زاہد بشیر
گول//گول سب ڈویژن میں آوارہ کتوں کی بڑھتی ہوئی دہشت نے عوام کو شدید خوف و ہراس میں مبتلا کر دیا ہے۔ گول سمیت ملحقہ علاقوں داڑم، سلبلہ ، موئلہ ، جمن ، پرتمولہ ، سنگلدان و دیگر علاقوں میں آوارہ کتوں کے حملوں کے واقعات میں مسلسل اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے، جس کے باعث نہ صرف مویشیوں کا نقصان ہو رہا ہے بلکہ کئی افراد بھی ان کتوں کا نشانہ بن چکے ہیں۔ مقامی لوگوں کے مطابق گزشتہ چند دنوں کے دوران متعدد بھیڑ بکریوں اور دیگر مویشیوں کو آوارہ کتوں نے ہلاک کر دیا، جس سے غریب اور متوسط طبقے کے لوگوں کو مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔علاقہ کے مکینوں کا کہنا ہے کہ آوارہ کتوں کے غول صبح اور شام کے اوقات میں ہر جگہ پر علاقوں میں آزادانہ گھومتے پھرتے ہیں، جس کی وجہ سے خواتین، بزرگ اور بچے گھروں سے نکلنے میں خوف محسوس کر رہے ہیں۔ کئی مقامات پر لوگوں کو کتوں نے کاٹ بھی لیا، تاہم خوش قسمتی سے اب تک کوئی جانی نقصان پیش نہیں آیا۔
عوام کا کہنا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کئے گئے تو مستقبل میں کوئی بڑا حادثہ بھی پیش آ سکتا ہے۔سب سے زیادہ تشویش سکولی بچوں کے حوالے سے پائی جا رہی ہے۔ والدین کے مطابق بچے اکیلے سکول جانے سے کتراتے ہیں اور خوف کی وجہ سے اکثر والدین خود اپنے بچوں کو سکول چھوڑنے اور واپس لانے پر مجبور ہیں۔ بعض والدین نے بتایا کہ صبح کے وقت کتوں کے غول سکولوں کے اطراف میں گھومتے رہتے ہیں جس سے بچوں میں شدید خوف پایا جاتا ہے۔مقامی لوگوں نے انتظامیہ، میونسپل کمیٹی اور محکمہ پشوپالن سے فوری مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ آوارہ کتوں کی بڑھتی تعداد پر قابو پانے کے لئے ہنگامی اقدامات کئے جائیں۔ عوام نے مطالبہ کیا کہ متاثرہ علاقوں میں خصوصی ٹیمیں روانہ کر کے کتوں کو پکڑا جائے اور لوگوں کو اس خطرے سے محفوظ بنایا جائے تاکہ شہری سکھ کا سانس لے سکیں۔سماجی کارکنوں اور مقامی معززین نے بھی انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ مسئلے کو سنجیدگی سے لیا جائے کیونکہ آوارہ کتوں کی وجہ سے عوامی زندگی بری طرح متاثر ہو رہی ہے اور لوگ مسلسل خوف کے ماحول میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔