عشرت حسین بٹ
پونچھ //ضلع پونچھ کے ایک غمزدہ خاندان کی کہانی آج بھی ہر سننے والے کی آنکھیں نم کر دیتی ہے۔ ایک برس قبل سات مئی کو آپریشن سندور کے دوران سرحد پار سے ہونے والی شدید گولہ باری میں بارہ سالہ جڑواں بہن بھائی، زین اور زویا، ہمیشہ کے لیے اس دنیا سے رخصت ہو گئے تھے۔ اس اندوہناک واقعے کو ایک سال مکمل ہو چکا ہے، مگر ان کے والدین آج بھی اسی کرب اور صدمے میں زندگی گزار رہے ہیں۔زین اور زویا کے والدین کے لیے وقت جیسے تھم سا گیا ہے۔ ان کے گھر کا صحن، جہاں دونوں بچوں کو سپرد خاک کیا گیا، اب ان کی یادوں کا مرکز بن چکا ہے۔ والدین دن میں کئی بار ان قبروں کے پاس جا کر بیٹھتے ہیں، ان سے باتیں کرتے ہیں اور یوں محسوس کرتے ہیں جیسے ان کے بچے اب بھی ان کے آس پاس موجود ہوں۔بچوں کی والدہ عروسہ بیگم نے اشکبار آنکھوں کے ساتھ بتایا کہ ان کے دل میں اپنے بچوں کے لیے بے شمار خواب اور ارمان تھے، جو ایک لمحے میں چکنا چور ہو گئے۔
انہوں نے کہا کہ زین اور زویا نہ صرف جڑواں تھے بلکہ ایک دوسرے کے بہت قریب بھی تھے۔ ہر سال 25 اپریل کو ان کی سالگرہ نہایت خوشی اور جوش و خروش کے ساتھ منائی جاتی تھی، مگر گزشتہ برس بچوں نے خود ہی کہا تھا کہ اس بار وہ اپنی سالگرہ سادگی سے منائیں گے۔عروسہ کے مطابق دونوں بچوں کا سب سے بڑا خواب یہ تھا کہ وہ اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے ڈاکٹر بنیں اور معاشرے کے لیے کچھ کریں۔ مگر سات مئی کی صبح آنے والی گولہ باری نے ان کے تمام خواب خاک میں ملا دیے۔ انہوں نے کہا کہ اس دن کی یادیں آج بھی ان کے دل کو چیر کر رکھ دیتی ہیں اور وہ شاید زندگی بھر اس صدمے سے باہر نہ آ سکیں۔بچوں کے والد رمیز خان، جو اس واقعے میں خود بھی شدید زخمی ہوئے تھے، آج بھی اس حادثے کو یاد کر کے جذبات پر قابو نہیں رکھ پاتے۔ انہوں نے بتایا کہ جب گولہ باری ہوئی تو وہ خود بھی زخمی ہو گئے تھے اور انہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا۔ اس دوران انہیں اس بات کا علم نہیں تھا کہ ان کے دونوں بچے شہید ہو چکے ہیں۔رمیز خان نے کہا کہ جب انہیں یہ خبر ملی تو ایسا لگا جیسے ان پر قیامت ٹوٹ پڑی ہو۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی وہ اپنے بچوں کی معصوم باتیں، ان کی ہنسی اور شرارتیں یاد کر کے بے اختیار رو پڑتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ ان کے جسمانی زخم وقت کے ساتھ بھر گئے ہیں، مگر دل کے زخم آج بھی تازہ ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ ان کا دایاں ہاتھ آج بھی مکمل طور پر کام نہیں کرتا، جو اس واقعے کی ایک مستقل یاد دہانی ہے۔ جب بچوں کی یاد شدت اختیار کر لیتی ہے تو وہ صحن میں بنی قبروں کے پاس جا کر بیٹھ جاتے ہیں اور اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔یہ افسوسناک واقعہ نہ صرف ایک خاندان کے لیے ناقابلِ تلافی نقصان ہے بلکہ سرحدی علاقوں میں رہنے والے ان تمام لوگوں کی زندگی کی تلخ حقیقت بھی بیان کرتا ہے، جو آئے روز ایسے خطرات اور سانحات کا سامنا کرتے ہیں۔ زین اور زویا کی یادیں آج بھی زندہ ہیں، اور ان کے والدین کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گی۔