پرویز احمد
سرینگر // نیشنل فیملی ہیلتھ سروے 5کے اعداد و شمار کے مطابق جموں و کشمیرکی کل شرح پیدائش (TFR) گر کر 1.4 ہو گئی ہے، جو کہ 2.1 کی قومی سطح سے نمایاں طور پر نیچے ہے۔ اس تیزی سے زوال کی وجہ بڑھتی ہوئی بانجھ پن، شادیوں میں تاخیر، طرز زندگی، اور بہتر تعلیم/بیداری ہے، جس سے جموں و کشمیر کو ہندوستان میں سب سے کم شرح پیدائش میں کمی والے خطوں میں شامل کیا گیا ہے۔جموں و کشمیر میں پچھلے 5سال کے دوران پیدائش کی شرح میں 0.2فیصد کمی درج کی گئی ہے۔ سال 2019-20میں مرکزی زیر انتظام علاقے میں شرح پیدائش 1.6فیصد تھی جو اب 0.2فیصد کی کمی کے ساتھ 1.4فیصد تک سمٹ گئی ہے۔ نیشنل فیملی ہیلتھ سروے(5) کے مطابق جموں و کشمیر میں بچوں کی پیدائش ملکی شرح سے بھی کم ہوکر 1.4تک پہنچ گئی ہے۔ سال 2015-16میں یہ شرح 1.6فیصد تھی۔ 1.4 فیصدکے پیدائش میں گراوٹ کے ساتھ، جموں و کشمیر کی شرح چنڈی گڑھ اور لکش دیپ کے مقابلے جیسی ہے۔
یہ ہندوستان میں سب سے کم ہے۔ شرح پیدائش 1980 میں 4.5 سے گر کر 2020 تک 1.44 ہوگئی ہے، جو ملک میں سب سے تیزی سے کمی کی نشاندہی کرتی ہے۔بچوں کی شرح پیدا ئشدیہی علاقوں میں 1.5 اور شہری علاقوں میں 1.2 ہے ۔شرح پیدا ئش میں تشویشناک حد تک کمی کے بنیادی وجوہات میں تاخیر سے شادی یا شادی میں عمر میں اضافہ نمایاں طور پر کردار ادا کررہا ہے۔ طرز زندگی اور ناقص غذائی عادات بانجھ پن میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں۔ مانع حمل ادویات تک رسائی میں اضافہ اور بچوں کی صحت میں بہتری بڑے خاندانوں کی ضرورت کو کم کرتی ہے۔اس میںاقتصادی عوامل بھی کار فرما ہیں۔بے روزگاری (تقریبا 30%) اور زندگی گزارنے کیلئے معقول آمدنی کے ذرائع بھی اس کے عوامل میں شامل ہے۔خطہ میں سکڑتی ہوئی کم عمر آبادی اور بوڑھوں کی بڑھتی ہوئی آبادی، سے مستقبل میں آبادیاتی چیلنجز پیدا ہو رہے ہیں۔ بچیوں میں خاص کر زیادہ تعلیم کا حصول یا سرکاری نوکری حاصل کرنے کی کوششیں شادی میں تاخیر کے عوامل ہیں جو آگے چل کر بچوں کی کم پیدائش کا موجب بنتے ہیں۔
جنسی شرح میں بہتری
تازہ اعداد و شمار جموں و کشمیر میںجنسی شرح میں بہتری کا اشارہ دے رہے ہیں اور ان کے مطابق جموں و کشمیر میں پچھلے5سال کے دوران ہزار مردوں کے مقابلے میں خواتین کی تعداد بڑھ کر 976تک پہنچ گئی ہے۔ ماہر امراض زچگی ڈاکٹر افشان کا کہنا ہے کہ کشمیر میں پیدائش کی شرح کم ہونے کی بڑی وجہ سماجی بدعات کی وجہ سے شادی میں تاخیر، طرز زندگی میں تبدیلی اور نوجوان لڑکیوں کی جانب سے کیرئیر کو ترجیح دینا اور جسمانی سرگرمیوں میں کمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ غریب والدین سماجی بدعات کی وجہ سے اپنی بیٹیوں کی شادی وقت پر نہیں کرپاتے جبکہ اعلیٰ تعلیم یافتہ گھرانوں کی لڑکیوں کی شادیاں بھی تاخیر سے ہوتی ہیں کیونکہ وہ کیئریئر بنانے کی فکر میں رہتی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ جس طرح عام بیماریاں انسان کو متاثر کرتی ہیں ، اسی طرح جنسی صحت بھی متاثر ہوتی ہے اور یہ صرف لڑکیوں کیلئے نہیں بلکہ لڑکوں میں بھی پریشانی کا سبب بن جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لڑکیوں کیلئے شادی کی بہترین عمر 25سے 30سال کے درمیان ہوتی ہے اور 30سال کے بعد مختلف مسائل کی وجہ سے لڑکیاں بچوں کو جنم نہیں دے پاتی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ 30سال کی عمر پار کرنے کے بعد لڑکیوں میں ہارمونوں کا نظام بگڑ جاتا ہے اور خواتین ذہنی تنائو ، ماہواری کے مسائل اور دیگر بیماریوں کی وجہ سے بچوں کو جنم نہیں دے پاتیں۔