر آخری مرحلے میں ہے۔شوپیان بائی پاس پر بھی کام شروع ہوگیا ہے۔اس نئی قومی شاہراہ پر3اہم پل تعمیر کئے جانے ہیں۔ برازلو کولگام پل،جو نالہ ویشو پر تعمیر ہورہا ہے۔شوپیان میں نالہ رمبی آرہ پر 2 لین سٹیل پل کے لیے 71 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔ نالہ رومشی پر گڈورہ کے مقام پر بھی دو لین سٹیل پل کی تعمیر کی جارہی ہے۔
لاگت
یہ پروجیکٹ 3ہزار کروڑ کے اس منصوبے کا حصہ ہے جس میں وادی کشمیر میں قومی شاہرائوں کی کشادگی، نئی ٹنلوں کی تعمیر، نئے فلائی اوور اور نئی سڑکیں شامل ہیں۔اس پروجیکٹ میں کولگام میں برازلو برج سیکشن تقریبا ً56 کروڑ کاہے، جو مارچ 2026میں تیار ہوگا۔شوپیان بائی پاس پروجیکٹ کا بجٹ تقریباً 224.44 کروڑ ہے۔شاہراہ کے مختلف حصوں کے لیے لاگت کا تخمینہ پہلے 110 کروڑ لگایا گیا تھا لیکن بعد میں اسکی نئے سرے سے سروے کی گئی۔دیگر منظور شدہ کاموں میںپلوامہ میں 2 لین والا پل 8 کروڑ اور شوپیان میں رمبی آرہ پل 71 کرو ڑ سے تعمیر ہونگے۔
تعمیراتی سرگرمی
قاضی گنڈ سے کولگام اور کولگام سے شوپیان تک نئی قومی شاہراہ پر کام ہنفامی نوعیت کے طور پر ہورہا ہے۔ نئی شاہراہ کیلئے اراضی حاصل کر کے روڑ کی تعمیر کی جارہی ہے اور بہت ساری جگہوں پر میکڈم بھی بچھایا گیا ہے۔اس سٹرچ پر سب سے زیادہ تعمیراتی سرگرمی نظر آرہی ہے۔اسکے علاوہ پلوامہ بائی پاس پر اس طرح کی سرگرمی دکھائی دیتی ہے۔ لیکن شوپیان سے پلوامہ اور پلوامہ سے چاڑورہ یا چاڑورہ سے ہمہامہ تک کسی بھی قسم کی سرگرمی کا کہیں دور تک بھی پتہ نہیں چل رہا ہے۔اس نئی شاہراہ کو کئی سیکشنوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلا سیکشن برزلہ پل سے ہمہامہ، دوسرا ہمہامہ سے اوم پورہ بڈگام، پھر اوم پورہ بڈگام سے چاڑورہ، اسکے بعد چاڑورہ سے نیوہ پلوامہ، نیوہ پلوامہ سے شوپیان، شوپیان سے کولگام اور آخر میں کولگام سے قاضی گنڈ۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس نئی قومی شاہراہ کو تعمیر کرنے کیلئے 3سال کی مدت رکھی گئی ہے۔